حدیث نمبر: 1879
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَدْخُلُ الْمَدِينَةَ رُعْبُ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ لَهَا يَوْمَئِذٍ سَبْعَةُ أَبْوَابٍ ، عَلَى كُلِّ بَابٍ مَلَكَانِ " .
مولانا داود راز

´ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد نے ، ان سے ان کے دادا نے اور ان سے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مدینہ پر دجال کا رعب بھی نہیں پڑے گا اس دور میں مدینہ کے سات دروازے ہوں گے اور ہر دروازے پر دو فرشتے ہوں گے ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب فضائل المدينة / حدیث: 1879
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 7125 | صحيح البخاري: 7126

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
1879. حضرت ابو بکرہ ؓ سے روایت ہے وہ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’مدینہ طیبہ میں دجال کا رعب وخوف داخل نہیں ہوگا۔ اس وقت مدینہ طیبہ کے سات دروازے ہوں گے۔ ہر دروازے پر دو فرشتے پہرہ دیں گے۔ ‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:1879]
حدیث حاشیہ: یہ پیشین گوئی حرف بہ حرف صحیح ہوئی کہ زمانہ نبوی میں نہ مدینہ کی فصیل تھی نہ اس میں دروازے۔
اب فصیل بھی بن گئی ہے اور سات دروازے بھی ہیں پیش گوئی کا حصہ آئندہ بھی صحیح ثابت ہوگا حکومت سعودیہ خلدھا اللہ تعالیٰ نے اس پاک شہر کو جو رونق اور ترقی دی ہے وہ اپنی مثال آپ ہے اللہ پاک اس حکومت کو ہمیشہ قائم رکھے آمین۔
حال ہی میں زیارت مدینہ سے مشرف ہو کر یہ چند حروف لکھ رہا ہوں۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1879 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 7125 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
7125. سیدنا ابو بکرہ ؓ سے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: اہل مدینہ پر دجال کا رعب نہیں پڑے گا۔ اس وقت (مدینہ طیبہ کے) سات دروازے ہوں گے۔ ہر دروازے پر دو فرشتے مقرر ہوں گے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:7125]
حدیث حاشیہ: لفظ دجال دجل سے ہے جس کے معنی جھگڑا فساد برپا کرنے والے، لوگوں کو فریب دھوکہ میں ڈالنے والے کے ہیں۔
بڑا دجال آخر زمانے میں پیدا ہوگا اور چھوٹے چھوٹے دجال بکثرت ہر وقت پیدا ہوتے رہیں گے جو غلط مسائل کے لیے قرآن کو استعمال کرکے لوگوں کو بے دین کریں گے، قبر پرست وغیرہ بناتے رہیں گے۔
اس قسم کے دجال آج کل بھی بہت ہیں۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7125 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 7126 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
7126. سیدنا ابو بکرہ ؓ سے روایت ہے۔ وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: مدینہ طیبہ پر مسیح دجال کا رعب نہیں پڑے گا۔ اس وقت اس کے سات دروازے ہوں گے۔ ہر دروازے پر دو فرشتے مقرر ہوں گے۔ ابراہیم بن عبدالرحمن کہتے ہیں: میں بصرے آیا تو مجھ سے ابو بکرہ ؓ نے کہا: میں نے نبی ﷺ سے یہ حدیث سنی ہے-[صحيح بخاري، حديث نمبر:7126]
حدیث حاشیہ: اس سند کے لانے سے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی غرض یہ ہے کہ ابراہیم بن عبدالرحمن بن عوف کا سماع ابوبکرہ سے ثابت ہو جائے کیوں کہ بعض محدثین نے ابرہیم کی روایت ابوبکرہ سے منکر سمجھی ہے۔
اس لیے کہ ابراہیم مدنی ہیں اور ابوبکرہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ سے اپنی وفات تک بصرہ میں رہے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیش گوئی بالکل صحیح ثابت ہوئی۔
ایک روایت میں ہے کہ دجال دور سے آپ کا روضہ مبارک دیکھ کر کہے گا۔
اخاہ محمد کا یہی سفید محل ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7126 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 7126 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
7126. سیدنا ابو بکرہ ؓ سے روایت ہے۔ وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: مدینہ طیبہ پر مسیح دجال کا رعب نہیں پڑے گا۔ اس وقت اس کے سات دروازے ہوں گے۔ ہر دروازے پر دو فرشتے مقرر ہوں گے۔ ابراہیم بن عبدالرحمن کہتے ہیں: میں بصرے آیا تو مجھ سے ابو بکرہ ؓ نے کہا: میں نے نبی ﷺ سے یہ حدیث سنی ہے-[صحيح بخاري، حديث نمبر:7126]
حدیث حاشیہ:

حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ایک لمبی حدیث میں ہے کہ ایک ویران جزیرے میں سے پاؤں تک زنجیروں میں سخت ترین جکڑے ہوئے انسان نے کہا: میں مسیح دجال ہوں۔
عنقریب مجھے نکلنے کی اجازت دی جائے گی تو مدینے اور مکے کے علاوہ ہربستی کا چکر لگاؤں گا۔
جن میں ان دونوں میں سے کسی کی طرف جانے کا ارادہ کروں گا۔
تو تلوار سونتے ہوئے ایک فرشتہ میرے سامنے ہو گا۔
جو مجھے ان میں داخل ہونے سے روکے گا۔
نیز ان کے تمام راستوں پر فرشتے ہوں گے جو ان کی حفاظت کریں گے۔
(صحیح مسلم، الفتن، حدیث: 7386(2942)
ایک روایت میں ہے کہ دجال نکلے گا اور اُحد پہاڑپر چڑھ کر مدینہ طیبہ کی طرف دیکھے گا۔
اور اپنے ساتھیوں سے کہے گا۔
کیا تم یہ سفید محل دیکھ رہے ہو؟ یہ احمد (صلی اللہ علیہ وسلم)
کی مسجد ہے پھر وہ مدینے کی طرف آئے گا تو اس کے پر راستے پر تلوار سونتے ہوئے فرشتے کو پائے گا۔
(مسند أحمد: 338/4)
بہر حال حرمین شریفین میں دجال کا داخلہ ممنوع ہو گا۔
واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7126 سے ماخوذ ہے۔