صحيح البخاري
كتاب الصوم— کتاب: روزے کے مسائل کا بیان
بَابُ بَرَكَةِ السَّحُورِ مِنْ غَيْرِ إِيجَابٍ: باب: سحری کھانا مستحب ہے واجب نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاصَلَ ، فَوَاصَلَ النَّاسُ ، فَشَقَّ عَلَيْهِمْ ، فَنَهَاهُمْ ، قَالُوا : إِنَّكَ تُوَاصِلُ ، قَالَ : " لَسْتُ كَهَيْئَتِكُمْ ، إِنِّي أَظَلُّ أُطْعَمُ وَأُسْقَى " .´ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے جویریہ نے ، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ” صوم وصال “ رکھا تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے بھی رکھا لیکن صحابہ رضی اللہ عنہم کے لیے دشواری ہو گئی ۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرما دیا ، صحابہ رضی اللہ عنہم نے اس پر عرض کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صوم وصال رکھتے ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہاری طرح نہیں ہوں ۔ میں تو برابر کھلایا اور پلایا جاتا ہوں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
امام بخاری کا منشاء یہ ہے کہ سحری کھانا سنت ہے، مستحب ہے مگر واجب نہیں ہے کیوں کہ صوم وصال میں صحابہ ؓ نے بھی بہرحال سحری کو ترک کر دیا تھا، لہٰذاباب کا مقصد ثابت ہوا۔
(1)
صوم وصال، متواتر کئی دن سحری و افطاری کے بغیر روزہ رکھنے کو کہتے ہیں۔
بعض اوقات رسول اللہ ﷺ نے اس انداز سے روزے رکھے ہیں لیکن مشقت کے پیش نظر صحابۂ کرام ؓ کو اس سے منع فرمایا بلکہ سحری کھانے کا حکم دیا تاکہ اس سے قوت پیدا ہو۔
(2)
امام بخاری ؒ کا مقصد یہ ہے کہ سحری کھانا مستحب ہے مگر واجب نہیں کیونکہ صوم وصال میں صحابۂ کرام ؓ نے سحری کو ترک کیا تھا۔
اس سے امام بخاری نے عنوان ثابت کیا ہے۔
(3)
ابن منیر نے امام بخاری ؒ کا عنوان اس طرح ثابت کیا ہے کہ وصال کی نہی تحریم کے لیے نہیں بلکہ بطور خیرخواہی ہے اور جب صوم وصال کی نہی کراہت کے لیے ہے تو اس کی ضد میں استحباب ہو گا کیونکہ اگر سحری واجب ہوتی تو وصال ثابت نہ ہوتا، ایسے حالات میں وصال ترک سحور کو مستلزم ہے۔
(فتح الباري: 179/4) (4)
کھانے پینے سے مراد روحانی غذا ہے کہ آپ کو بھوک کا احساس نہیں ہوتا تھا یا پھر اللہ کھلا دیتا ہے جیسے اس کی شان کے لائق ہے۔
بہرحال اس سے دنیا کا کھانا مراد نہیں ہے۔
(عمدةالقاري: 68/8)
وصال: کھائے پیے بغیر، یعنی بلا افطار، کئی دن تک مسلسل روزہ رکھنا۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صوم وصال (مسلسل روزے رکھنے) سے منع فرمایا ہے، لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ تو مسلسل روزے رکھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” میں تمہاری طرح نہیں ہوں، مجھے تو کھلایا پلایا جاتا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2360]
(1) بغیر افطار کیے کئی کئی روز مسلسل روزے رکھنا وصال کہلاتا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو اس طرح روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔
(2) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی جو خصوصیت بیان فرمائی ہے اس میں امت میں سے کوئی بھی آپ کا شریک و سہیم نہیں ہے۔
جو زاہد اور صوفیا قسم کے لوگ بغیر افطار مسلسل روزے رکھتے ہیں، ان کا عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے سراسر خلاف ہے۔
«. . . 209- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن الوصال، فقالوا: يا رسول الله فإنك تواصل، فقال: ”إني لست كهيئتكم، إني أطعم وأسقي.“ . . .»
”. . . سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وصال کے روزے رکھنے سے منع فرمایا تو لوگوں نے پوچھا: یا رسو ل اللہ! آپ تو خود وصال کے روزے رکھتے ہیں؟ آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہارے جیسا نہیں ہوں، مجھے (وصال کے روزوں کے دوران میں) کھلایا اور پلایا جاتا ہے . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 259]
تفقه:
➊ وصال کے روزے سے مراد یہ ہے کہ شام کو افطار کرنے کے بعد سحری نہ کھائی جائے بلکہ اگلے دن شام تک روزہ رکھ کر غروب آفتاب کے ساتھ افطار کیا جائے۔ اس طرح یہ چوبیس گھنٹے کا روزہ بن جاتا ہے۔
➋ امت پر شفقت اور رحمت کی وجہ سے وصال کا روزہ ممنوع قرار دیا گیا ہے۔
➌ بشر ہونے کے باوجود امتی اور نبی برابر نہیں ہیں۔
➍ روزے کی حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وصال کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے خاص طور پر کھلایا پلایا جاتا تھا جبکہ اُمتیوں کے لئے ایسا نہیں ہے۔
➎ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بھوک کی شکایت کی اور اپنے پیٹوں پر (بھوک کی تکلیف سے بچنے کے لئے) ایک ایک پتھر بندھا ہوا دکھایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو پتھر (بندھے ہوئے) دکھائے۔ [سنن الترمذي: 2371 وسنده حسن لذاته]
◈ یہ روایت حسن لذاتہ یعنی حجت ہے۔ معلوم ہوا کہ اللہ کی طرف سے اپنے رسول کو کھلانا پلانا وصال کے روزوں کے ساتھ خاص ہے ورنہ آپ دوسرے ایام میں بھوک بھی برداشت کرتے تھے۔ [نيز ديكهئے ح344]