صحيح البخاري
كتاب الحج— کتاب: حج کے مسائل کا بیان
بَابُ التِّجَارَةِ أَيَّامَ الْمَوْسِمِ وَالْبَيْعِ فِي أَسْوَاقِ الْجَاهِلِيَّةِ: باب: زمانہ حج میں تجارت کرنا اور جاہلیت کے بازاروں میں خرید و فروخت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1770
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْهَيْثَمِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ , قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا : " كَانَ ذُو الْمَجَازِ وَعُكَاظٌ مَتْجَرَ النَّاسِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَلَمَّا جَاءَ الْإِسْلَامُ كَأَنَّهُمْ كَرِهُوا ذَلِكَ , حَتَّى نَزَلَتْ : لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلا مِنْ رَبِّكُمْ سورة البقرة آية 198 فِي مَوَاسِمِ الْحَجِّ " .مولانا داود راز
´ہم سے عثمان بن ہیثم نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم کو ابن جریج نے خبر دی ، ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` ذوالمجاز اور عکاظ عہد جاہلیت کے بازار تھے جب اسلام آیا تو گویا لوگوں نے ( جاہلیت کے ان بازاروں میں ) خرید و فروخت کو برا خیال کیا اس پر ( سورۃ البقرہ کی ) یہ آیت نازل ہوئی ” تمہارے لیے کوئی حرج نہیں اگر تم اپنے رب کے فضل کی تلاش کرو ، یہ حج کے زمانہ کے لیے تھا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا داود راز
1770. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ ذوالمجاز اور عکاز دور جاہلیت میں لوگوں کی منڈیاں تھیں۔ جب اسلام آیا تو لوگوں نے وہاں خریدوفروخت کرنے کو اچھا خیال نہ کیا تاآنکہ یہ آیت کریمہ نازل ہوئی:’’تمہارے لیے کوئی حرج نہیں ہے کہ حج کے زمانے میں اپنے رب کا فضل تلاش کرو۔ ‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:1770]
حدیث حاشیہ: جاہلیت کے زمانہ میں چار منڈیاں مشہور تھیں عکاظ، ذو المجاز، مجنہ اور حباشہ، اسلام کے بعد بس حج کے دنوں میں ان منڈیوں میں خرید و فروخت اور تجارت جائز رہی۔
اللہ نے خود قرآن شریف میں اس کا جواز اتارا ہے کہ تجارت کے ذریعہ نفع حاصل کرنے کو اپنا فضل قرار دیا۔
جیسا کہ آیت مذکورہ سے واضح ہے۔
تجارت کرنا اسلاف کا بہترین شغل تھا۔
جس کے ذریعہ وہ اطراف عالم میں پہنچے، مگر افسوس کہ اب مسلمانوں نے اس سے توجہ ہٹالی جس کا نتیجہ افلاس و ذلت کی شکل میں ظاہر ہے۔
اللہ نے خود قرآن شریف میں اس کا جواز اتارا ہے کہ تجارت کے ذریعہ نفع حاصل کرنے کو اپنا فضل قرار دیا۔
جیسا کہ آیت مذکورہ سے واضح ہے۔
تجارت کرنا اسلاف کا بہترین شغل تھا۔
جس کے ذریعہ وہ اطراف عالم میں پہنچے، مگر افسوس کہ اب مسلمانوں نے اس سے توجہ ہٹالی جس کا نتیجہ افلاس و ذلت کی شکل میں ظاہر ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1770 سے ماخوذ ہے۔
✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
1770. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ ذوالمجاز اور عکاز دور جاہلیت میں لوگوں کی منڈیاں تھیں۔ جب اسلام آیا تو لوگوں نے وہاں خریدوفروخت کرنے کو اچھا خیال نہ کیا تاآنکہ یہ آیت کریمہ نازل ہوئی:’’تمہارے لیے کوئی حرج نہیں ہے کہ حج کے زمانے میں اپنے رب کا فضل تلاش کرو۔ ‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:1770]
حدیث حاشیہ:
(1)
جاہلیت کے زمانے میں چار منڈیاں بہت مشہور تھیں: ٭ ذوالمجاز: میدان عرفہ سے ایک میل کے فاصلے پر بازار لگایا جاتا تھا۔
٭ مجنہ: مکہ کے نشیب میں مر الظہران کے پاس اس کا اہتمام ہوتا تھا۔
٭ عُکاظ: نخلہ اور طائف کے درمیان فتق مقام پر یہ منڈی لگتی تھی۔
٭ حباشہ: مکہ سے یمن کے طرف دیار بارق میں یہ بازار لگتا تھا۔
چونکہ ذوالمجاز اور عکاظ حج کے دنوں میں لگائے جاتے تھے، اس لیے حدیث میں ان کا بیان ہوا ہے۔
لوگ ان دنوں خریدوفروخت ناپسند کرتے تھے کیونکہ یہ دن ذکر الٰہی کے لیے مخصوص ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے حدیث میں مذکورہ آیت کے ذریعے سے ان دنوں خریدفروخت اور تجارت کو جائز قرار دیا ہے۔
(فتح الباري: 749/3۔
750) (2)
حدیث کے آخر میں جس آیت کا ذکر کیا گیا ہے وہ مذکورہ الفاظ سے شاذ قراءت ہے جو ابن عباس ؓ سے منقول ہے، البتہ قراءت متواتر میں (في مواسم الحج)
کے الفاظ نہیں ہیں اور یہی بات راجح ہے۔
(1)
جاہلیت کے زمانے میں چار منڈیاں بہت مشہور تھیں: ٭ ذوالمجاز: میدان عرفہ سے ایک میل کے فاصلے پر بازار لگایا جاتا تھا۔
٭ مجنہ: مکہ کے نشیب میں مر الظہران کے پاس اس کا اہتمام ہوتا تھا۔
٭ عُکاظ: نخلہ اور طائف کے درمیان فتق مقام پر یہ منڈی لگتی تھی۔
٭ حباشہ: مکہ سے یمن کے طرف دیار بارق میں یہ بازار لگتا تھا۔
چونکہ ذوالمجاز اور عکاظ حج کے دنوں میں لگائے جاتے تھے، اس لیے حدیث میں ان کا بیان ہوا ہے۔
لوگ ان دنوں خریدوفروخت ناپسند کرتے تھے کیونکہ یہ دن ذکر الٰہی کے لیے مخصوص ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے حدیث میں مذکورہ آیت کے ذریعے سے ان دنوں خریدفروخت اور تجارت کو جائز قرار دیا ہے۔
(فتح الباري: 749/3۔
750) (2)
حدیث کے آخر میں جس آیت کا ذکر کیا گیا ہے وہ مذکورہ الفاظ سے شاذ قراءت ہے جو ابن عباس ؓ سے منقول ہے، البتہ قراءت متواتر میں (في مواسم الحج)
کے الفاظ نہیں ہیں اور یہی بات راجح ہے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1770 سے ماخوذ ہے۔