صحيح البخاري
كتاب الحج— کتاب: حج کے مسائل کا بیان
بَابُ مَنْ قَدَّمَ ضَعَفَةَ أَهْلِهِ بِلَيْلٍ، فَيَقِفُونَ بِالْمُزْدَلِفَةِ وَيَدْعُونَ وَيُقَدِّمُ إِذَا غَابَ الْقَمَرُ: باب: عورتوں اور بچوں کو مزدلفہ کی رات میں آگے منی روانہ کر دینا، وہ مزدلفہ میں ٹھہریں اور دعا کریں اور چاند ڈوبتے ہی چل دیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا أَفْلَحُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " نَزَلْنَا الْمُزْدَلِفَةَ ، فَاسْتَأْذَنَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَوْدَةُ أَنْ تَدْفَعَ قَبْلَ حَطْمَةِ النَّاسِ ، وَكَانَتِ امْرَأَةً بَطِيئَةً فَأَذِنَ لَهَا فَدَفَعَتْ قَبْلَ حَطْمَةِ النَّاسِ ، وَأَقَمْنَا حَتَّى أَصْبَحْنَا نَحْنُ ، ثُمَّ دَفَعْنَا بِدَفْعِهِ فَلَأَنْ أَكُونَ اسْتَأْذَنْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا اسْتَأْذَنَتْ سَوْدَةُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ مَفْرُوحٍ بِهِ " .´ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے افلح بن حمید نے ، ان سے قاسم بن محمد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ` جب ہم نے مزدلفہ میں قیام کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سودہ رضی اللہ عنہا کو لوگوں کے اژدہام سے پہلے روانہ ہونے کی اجازت دے دی تھیں ، وہ بھاری بھر کم بدن کی خاتون تھیں ، اس لیے آپ نے اجازت دے دی چنانچہ وہ اژدہام سے پہلے روانہ ہو گئیں ۔ لیکن ہم وہیں ٹھہرے رہے اور صبح کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گئے اگر میں بھی سودہ رضی اللہ عنہا کی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لیتی تو مجھ کو تمام خوشی کی چیزوں میں یہ بہت ہی پسند ہوتا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
کمزور لوگوں سے مراد بچے،عورتیں، بوڑھے اور بیمار افراد ہیں۔
ان کے لیے اجازت ہے کہ جب چاند غروب ہو جائے تو وہ منیٰ آ جائیں تاکہ ہجوم کی زحمت سے محفوظ رہیں اور طلوع شمس سے پہلے پہلے رمی کر لیں جیسا کہ حضرت اسماء ؓ کے عمل سے واضح ہوتا ہے۔
انہیں رسول اللہ ﷺ نے اجازت دی تھی جیسا کہ ان کا اپنا بیان ہے۔
(2)
بہرحال دسویں کی رات مزدلفہ میں گزارنا ضروری ہے، البتہ بچوں، عورتوں اور کمزور لوگوں کو اجازت ہے کہ وہ تھوڑی دیر مزدلفہ میں قیام کر کے منیٰ روانہ ہو جائیں اور لوگوں کے ہجوم سے پہلے پہلے کنکریاں مار کر فارغ ہو جائیں۔
اگرچہ بعض حضرات کا موقف ہے کہ ایسے ناتواں لوگ بھی طلوع آفتاب کے بعد کنکریاں ماریں، تاہم حضرت اسماء ؓ کی روایت میں صراحت کے ساتھ اجازت موجود ہے۔
اس کے علاوہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عباس ؓ سے فرمایا تھا کہ تم ہمارے کمزور افراد اور عورتوں کے ہمراہ جاؤ او نماز صبح منیٰ میں پڑھو، پھر لوگوں کے ہجوم سے پہلے پہلے کنکریاں مار کر فارغ ہو جاؤ، نیز حضرت عائشہ ؓ نے بھی اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ کاش! میں نماز فجر منیٰ میں پڑھتی اور لوگوں کے ہجوم سے پہلے پہلے رمی کر لیتی۔
(فتح الباري: 668/3،669)
شافعی رحمۃ اللہ علیہ۔
احمد رحمۃ اللہ علیہ۔
اسحاق رحمۃ اللہ علیہ وغیرہم کے نزدیک مزدلفہ میں ٹھہرنا واجب ہے، یعنی اگر رہ جائے تو ایک جانور کی قربانی ضروری ہے امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک یہ سنت ہے اس لیے رہ جائے تو قربانی ضروری نہیں ہے علقمہ۔
نخعی۔
شعبی اور ابن خذیمہ کے نزدیک یہ حج کارکن ہے۔
اس کے بغیر حج نہیں ہوگا یہ وقوف مشعر حرام کے پاس بہتر ہے اور وادی محسر کے سوا وقوف مزدلفہ کے پورے میدان میں ہو سکتا ہے بہتر ہے قیام پوری رات کیا جائے اورصبح کی نماز کے بعد جب خوب روشنی پھیل جائے تو سورج نکلنے سے پہلے منی کو روانہ ہو جائے۔
البتہ عورتوں بچوں اور بوڑھے مردوں کے لیے صبح کی نماز سے پہلے رات کا تہائی حصہ گزرنے کے بعد روانگی کی اجازت ہے۔
باقی افراد کے لیے کتنی دیر ٹھہرنا واجب ہے اس میں اختلاف ہے امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ اور احمد رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک آ دھی رات تک ٹھہرنا واجب ہے۔
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک کچھ وقت ٹھہرنا واجب اگرمزدلفہ میں رات کو گزارا، لیکن وقوف نہ کیا تو اس پر دم ہے۔
(المغنی لابن قدامہ ج5 ص285۔
) (فتح الربانی کے مصنف نے امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک وقوف کو سنت قرار دیا ہے)
اور صاحب ہدایہ نے وقوف مزدلفہ کو امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک رکن قرار دیا ہے اس طرح ائمہ کے مسالک نقل کرنے میں مصنفین کے درمیان اختلاف موجود ہے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین سودہ رضی اللہ عنہا کو مزدلفہ سے فجر ہونے سے پہلے لوٹ جانے کی اجازت دی، اس لیے کہ وہ ایک بھاری بدن کی سست رفتار عورت تھیں۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3040]
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ مجھے خواہش ہوئی کہ میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کرتی جس طرح سودہ رضی اللہ عنہا نے اجازت طلب کی تھی۔ اور لوگوں کے آنے سے پہلے میں بھی منیٰ میں نماز فجر پڑھتی، سودہ رضی اللہ عنہا بھاری بدن کی سست رفتار عورت تھیں، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (پہلے ہی لوٹ جانے کی) اجازت مانگی۔ تو آپ نے انہیں اجازت دے دی، تو انہوں نے فجر منیٰ میں پڑھی [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3052]
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک بیوی کو حکم دیا کہ وہ مزدلفہ کی رات ہی میں مزدلفہ سے کوچ کر جائیں، اور جمرہ عقبہ کے پاس آ کر اس کی رمی کر لیں، اور اپنے ٹھکانے پر پہنچ کر صبح کریں۔ اور عطا اپنی وفات تک ایسے ہی کرتے رہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3068]
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے مزدلفہ کی رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے واپس آ جائیں (یہ اجازت انہوں نے اس لئے طلب کی) کہ بھاری جسم والی تھیں۔ (اس وجہ سے آہستہ آہستہ اور ٹھہر ٹھہر کر چلتی تھیں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اجازت دے دی۔ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 621]
بیماری اور جسمانی کمزوری کے علاوہ بھاری بھر کم جسم بھی معذوری میں شامل ہے۔ ایسے حاجی کو بھی مزدلفہ میں پوری رات گزارے بغیر منیٰ کی طرف جانے کی رخصت و اجازت ہے۔
وضاحت: حضرت سودہ بنت زمعہ بن عبد شمس قرشیہ عامریہ رضی اللہ عنہا، امہات المؤمنین میں سے ہیں۔ مکہ مکرمہ ہی میں ابتدائی دور میں اسلام قبول کیا اور اپنے خاوند کے ساتھ دوسری ہجرت میں شریک ہوئیں۔ ان کا خاوند وہاں فوت ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح کر لیا اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے بعد اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے نکاح سے پہلے مکہ میں ان کے ساتھ وظیفہء زوجیت ادا کیا اور 55 ہجری میں ان کا انتقال ہوا۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو قربانی والی رات پہلے بھیج دیا تھا۔ انہوں نے فجر کے طلوع ہونے سے پہلے کنکریاں ماریں پھر جا کر طواف افاضہ کیا۔ اسے ابوداؤد نے روایت کیا اس کی سند مسلم کی شرط پر ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 623]
➊ فجر سے پہلے رمی کی یہ رعایت صرف عورتوں کے لیے اور ان کمزوروں کے لیے ہے جو ان کے ہمراہ جائیں۔
➋ مذکورہ حدیث سے یہ دلیل پکڑنا صحیح نہیں کہ اس وقت ان مذکورہ بالا حضرات کے علاوہ دوسروں کے لیے بھی کنکریاں مارنا جائز ہے۔
➌ یہ حدیث پہلی حدیث سے سند کے اعتبار سے راجح ہے، اس لیے دونوں میں کوئی تعارض نہیں۔