صحيح البخاري
كتاب الحج— کتاب: حج کے مسائل کا بیان
بَابُ الإِدْلاَجِ مِنَ الْمُحَصَّبِ: باب: (آرام کر لینے کے بعد) وادی محصب سے آخری رات میں چل دینا۔
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " حَاضَتْ صَفِيَّةُ لَيْلَةَ النَّفْرِ ، فَقَالَتْ : مَا أُرَانِي إِلَّا حَابِسَتَكُمْ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عَقْرَى حَلْقَى ، أَطَافَتْ يَوْمَ النَّحْرِ ؟ قِيلَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَانْفِرِي " ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ : وَزَادَنِي مُحَمَّدٌ .´ہم سے عمرو بن حفص نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا ، ان سے اعمش نے بیان کیا ، ان سے ابراہیم نخعی نے بیان کیا ، ان سے اسود نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ` مکہ سے روانگی کی رات صفیہ رضی اللہ عنہا حائضہ تھیں ، انہوں نے کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے میں ان لوگوں کے روکنے کا باعث بن جاؤں گی ، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «عقرى حلقى» کیا تو نے قربانی کے دن طواف الزیارۃ کیا تھا ؟ اس نے کہا کہ جی ہاں کر لیا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر چلو ۔