صحيح البخاري
كتاب الحج— کتاب: حج کے مسائل کا بیان
بَابُ مَنْ قَدَّمَ ضَعَفَةَ أَهْلِهِ بِلَيْلٍ، فَيَقِفُونَ بِالْمُزْدَلِفَةِ وَيَدْعُونَ وَيُقَدِّمُ إِذَا غَابَ الْقَمَرُ: باب: عورتوں اور بچوں کو مزدلفہ کی رات میں آگے منی روانہ کر دینا، وہ مزدلفہ میں ٹھہریں اور دعا کریں اور چاند ڈوبتے ہی چل دیں۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ مَوْلَى أَسْمَاءَ ، عَنْ أَسْمَاءَ ، أَنَّهَا نَزَلَتْ لَيْلَةَ جَمْعٍ عِنْدَ الْمُزْدَلِفَةِ , فَقَامَتْ تُصَلِّي ، فَصَلَّتْ سَاعَةً ، ثُمَّ قَالَتْ : يَا بُنَيَّ ، هَلْ غَابَ الْقَمَرُ ؟ قُلْتُ : لَا ، فَصَلَّتْ سَاعَةً ، ثُمَّ قَالَتْ : يَا بُنَيَّ ، هَلْ غَابَ الْقَمَرُ ؟ قُلْت : نَعَمْ ، قَالَتْ : فَارْتَحِلُوا ، فَارْتَحَلْنَا وَمَضَيْنَا حَتَّى رَمَتِ الْجَمْرَةَ ، ثُمَّ رَجَعَتْ فَصَلَّتِ الصُّبْحَ فِي مَنْزِلِهَا ، فَقُلْتُ لَهَا : يَا هَنْتَاهُ ، مَا أُرَانَا إِلَّا قَدْ غَلَّسْنَا ، قَالَتْ : يَا بُنَيَّ ، " إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَذِنَ لِلظُّعُنِ " .´ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا ، ان سے یحییٰ بن سعید بن قطان نے ، ان سے ابن جریج نے بیان کیا کہ ان سے اسماء کے غلام عبداللہ نے بیان کیا کہ ان سے اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما نے کہ` وہ رات ہی میں مزدلفہ پہنچ گئیں اور کھڑی ہو کر نماز پڑھنے لگیں ، کچھ دیر تک نماز پڑھنے کے بعد پوچھا بیٹے ! کیا چاند ڈوب گیا ؟ میں نے کہا کہ نہیں ، اس لیے وہ دوبارہ نماز پڑھنے لگیں کچھ دیر بعد پھر پوچھا کیا چاند ڈوب گیا ؟ میں نے کہا ہاں ، انہوں نے کہا کہ اب آگے چلو ( منی کو ) چنانچہ ہم ان کے ساتھ آگے چلے ، وہ ( منی میں ) رمی جمرہ کرنے کے بعد پھر واپس آ گئیں اور صبح کی نماز اپنے ڈیرے پر پڑھی میں نے کہا جناب ! یہ کیا بات ہوئی کہ ہم نے اندھیرے ہی میں نماز پڑھ لی ۔ انہوں نے کہا بیٹے ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو اس کی اجازت دی ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
(وحیدی)