حدیث نمبر: 1777
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " مَا اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَجَبٍ " .
مولانا داود راز

´ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا ، کہا ہم کو ابن جریج نے خبر دی ، کہا کہ مجھے عطاء بن ابی رباح نے خبر دی ، ان سے عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجب میں کوئی عمرہ نہیں کیا تھا ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب العمرة / حدیث: 1777
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 936

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 936 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´رجب کے عمرے کا بیان۔`
عروہ کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی الله عنہما سے پوچھا گیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کس مہینے میں عمرہ کیا تھا؟ تو انہوں نے کہا: رجب میں، اس پر عائشہ رضی الله عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بھی عمرہ کیا، اس میں وہ یعنی ابن عمر آپ کے ساتھ تھے، آپ نے رجب کے مہینے میں کبھی بھی عمرہ نہیں کیا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 936]
اردو حاشہ: 1؎: مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ ابن عمرعائشہ رضی اللہ عنہا کی یہ بات سن کر خاموش رہے، کچھ نہیں بولے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ معاملہ ان پرمشتبہ تھا، یا تو وہ بھول گئے تھے، یا انہیں شک ہوگیا تھا، اسی وجہ سے ام المومنین کی بات کا انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا، اس سلسلہ میں صحیح بات ام المومنین کی ہے کہ نبی اکرمﷺ نے رجب میں کوئی عمرہ نہیں کیا۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 936 سے ماخوذ ہے۔