حدیث نمبر: 1653
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قُلْتُ : " أَخْبِرْنِي بِشَيْءٍ عَقَلْتَهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَيْنَ صَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ ؟ قَالَ : بِمِنًى ، قُلْتُ : فَأَيْنَ صَلَّى الْعَصْرَ يَوْمَ النَّفْرِ ؟ قَالَ : بِالْأَبْطَحِ , ثُمَّ قَالَ : افْعَلْ كَمَا يَفْعَلُ أُمَرَاؤُكَ " .
مولانا داود راز

´ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے اسحاق ازرق نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے عبدالعزیز بن رفیع کے واسطے سے بیان کیا ، کہا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر اور عصر کی نماز آٹھویں ذی الحجہ میں کہاں پڑھی تھی ؟ اگر آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یاد ہے تو مجھے بتائیے ۔ انہوں نے جواب دیا کہ منیٰ میں ۔ میں نے پوچھا کہ بارہویں تاریخ کو عصر کہاں پڑھی تھی ؟ فرمایا کہ محصب میں ۔ پھر انہوں نے فرمایا کہ جس طرح تمہارے حکام کرتے ہیں اسی طرح تم بھی کرو ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الحج / حدیث: 1653
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
1653. حضرت عبدالعزیز بن رفیع سے روایت ہے، انھوں نے کہا: میں نے حضرت انس بن مالک ؓ سے دریافت کیا کہ آپ مجھے ایک چیز کے متعلق بتائیں جو آپ کو رسول اللہ ﷺ سے اچھی طرح یاد ہو۔ آپ ﷺ نے آٹھویں ذوالحجہ کو ظہر اور عصر کی نمازیں کہاں پڑھی تھیں؟انھوں نے فرمایا: یہ نمازیں منیٰ میں پڑھی تھیں۔ میں نے کہا: کوچ کے دن آپ نے عصر کی نماز کہاں پڑھی تھی؟انھوں نے فرمایا: وادی ابطح میں۔ پھر انہوں نے فرمایا کہ تم وہی کرو جو تمہارے امراء کریں۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:1653]
حدیث حاشیہ:
(1)
سنت یہ ہے کہ آٹھویں ذوالحجہ کو ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور نویں کی نماز فجر منیٰ میں پڑھی جائیں۔
ایسا کرنا مستحب ہے، ضروری نہیں۔
اس استحباب کی آڑ لے کر حکمرانِ وقت اور جماعت کی مخالفت کرنا صحیح نہیں۔
امراء کا اتباع ضروری ہے بشرطیکہ شریعت کے خلاف نہ ہو۔
(2)
مذکورہ روایات سے یہی معلوم ہوتا ہے، جواز کی حد تک اس روز وسعت ہے کہ لوگ جب چاہیں منیٰ جائیں اور جہاں ممکن ہو نمازیں پڑھیں، البتہ مستحب یہ ہے کہ آٹھویں کو ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور نویں کی صبح کی نماز منیٰ میں ادا کی جائے۔
(فتح الباري: 642/3)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1653 سے ماخوذ ہے۔