صحيح البخاري
كتاب الحج— کتاب: حج کے مسائل کا بیان
بَابُ الطَّوَافِ بَعْدَ الصُّبْحِ وَالْعَصْرِ: باب: صبح اور عصر کے بعد طواف کرنا۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُمَرَ الْبَصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ حَبِيبٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، " أَنَّ نَاسًا طَافُوا بالبيت بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ ، ثُمَّ قَعَدُوا إِلَى الْمُذَكِّرِ حَتَّى إِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ قَامُوا يُصَلُّونَ ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا : قَعَدُوا حَتَّى إِذَا كَانَتِ السَّاعَةُ الَّتِي تُكْرَهُ فِيهَا الصَّلَاةُ قَامُوا يُصَلُّونَ " .´ہم سے حسن بن عمر بصریٰ رحمہ اللہ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا ، ان سے حبیب نے ، ان سے عطاء نے ، ان سے عروہ نے ، ان سے ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہ` کچھ لوگوں نے صبح کی نماز کے بعد کعبہ کا طواف کیا ۔ پھر ایک وعظ کرنے والے کے پاس بیٹھ گئے اور جب سورج نکلنے لگا تو وہ لوگ نماز ( طواف کی دو رکعت ) پڑھنے کے لیے کھڑے ہو گئے ۔ اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا نے ( ناگواری کے ساتھ ) فرمایا جب سے تو یہ لوگ بیٹھے تھے اور جب وہ وقت آیا کہ جس میں نماز مکروہ ہے تو نماز کے لیے کھڑے ہو گئے ۔