صحيح البخاري
كتاب الزكاة— کتاب: زکوۃ کے مسائل کا بیان
بَابُ لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِ فِي عَبْدِهِ صَدَقَةٌ: باب: مسلمان کو اپنے غلام (لونڈی) کی زکوٰۃ دینی ضروری نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ خُثَيْمِ بْنِ عِرَاكٍ , قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ح حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا خُثَيْمُ بْنُ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِ صَدَقَةٌ فِي عَبْدِهِ وَلَا فِي فَرَسِهِ " .´ہم سے مسدد نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا ، ان سے خثیم بن عراک بن مالک نے ، انہوں نے کہا کہ مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا ، اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ سے ( دوسری سند ) اور ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے خثیم بن عراک بن مالک نے بیان کیا ، انہوں نے اپنے باپ سے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان پر نہ اس کے غلام میں زکوٰۃ فرض ہے اور نہ گھوڑے میں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
مگر ابن مندر نے اس پر اجماع نقل کیا ہے کہ اگر تجارت کے لیے ہوں تو ان میں زکوٰۃ ہے۔
اصل یہ ہے کہ زکوٰۃ ان ہی جنسوں میں لازم ہے جن کا بیان آنحضرت ﷺ نے فرما دیا۔
یعنی چوپایوں میں سے اونٹ‘ گائے‘ اور بیل بکریوں میں اور نقد مال سے سونے چاندی میں اور غلوں میں سے گیہوں اور جو اور جوار اور میووں میں سے کھجور‘ اور سوکھی انگور میں‘ بس ان کے سوا اور کسی مال میں زکوٰۃ نہیں گو وہ تجارت اور سودا گری ہی کے لیے ہو اور ابن منذر نے جو اجماع اس کے خلاف پر نقل کیا ہے وہ صحیح نہیں ہے۔
جب ظاہر یہ اور اہلحدیث اس مسئلہ میں مختلف ہیں تو اجماع کیوں کرہوسکتا ہے۔
اور ابوداؤد کی حدیث اور دار قطنی کی حدیث کہ جس مال کو ہم بیچنے کے لیے رکھیں اس میں آپ ﷺ نے زکوٰۃ کا حکم دیا‘ یا کپڑے میں زکوٰۃ ہے ضعیف ہے۔
حجت کے لیے لائق نہیں۔
اور آیت قرآن ﴿خُذ مِن أَموَالَهِم صَدقَة﴾ میں اموال سے وہی مال مراد ہیں جن کی زکوٰۃ کی تصریح حدیث میں آئی ہے۔
یہ امام شوکانی کی تحقیق ہے اور سید علامہ نے اس کی تائید کی ہے۔
اس بناپر جواہر‘ موتی‘ مونگا‘ یاقوت‘ الماس اور دوسری صدہا اشیائے تجارتی میں جیسے گھوڑے، گاڑیاں، کتابیں، کاغذ میں زکوٰۃ واجب نہ ہوگی۔
مگر چونکہ ائمہ اربعہ اور جمہور علماء اموال تجارتی میں وجوب زکوٰۃ کی طرف گئے ہیں، لہٰذا احتیاط اور تقویٰ یہی ہے کہ ان میں سے زکوٰۃ نکالے۔
(وحیدی)
صحیح مسلم میں ہے کہ غلام میں صدقہ فطر کے علاوہ اور کوئی زکاۃ نہیں۔
(صحیح مسلم، الزکاة، حدیث: 2276(982)
اس کا مطلب یہ ہے کہ صحیح بخاری کی مطلق روایت کو صدقہ فطر کی روایت سے مقید کرنا ہو گا، اسی طرح اگر غلام تجارت کے لیے ہوں اور ان سے حاصل شدہ آمدنی اگر جمع ہو جائے اور سال گزر جائے تو دیگر اموال تجارت کی طرح ان کی بھی زکاۃ دی جائے گی، نیز زکاۃ دیتے وقت ان غلاموں کی بھی قیمت لگا کر آمدنی میں جمع کر کے پھر اڑھائی فیصد کے حساب سے زکاۃ دینی ہو گی۔
واللہ أعلم
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مسلمان پر اس کے غلام اور گھوڑے میں زکاۃ نہیں ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2469]
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مسلمان پر اس کے غلام میں زکاۃ نہیں ہے اور نہ ہی اس کے گھوڑے میں۔“ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2474]
(1)
جو گھوڑے اپنی سواری کے لیے اور غلام خدمت گزاری کے لیے ہوں، ان میں زکاۃ نہیں ہے، البتہ وہ گھوڑے جو بغرض تجارت رکھے ہوں ان کی آمدنی میں زکاۃ دینا ضروری ہے۔
(2)
امام بخاری ؒ نے غالبا اس روایت کی طرف اشارہ کیا ہے جسے حضرت علی ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’میں نے گھوڑوں اور غلاموں سے زکاۃ کو معاف کر دیا ہے لیکن چاندی وغیرہ سے ضرور زکاۃ ادا کرو۔
‘‘(سنن أبي داود، الزکاة، حدیث: 1574) (2)
لیکن اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ گھوڑوں میں اونٹ، گائے اور بکریوں کی طرح ایک خاص شرح سے زکاۃ فرض نہیں، البتہ بغرض تجارت رکھے ہوں تو ان کی آمدنی پر زکاۃ دینی ہو گی، جیسا کہ ابن منذر نے اس پر اجماع نقل کیا ہے۔
(فتح الباري: 412/3)
اگر تجارت کے لیے ہوں تو پھر ظاہریہ کے سوا، سب کے نزدیک ان کی رقم پر صدقہ ہے، امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک گھوڑوں پر زکاۃ ہے اگر نسل کشی کے لیے نر اور مادہ دونوں ہوں، تو ہر ایک پر سالانہ ایک دینار 4/1/2 ماشہ سونا)
ہے۔
اور صرف ایک جنس ہو تو قیمت پر ڈھائی فیصد کے حساب سے زکاۃ دے یا ہر ایک پر ایک دینار یا دس درہم زکاۃ دے۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مسلمان پر نہ اس کے گھوڑوں میں زکاۃ ہے اور نہ ہی اس کے غلاموں میں زکاۃ ہے “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الزكاة/حدیث: 628]
1؎:
اس حدیث کے عموم سے ظاہریہ نے اس بات پر استدلال کیا ہے کہ گھوڑے اورغلام میں مطلقاً زکاۃ واجب نہیں گو وہ تجارت ہی کے لیے کیوں نہ ہوں، لیکن یہ صحیح نہیں ہے، گھوڑے اور غلام اگر تجارت کے لیے ہوں تو ان میں زکاۃ بالاجماع واجب ہے جیسا کہ ابن منذر وغیرہ نے اسے نقل کیا ہے، لہذا اجماع اس کے عموم کے لیے مخصص ہو گا۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” گھوڑے اور غلام یا لونڈی میں زکاۃ نہیں، البتہ غلام یا لونڈی میں صدقہ فطر ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1594]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مسلمان پر اس کے غلام، لونڈی اور گھوڑے میں زکاۃ نہیں ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1595]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مسلمان پر اس کے گھوڑے اور غلام میں زکاۃ نہیں ہے “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزكاة/حدیث: 1812]
فائده:
یہ مسئلہ حدیث: 1790 میں بھی گزر چکا ہے۔
«. . . 299- مالك عن عبد الله بن دينار عن سليمان بن يسار عن عراك بن مالك عن أبى هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ”ليس على المسلم فى عبده ولا فرسه صدقة.“ كمل حديث ابن دينار. . . .»
”. . . سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان پر اس کے غلام اور گھوڑے میں کوئی صدقہ (زکوٰة) نہیں ہے۔“ عبداللہ بن دینار کی بیان کردہ حدیثیں مکمل ہوئیں . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 277]
تفقه:
➊ کسی آدمی کے جتنے بھی گھوڑے یا غلام ہوں، ان پر کوئی زکوٰۃ فرض نہیں ہے۔
➋ گھوڑوں کے سلسلے میں دیکھئے: [الموطأ حديث: 178، 215، والبخاري 2860، 2849، ومسلم 1871/96]
➌ معلوم ہوا کہ زکوٰۃ قت کے حکم سے بعض چیزیں مستثنیٰ ہیں۔
➍ عام کی تخصیص خاص دلیل سے جائز ہے۔
”سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”مسلمان پر نہ اس کے غلام میں زکوٰۃ ہے اور نہ اس کے گھوڑے میں۔“ [بلوغ المرام /كتاب الجنائز/حدیث: 487]
اس حدیث سے ثابت ہوا غلام اور گھوڑے میں زکاۃ نہیں، یعنی جو غلام اپنی خدمت کے لیے اور جو گھوڑا اپنی سواری کے لیے مخصوص ہو ان پر کسی قسم کی زکاۃ نہیں، البتہ اگر برائے تجارت ہوں تو ان پر زکاۃ ہو گی۔
جمہور علماء اور اکثر فقہاء کا یہی موقف ہے۔ گھوڑوں پر زکاۃ کی مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: [سنن ابوداود، الزكاة، باب فى زكاة السائمة، حديث: 1574۔ طبع دارالسلام، لاهور]
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ غلام اور گھوڑے پر زکاۃ نہیں ہے، اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے یہ بھی ثابت ہوا کہ ذاتی گاڑی اور ذاتی رہائش وغیرہ پر بھی زکاۃ نہیں ہے لیکن اگر ایسے گھوڑے ہیں جو کرائے پر استعمال ہوتے ہیں یا گھوڑوں کی خرید و فروخت کی جاتی ہے، اسی طرح گھر اور گاڑیاں کرائے کے لیے ہیں یا ان کی خرید و فروخت کی جاتی ہے، تب ان کی آمدنی پر زکاۃ ہے، اگر وہ نصاب کو پہنچ جائے۔