صحيح البخاري
كتاب الزكاة— کتاب: زکوۃ کے مسائل کا بیان
بَابُ إِذَا تَحَوَّلَتِ الصَّدَقَةُ: باب: جب صدقہ محتاج کی ملکیت ہو جائے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ الْأَنْصَارِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَائِشَة رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، فَقَالَ : هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ ؟ , فَقَالَتْ : لَا ، إِلَّا شَيْءٌ بَعَثَتْ بِهِ إِلَيْنَا نُسَيْبَةُ مِنَ الشَّاةِ الَّتِي بَعَثَتْ بِهَا مِنَ الصَّدَقَةِ ، فَقَالَ : إِنَّهَا قَدْ بَلَغَتْ مَحِلَّهَا " .´ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے خالد حذاء نے بیان کیا ‘ ان سے حفصہ بنت سیرین نے اور ان سے ام عطیہ انصاریہ رضی اللہ عنہا نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے یہاں تشریف لائے اور دریافت فرمایا کہ کیا تمہارے پاس کچھ ہے ؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ نہیں کوئی چیز نہیں ۔ ہاں نسیبہ رضی اللہ عنہا کا بھیجا ہوا اس بکری کا گوشت ہے جو انہیں صدقہ کے طور پر ملی ہے ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لاؤ خیرات تو اپنے ٹھکانے پہنچ گئی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
کیونکہ یہ محتاج آدمی کی ملکیت میں ہوکر اب کسی کو بھی مسکین کی طرف سے دیا جاسکتا ہے۔
(1)
رسول اللہ ﷺ نے حضرت ام عطیہ، یعنی نسیبہ ؓ کو صدقے کی بکری بھیجی تھی، اس نے اس گوشت سے کچھ حضرت عائشہ ؓ کو بطور ہدیہ بھیجا تھا، جب ام عطیہ نے اس صدقے کو قبول کر لیا تو وہ اس کی ملک ہو گیا، اب وہ صدقہ نہ رہا، اس لیے اب رسول اللہ ﷺ کے لیے اس کا استعمال کرنا جائز تھا، اس لیے آپ نے فرمایا کہ وہ تو اپنے مقام پر پہنچ چکا ہے۔
(2)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ صدقہ قبول کرنے والا اگر مرضی سے صدقے کے مال میں سے غنی یا ہاشمی کو کچھ دے تو غنی اور ہاشمی کے لیے اس کا لینا جائز ہے کیونکہ اب وہ صدقے کے مفہوم سے نکل چکا ہے اور اسے خریدنا، فروخت کرنا، کسی کو ہبہ کرنا یا ہدیہ دینا جائز ہے۔
واللہ أعلم