حدیث نمبر: 1520
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، أَخْبَرَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّهَا قَالَتْ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نَرَى الْجِهَادَ أَفْضَلَ الْعَمَلِ ، أَفَلَا نُجَاهِدُ ؟ ، قَالَ : لَا ، لَكِنَّ أَفْضَلَ الْجِهَادِ حَجٌّ مَبْرُورٌ " .
مولانا داود راز

´ہم سے عبدالرحمٰن بن مبارک نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے خالد بن عبداللہ طحان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہمیں حبیب بن ابی عمرہ نے خبر دی ، انہیں عائشہ بنت طلحہ نے اور انہیں ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ` انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! ہم دیکھتے ہیں کہ جہاد سب نیک کاموں سے بڑھ کر ہے ۔ پھر ہم بھی کیوں نہ جہاد کریں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں بلکہ سب سے افضل جہاد حج ہے جو مبرور ہو ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الحج / حدیث: 1520
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
1520. اُم المنومنین حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے، انھوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول اللہ ﷺ!ہم سمجھتے ہیں کہ جہاد سب نیک اعمال سے بڑھ کر ہے تو کیا ہم جہاد نہ کریں؟آپ ﷺ نے فرمایا: ’’(نہیں) بلکہ (تمھارے لیے) عمدہ جہاد حج مبرورہے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:1520]
حدیث حاشیہ:
مبرور کے معنی مقبول ہیں، اس لیے حج مبرور سے وہ حج مراد ہے جو اللہ کے ہاں شرف قبولیت سے ہمکنار ہو۔
اللہ کے ہاں وہی حج قبول ہوتا ہے جو خالص اللہ کی رضا جوئی کےلیے کیا جائے، اس میں نمود نمائش کا شائبہ تک نہ ہو اور اس دوران میں کسی گناہ کا بھی ارتکاب نہ ہو۔
مگر افسوس کہ آج کی مادی ترقیوں نے انسان کے اخلاق واعمال کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے، بیشتر حجاج کرام حج سے فراغت کے بعد جائزو ناجائز سے بالا تر ایسی ایسی چیزیں خرید لاتے ہیں جو ہمیشہ کےلیے گناہ کی زندگی کا باعث بن جاتی ہیں اور حاجی کے لفظ کو اپنے نام کا لاحقہ بنا کر لوگوں کو خوب لوٹنے کا بہانہ میسر آجاتا ہے۔
العياذ بالله
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1520 سے ماخوذ ہے۔