صحيح البخاري
كتاب العمرة— کتاب: عمرہ کے مسائل کا بیان
بَابُ مَنْ أَسْرَعَ نَاقَتَهُ إِذَا بَلَغَ الْمَدِينَةَ: باب: جس نے مدینہ طیبہ کے قریب پہنچ کر اپنی سواری تیز کر دی (تاکہ جلد سے جلد اس پاک شہر میں داخلہ نصیب ہو)۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ فَأَبْصَرَ دَرَجَاتِ الْمَدِينَةِ أَوْضَعَ نَاقَتَهُ ، وَإِنْ كَانَتْ دَابَّةً حَرَّكَهَا " , قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ : زَادَ الْحَارِثُ بْنُ عُمَيْرٍ ، عَنْ حُمَيْدٍحَرَّكَهَا مِنْ حُبِّهَا ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ جُدُرَاتِ : تَابَعَهُ الْحَارِثُ بْنُ عُمَيْرٍ .´ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا ، کہا کہ ہم کو محمد بن جعفر نے خبر دی ، کہا کہ مجھے حمید طویل نے خبر دی انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ آپ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ` جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے مدینہ واپس ہوتے اور مدینہ کے بالائی علاقوں پر نظر پڑتی تو اپنی اونٹنی کو تیز کر دیتے ، کوئی دوسرا جانور ہوتا تو اسے بھی ایڑ لگاتے ۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) نے کہا کہ حارث بن عمیر نے حمید سے یہ لفظ زیادہ کئے ہیں کہ ” مدینہ سے محبت کی وجہ سے سواری تیز کر دیتے تھے ۔ “ ہم سے قتیبہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا ، ان سے حمید طویل نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے ، انہوں نے ( درجات کے بجائے ) «جدرات» کہا ، اس کی متابعت حارث بن عمیر نے کی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
الغرض وطن سے محبت ایک قدرتی بات ہے اور اسلام میں یہ مذموم نہیں ہے مشہور مقولہ ہے ”حب الوطن من الإیمان“ وطنی محبت بھی ایمان میں داخل ہے۔
”جدرات“ یعنی مدینہ کے گھروں کی دیواروں پر نظر پڑتی تو آپ ﷺ سواری تیز فرما دیتے تھے۔
بعض روایتوں میں ”دوحات“ کا لفظ آیا ہے یعنی مدینہ کے درخت نظر آنے لگتے تو آپ ﷺ اپنے وطن کی محبت میں سواری تیز کردیتے۔
آپ حج کے یا جہاد وغیرہ کے جس سفر سے بھی لوٹتے اسی طرح اظہار محبت فرمایا کرتے تھے۔
(1)
جس روایت میں درجات المدينة کے بجائے جدرات المدينة ہے اس کے معنی مدینہ کی عمارتیں ہیں۔
جب رسول اللہ ﷺ کو مدینہ طیبہ کی عمارتیں اور مکانات نظر آتے تو فراوانئ شوق کی وجہ سے اپنی سواری کو تیز کر دیتے، اس سے مدینہ طیبہ کی فضیلت ظاہر ہوتی ہے، نیز اس سے وطن کی محبت اور اس سے تعلق خاطر (دلی لگاؤ)
کی مشروعیت بھی ثابت ہوتی ہے۔
(2)
انسان جہاں پیدا ہوتا ہے اس جگہ سے محبت ایک فطری امر ہے۔
اسلام میں یہ محبت مذموم نہیں، البتہ اس کے متعلق یہ حدیث بالکل بے اصل ہے کہ وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے۔
(فتح الباري: 783/3)
جدرات المدینہ والی روایت خود امام بخاری ؒ نے متصل سند سے بیان کی ہے۔
(صحیح البخاري، فضائل المدینة، حدیث: 1886)
اسی طرح حارث بن عمیر کی متابعت کو امام احمد نے موصولا بیان کیا ہے۔
(مسندأحمد: 159/3)
مسلمانوں کی تاریخ بتاتی ہے کہ وہ اپنے پیارے رسول رسول اللہ ﷺ کی اقتداءمیں جس ملک میں بھی گئے۔
اسی کے باشندے ہو گئے اوراس ملک میں اپنی مساعی سے چار چاند لگا دیئے اور ہمیشہ کے لیے اسی ملک کو اپنا وطن بنا لیا۔
ایسے صدہا نمونے آج بھی موجود ہیں۔
(1)
رسول اللہ ﷺ کی اس دعا کا نتیجہ ہے کہ وہاں کھانے پینے کی ایک ہی چیز سے ایسی سیرابی حاصل ہوتی ہے کہ دوسرے شہروں میں اس طرح کی دو تین چیزیں کھانے سے بھی نہیں ہوتی۔
(2)
اگر سوال ہو کہ اس دعا کے تقاضے کے مطابق مدینہ طیبہ (مسجد نبوی)
میں نماز کا ثواب بھی مکہ مکرمہ (مسجد حرام)
میں نماز کے ثواب سے دوگنا ہونا چاہیے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس سے مراد دنیا کی برکت ہے جیسا کہ صاع اور مد کی برکت سے مراد دنیا کی برکت ہے یا اس برکت سے خارجی دلیل کی وجہ سے نماز کو خاص کر لیا گیا ہے۔
عثمان بن عمر کی متابعت کو کتاب علل حدیث الزھری میں متصل سند سے بیان کیا گیا ہے۔
(فتح الباري: 127/4)
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر سے واپس لوٹتے اور مدینہ کی دیواریں دکھائی دینے لگتیں تو آپ اپنی اونٹنی (سواری) کو (اپنے وطن) مدینہ کی محبت میں تیز دوڑاتے ۱؎ اور اگر اپنی اونٹنی کے علاوہ کسی اور سواری پر ہوتے تو اسے بھی تیز بھگاتے۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3441]
وضاحت:
1؎:
یہ محبت ’’مدینہ‘‘کے ساتھ خاص بھی ہو سکتی ہے، نیز یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہر انسان کو اپنے وطن (گھر)سے محبت ہوتی ہے، تو اس محبت کی وجہ سے کوئی بھی انسان اپنے گھر جلد پہنچنے کی چاہت میں اسی طرح جلدی کرے جس طرح نبی اکرمﷺاپنے گھر پہنچنے کے لیے کرتے تھے (بہرحال یہ سنت عادت ہو گی، نہ کہ سنت عبادت)