صحيح البخاري
كتاب الزكاة— کتاب: زکوۃ کے مسائل کا بیان
بَابُ الصَّدَقَةِ فِيمَا اسْتَطَاعَ: باب: جہاں تک ہو سکے خیرات کرنا۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ , قَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّهَا جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ : " لَا تُوعِي فَيُوعِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ ، ارْضَخِي مَا اسْتَطَعْتِ " .´ہم سے ابوعاصم ( ابوعاصم ضحاک ) نے بیان کیا اور ان سے ابن جریج نے بیان کیا ۔ ( دوسری سند ) اور مجھ سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا ‘ ان سے حجاج بن محمد نے بیان کیا اور انہوں نے کہا کہ ہم سے ابن جریج نے بیان کیا کہ مجھے ابن ابی ملیکہ نے خبر دی ‘ انہیں عباد بن عبداللہ بن زبیر نے اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما سے خبر دی کہ` وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں آئیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ( مال کو ) تھیلی میں بند کر کے نہ رکھنا ورنہ اللہ پاک بھی تمہارے لیے اپنے خزانے میں بندش لگا دے گا ۔ جہاں تک ہو سکے لوگوں میں خیر خیرات تقسیم کرتی رہ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
چونکہ حضرت اسماء بنت ابی بکر ؓ کے پاس اپنا ذاتی مال نہیں ہوتا تھا، اس لیے انہیں کہا گیا کہ حضرت زبیر ؓ کے مال سے جو کچھ میسر ہو خرچ کرتی رہا کرو۔
ایسا کرنے سے اللہ کی طرف سے رحمت کا نزول ہوتا ہے۔
لفظ إيعاء کے معنی روک لینا ہیں۔
(2)
حافظ ابن حجر ؒ نے لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف اس کی نسبت مجازی ہے، حالانکہ ایسا نہیں ہے۔
قرآن و حدیث میں جو صفات اللہ کی طرف منسوب ہیں، انہیں حقیقت پر محمول کرنا چاہیے، لیکن جس طرح اس کی شان کے لائق ہے۔
وہ بندوں کو ان کے کردار کے مطابق جزا دیتا ہے۔
جیسا کہ مکروفریب اور دھوکے کی نسبت بھی اللہ کی طرف کی گئی ہے، اس لیے ایسے الفاظ کو مجاز پر محمول کرنے کی ضرورت نہیں۔
واللہ أعلم۔
اگر خیرات کرے گی، صدقہ دے گی تو اللہ پاک اور زیادہ دے گا۔
اس حدیث سے حضرت امام بخاری ؒ نے یہ نکالا کہ خاوند والی عورت کا ہبہ صحیح ہے۔
کیوں کہ ہبہ اور صدقے کا ایک ہی حکم ہے۔
حضرت اسماء ؓ سیدنا ابوبکر ؓ کی صاجزادی ہیں۔
حضرت زبیر بن عوام ؓ ان کے شوہر نامدار ہیں۔
انہوں نے نبی ﷺ سے پوچھا: میرے پاس تو خاوند کا مال ہوتا ہے، اس سے صدقہ کرنا کیا حیثیت رکھتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’مال شوہر کا سہی لیکن بیوی اس میں سے خرچ کر سکتی ہے۔
صدقہ بھی کر سکتی ہے‘‘ اس سے امام بخاری ؒ نے یہ ثابت کیا ہے کہ خاوند والی عورت کا ہبہ صحیح ہے کیونکہ صدقے اور ہبے کا ایک ہی حکم ہے۔
امام مالک ؒ کا موقف ہے کہ خاوند کی اجازت کے بغیر بیوی کا ہبہ کرنا صحیح نہیں اگرچہ وہ صاحب عقل ہو مگر تہائی مال کی حد تک اسے ہبہ کرنے کی اجازت ہے۔
یہ مقصد بھی نہیں ہے کہ سارا گھر لٹا کے کنگال بن جاؤ۔
یہاں تک فرمایا کہ تم اپنے ورثاء کو غنی چھوڑ کر جاؤ کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ نہ پھیلاتے پھریں۔
لیکن بعض اشخاص کے لیے کچھ استثناء بھی ہوتا ہے، جیسے سیدنا حضرت ابوبکر صدیق ؓ جنہوں نے اپنا تمام ہی اثاثہ فی سبیل اللہ پیش کردیا تھا اور کہا تھا کہ گھر میں صرف اللہ اور اس کے رسول کو چھوڑ کر آیاہوں، باقی سب کچھ لے آیاہوں۔
یہ صدیق اکبر جیسے متوکل اعظم ہی کی شان ہوسکتی ہے، ہر کسی کا یہ مقام نہیں۔
بہر حال اپنی طاقت کے اندر اندر صدقہ خیرات کرنا بہت ہی موجب برکات ہے۔
دوسرا باب اس مضمون کی مزید وضاحت کررہا ہے۔
(1)
رسول اللہ ﷺ نے حضرت اسماء ؓ کو بندش مال سے منع فرمایا ہے جو مال ذخیرہ کرنے کی ایک صورت ہے، گویا آپﷺ نے فرمایا کہ صدقہ کرو، ذخیرہ نہ بناؤ، ذخیرہ بنانے کے لیے کسی مال کو گن گن کر رکھنا احصا ہے۔
اس سے مراد اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرنا ہے۔
ایسا کرنے سے اللہ کی طرف سے اس مال کی برکت اٹھا لی جاتی ہے۔
ایک دوسری روایت میں ہے کہ اسماء ؓ نے دریافت کیا: میرا اپنا تو مال نہیں، میرے پاس وہی مال ہوتا ہے جو میرے شوہر حضرت زبیر ؓ گھر لاتے ہیں، کیا میں اس سے صدقہ کر سکتی ہوں؟ آپﷺ نے فرمایا: ’’ہاں صدقہ کرو، اس پر گرہ لگا کر نہ رکھو ورنہ تم پر بھی بندش کر دی جائے گی۔
‘‘ (صحیح البخاري، الھبة، حدیث: 2590) (2)
اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص بے حساب خیرات کرتا ہے اللہ اسے رزق بھی بے شمار دیتا ہے اور یہ نفلی صدقے کے متعلق ترغیب ہے۔
(1)
اِنْضَحِي: عطا کر، دے دے۔
(2)
اِنفَحِي: عطا کر، دے دے، کیونکہ نَضَحَ اور نَفَحَ دونوں کا معنی عطا کرنا ہے اور نَضَحَ کا معنی انڈیلنا بھی ہوتا ہے تو اس صورت میں معنی ہو گا کشادہ دستی سے لٹا دے۔
رَضَخَ کا معنی ہوتا ہے تھوڑا یا کم دینا کچھ نہ کچھ دینا۔
(3)
لاَ تُحْصِي: شمار نہ کر گن گن کر نہ رکھ۔
مقصد یہ ہے جمع کر کے اور ذخیرہ بنا کر نہ رکھ، ضرورت کی جگہ پر خرچ کر دے۔
(4)
لَا تُوْعِي: وعاء (برتن)
میں ڈال کر نہ رکھ، یعنی جوڑ جوڑ کر اور بند کر کے نہ رکھ۔
(5)
فَيُوْعي اللهُ عَلَيْكَ: اللہ تمہارے ساتھ یہی معاملہ کرے گا۔
یعنی اپنی رحمت و برکت کے دروازے تم پر بند کر دے گا۔
فوائد ومسائل: ان احادیث کا پیغام یہ ہے کہ انسان کے حق میں بہتر یہی ہے کہ جو مال دولت وہ کمائے یا کسی ذریعہ سے اسے حاصل ہو۔
اسے اپنی ضروریات کے لیے کشادہ دستی سے خرچ کرے اور اس فکر میں نہ پڑے کہ میرے پاس کتنا ہے اور اس میں سے فی سبیل اللہ کتنا خرچ کروں اگر انسان حساب کر کے خرچ کرے گا۔
تو اللہ تعالیٰ بھی حساب کر کے دے گا۔
اگر انسان بے حساب دے گا تو اللہ بھی اپنی رحمت کے دروازے بے حساب کھول دے گا۔
اسماء بنت ابوبکر رضی الله عنہما کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے گھر میں صرف زبیر کی کمائی ہے، کیا میں اس میں سے صدقہ و خیرات کروں؟ آپ نے فرمایا: ” ہاں، صدقہ کرو اور گرہ مت لگاؤ ورنہ تمہارے اوپر گرہ لگا دی جائے گی “ ۱؎۔ «لا توكي فيوكى عليك» کا مطلب یہ ہے کہ شمار کر کے صدقہ نہ کرو ورنہ اللہ تعالیٰ بھی شمار کرے گا اور برکت ختم کر دے گا ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة/حدیث: 1960]
وضاحت:
1؎:
بخل نہ کرو ورنہ اللہ تعالیٰ برکت ختم کردے گا۔
2؎:
اس حدیث سے معلوم ہواکہ مال کے ختم ہوجانے کے ڈر سے صدقہ خیرات نہ کرنا منع ہے، کیوں کہ صدقہ وخیرات نہ کرنا ایک اہم سبب ہے جس سے برکت کا سلسلہ بند ہوجاتا ہے، اس لیے کہ رب العالمین خرچ کرنے اور صدقہ دینے پر بے شمار ثواب اور برکت سے نوازتاہے، مگر شوہر کی کمائی میں سے صدقہ اس کی اجازت ہی سے کی جاسکتی ہے جیسا کہ دیگر احادیث میں اس کی صراحت آئی ہے۔
3؎:
یعنی ابن ابی ملیکہ اور اسماء بنت ابی بکر کے درمیان عباد بن عبداللہ بن زبیر کا اضافہ ہے۔
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کہتی ہیں میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے پاس سوائے اس کے کچھ نہیں جو زبیر میرے لیے گھر میں لا دیں، کیا میں اس میں سے دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” دو اور اسے بند کر کے نہ رکھو کہ تمہارا رزق بھی بند کر کے رکھ دیا جائے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1699]
اسماء بنت ابی بکر رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، اور کہنے لگیں: اللہ کے نبی! میرے پاس تو کچھ ہوتا نہیں ہے سوائے اس کے کہ جو زبیر (میرے شوہر) مجھے (کھانے یا خرچ کرنے کے لیے) دے دیتے ہیں، تو کیا اس دیے ہوئے میں سے میں کچھ (فقراء و مساکین کو) دے دوں تو مجھ پر گناہ ہو گا؟ آپ نے فرمایا: ” تم جو کچھ دے سکو دو، اور روکو نہیں کہ اللہ عزوجل بھی تم سے روک لے۔“ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2552]
(2) اس روایت میں عطیات سے مراد وہ چھوٹے چھوٹے عطیات ہیں جن کی عرفاً ہر گھر میں اجازت ہوتی ہے۔ اگر زیادہ مال دینا ہو تو خاوند کی اجازت ضروری ہے کیونکہ وہ مال کا اصل مالک ہے۔ اگرچہ ہر چیز اللہ ہی کی ہے۔
اس کنجوسی سے مراد ہے کہ رزق کو تالے میں رکھنا اور غریبوں پر خرچ نہ کرنا، یہ درست عمل نہیں ہے۔ جو انسان کنجوسی کرے گا، اس پر اللہ تعالیٰ بھی اپنی رحمت کے دروازے بند کر دے گا، لہٰذا سخاوت کی صفت کو اپنانا چاہیے، کیونکہ اس سے اللہ تعالیٰ بھی انسان پر سخاوت کرتا ہے۔