صحيح البخاري
كتاب الصوم— کتاب: روزے کے مسائل کا بیان
بَابُ الرَّيَّانُ لِلصَّائِمِينَ: باب: روزہ داروں کے لیے ریان (نامی ایک دروازہ جنت میں بنایا گیا ہے اس کی تفصیل کا بیان)۔
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ بَابًا ، يُقَالُ لَهُ : الرَّيَّانُ ، يَدْخُلُ مِنْهُ الصَّائِمُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، لَا يَدْخُلُ مِنْهُ أَحَدٌ غَيْرُهُمْ ، يُقَالُ : أَيْنَ الصَّائِمُونَ ؟ فَيَقُومُونَ ، لَا يَدْخُلُ مِنْهُ أَحَدٌ غَيْرُهُمْ ، فَإِذَا دَخَلُوا أُغْلِقَ ، فَلَمْ يَدْخُلْ مِنْهُ أَحَدٌ " .´ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا ، کہا ہم سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے ابوحازم سلمہ ابن دینار نے بیان کیا اور ان سے سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، جنت کا ایک دروازہ ہے جسے ریان کہتے ہیں قیامت کے دن اس دروازہ سے صرف روزہ دار ہی جنت میں داخل ہوں گے ، ان کے سوا اور کوئی اس میں سے نہیں داخل ہو گا ، پکارا جائے گا کہ روزہ دار کہاں ہیں ؟ وہ کھڑے ہو جائیں گے ان کے سوا اس سے اور کوئی نہیں اندر جانے پائے گا اور جب یہ لوگ اندر چلے جائیں گے تو یہ دروازہ بند کر دیا جائے گا پھر اس سے کوئی اندر نہ جا سکے گا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
و جعلنا اللّٰہ منهم آمین
(1)
ريان کے معنی سیرابی کے ہیں۔
چونکہ روزہ دار دنیا میں اللہ کے لیے بھوک اور پیاس برداشت کرتے ہیں، اس لیے انہیں بڑے اعزاز و احترام کے ساتھ اس سیرابی کے دروازے سے گزارا جائے گا اور وہاں سے گزرتے وقت انہیں ایسا مشروب پلایا جائے گا کہ اس کے بعد کبھی پیاس محسوس نہیں ہو گی، چنانچہ حدیث میں ہے کہ جو اس دروازے سے داخل ہو گا اسے مشروب پلایا جائے گا اور جو انسان اسے نوش کرے گا اسے کبھی پیاس نہیں لگے گی۔
(2)
صحیح مسلم کی ایک روایت میں ہے: جو انسان اچھی طرح وضو کرے اور دعا پڑھے تو اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھل جاتے ہیں، وہ جنت کے جس دروازے سے چاہے داخل ہو جائے۔
(صحیح مسلم، الطھارة، حدیث: 553(234)
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ "باب ریان" روزہ داروں کے لیے خاص نہیں۔
اس کا جواب یہ ہے کہ وضو کرنے والا انسان باب الریان سے گزرنے کا ارادہ ہی نہیں کرے گا۔
(عمدةالقاري: 16/8)
1۔
ریان اس دروازے کا نام اس لیے رکھا گیا ہے کہ روزے داروں نے دنیا میں پیاس برداشت کی ہوگی۔
جب وہ باب ریان سے گزر کر جنت میں داخل ہوں گے اور جنت کی نہر سے پانی نوش کریں گے تو انھیں ایسی سیرابی حاصل ہوگی کہ پھر انھیں پیاس محسوس نہیں ہو گی۔
بہر حال جنت کے آٹھ دروازے متعدد احادیث میں بیان ہوئے ہیں یہ تمام دروازے لوگوں کے اعمال کے مطابق منقسم ہیں جو کوئی بکثرت نمازیں پڑھتا ہوگا وہ باب الصلاۃ سے گزرے گا اور جو کوئی کثرت سے جہاد کرتا ہوگا اسے باب الجہاد سے جنت میں جانے کی دعوت دی جائے گی۔
(عمدة القاري: 612/10)
2۔
جنت کے دروازوں کا وصف احادیث میں اس طرح آیا ہے کہ اس کے دونوں کواڑ ایک دوسرے سے چالیس سال کی مسافت پر ہوں گے۔
(فتح الباري: 396/6)
اس میں سب سے زیادہ نمایاں اور غالب پہلو سیرابی ہے اس مناسبت سے جنت میں روزہ داروں کے لیے جو دروازہ داخلہ کے لیے مخصوص کیا گیا ہے اس کا نام ریان (پورا پورا اور بھر پور سیراب)
ہو گا۔
سہل بن سعد رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جنت میں ایک دروازہ ہے جسے ریان کہا جاتا ہے۔ روزہ رکھنے والوں ۱؎ کو اس کی طرف بلایا جائے گا، تو جو روزہ رکھنے والوں میں سے ہو گا اس میں داخل ہو جائے گا اور جو اس میں داخل ہو گیا، وہ کبھی پیاسا نہیں ہو گا۔“ [سنن ترمذي/كتاب الصيام/حدیث: 765]
1؎:
روزہ رکھنے والوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو فرض روزوں کے ساتھ نفلی روزے بھی کثرت سے رکھتے ہوں، ورنہ رمضان کے فرض روزے تو ہر مسلمان کے لیے ضروری ہیں، اس خصوصی فضیلت کے مستحق وہی لوگ ہوں گے جو فرض کے ساتھ بکثرت نفلی روزوں کا اہتمام کرتے ہوں۔
سہل بن سعد ساعدی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” روزہ دار کے لیے جنت میں ایک دروازہ ہے جسے ریان کہا جاتا ہے، روزہ دار کے سوا کوئی اور اس دروازے سے داخل نہیں ہو گا، اور جب آخری روزہ دار دروازہ کے اندر پہنچ جائے گا تو دروازہ بند کر دیا جائے گا، جو وہاں پہنچ جائے گا وہ پئے گا اور جو پئے گا، وہ پھر کبھی پیاسا نہ ہو گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2238]
(2) مخصوص دروازہ روزے داروں کو امتیاز عطا کرنے کے لیے ہے، جیسے مہمان خصوصی کے داخلے کے لیے دروازہ مخصوص کر دیا جاتا ہے۔
(3) ”ریان“ معنیٰ ہیں: سیرابی والا دروازہ۔ گویا اس دروازے سے داخل ہوتے ہی سیرابی حاصل ہوگی، چاہے دخول سے یا پینے سے۔ جبکہ باقی دروازوں کے ذریعے داخل ہونے والوں کو جنت کے اندر پانی ملے گا۔
(4) ”کبھی پیاسا نہ ہوگا۔“ بعد میں پانی پینا لذت کے لیے ہوگا نہ کہ پیاس دور کرنے کے لیے۔ ان کی یہ فضیلت، اس لیے ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے پیاسے رہے۔ روزے میں پیاس ہی زیادہ محسوس ہوتی ہے۔
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جنت میں ایک دروازہ ہے جسے ریان کہا جاتا ہے، قیامت کے دن پکارا جائے گا، کہا جائے گا روزہ دار کہاں ہیں؟ تو جو روزہ داروں میں سے ہو گا وہ اس دروازے سے داخل ہو گا اور جو اس میں داخل ہو گا وہ کبھی پیاسا نہ ہو گا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1640]
فوائد و مسائل:
(1)
جنت کے آٹھ دروازے ہیں۔
جو مختلف نیکیوں کی طرف منسوب ہیں۔
مثلاً باب الصلاۃ (نماز کا دروازہ)
باب الجہاد (جہاد کادروازہ)
باب الصدقۃ (صدقہ کا دروازہ)
دیکھئے: (صحیح البخاري، الصوم، باب الریان للصائمین، حدیث: 1897)
(2)
ایک شخص جس نیکی کو زیادہ اہمیت دیتا ہے۔
اور اس کی ادایئگی کی زیادہ کوشش کرتا ہے۔
وہ اس نیکی سے منسوب دروازے سے جنت میں داخل ہوگا۔
اگر زیادہ صفات کا حامل ہو۔
تو ایک سے زیادہ دروازوں سے بلا یا جائے گا۔
مثلاً حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو آٹھوں دروازوں سے بلایا جائے گا۔ (صحیح البخاري، الصوم، باب الریان للصائمین، حدیث: 18973)
۔
ریان کا مطلب سیراب ہے۔
روزہ دار بھوک پیاس برداشت کرتا ہے۔
اور پیاس کا برداشت کرنا بھوک کی نسبت مشکل ہوتا ہے اس لئے روزہ داروں کےلئے جو دروازے مقرر ہے اسے بھی سیرابی کا دروازہ قرار دیا گیا ہے۔
(4)
فرض عبادات کی ادایئگی کے ساتھ ساتھ مسنون نفلی عبادات بھی ممکن حد تک ادا کرتے رہنا چاہیے۔
نفلی عبادات کا اہتمام جنت میں داخلے کا باعث ہے۔