صحيح البخاري
كتاب الزكاة— کتاب: زکوۃ کے مسائل کا بیان
بَابُ اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ: باب: اس بارے میں کہ جہنم کی آگ سے بچو خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے یا کسی معمولی سے صدقہ کے ذریعے ہو۔
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ , قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ , قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , قَالَتْ : " دَخَلَتِ امْرَأَةٌ مَعَهَا ابْنَتَانِ لَهَا تَسْأَلُ ، فَلَمْ تَجِدْ عِنْدِي شَيْئًا غَيْرَ تَمْرَةٍ فَأَعْطَيْتُهَا إِيَّاهَا ، فَقَسَمَتْهَا بَيْنَ ابْنَتَيْهَا وَلَمْ تَأْكُلْ مِنْهَا ثُمَّ قَامَتْ فَخَرَجَتْ ، فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْنَا فَأَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ : مَنِ ابْتُلِيَ مِنْ هَذِهِ الْبَنَاتِ بِشَيْءٍ كُنَّ لَهُ سِتْرًا مِنَ النَّارِ " .´ہم سے بشر بن محمد نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ‘ کہا کہ ہمیں معمر نے زہری سے خبر دی ‘ انہوں نے کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن ابی بکر بن حزم نے بیان کیا ‘ ان سے عروہ بن زبیر نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ` ایک عورت اپنی دو بچیوں کو لیے مانگتی ہوئی آئی ۔ میرے پاس ایک کھجور کے سوا اس وقت اور کچھ نہ تھا میں نے وہی دے دی ۔ وہ ایک کھجور اس نے اپنی دونوں بچیوں میں تقسیم کر دی اور خود نہیں کھائی ۔ پھر وہ اٹھی اور چلی گئی ۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا حال بیان کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے ان بچیوں کی وجہ سے خود کو معمولی سی بھی تکلیف میں ڈالا تو بچیاں اس کے لیے دوزخ سے بچاؤ کے لیے آڑ بن جائیں گی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
میں کہتا ہوں اس تکلف کی حاجت نہیں۔
باب میں دو مضمون تھے ایک تو کھجور کا ٹکڑا دے کر دوزخ سے بچنا‘ دوسرے قلیل صدقہ دینا۔
توعدی کی حدیث سے پہلا مطلب ثابت ہوگیا اور حضرت عائشہ کی حدیث سے دوسرا مطلب۔
انہوں نے بہت قلیل صدقہ دیا یعنی ایک کھجور۔
(وحیدی)
اس سے حضرت عائشہ ؓ کی صدقہ خیرات کے لیے حرص بھی ثابت ہوئی اور یہ اس لیے کہ آنحضرت ﷺ کا ارشاد تھا لا یرجعُ من عندكَ سائل ولوبشقِ تمرة۔
رواہ البزار من حدیث أبي هريرة۔
(فتح)
یعنی تمہارے پاس سے کسی سائل کو خالی ہاتھ نہ جانا چاہیے۔
اگرچہ کھجور کی آدھی پھانک ہی کیوں نہ ہو۔
(1)
اس حدیث کی عنوان سے مطابقت بایں طور ہے کہ اس عورت نے ایک کھجور کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا اور پھر ایک ایک حصہ ہر بیٹی کو دے دیا۔
اور حضرت عائشہ ؓ کا کردار بھی عنوان کے عین مطابق ہے کہ انہیں جو کچھ بھی میسر تھا، اسے اللہ کی راہ میں خرچ کر دیا، نیز مذکورہ فرمان باری تعالیٰ کے بھی مناسب ہے کہ ’’وہ مشقت کی کمائی سے خرچ کرتے ہیں۔
‘‘ (التوبة: 79: 9) (2)
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ سیدہ عائشہ ؓ صدقہ و خیرات دینے میں بہت حریص تھیں، کیونکہ انہیں رسول اللہ ﷺ نے وصیت فرمائی تھی کہ تمہارے پاس اگر کوئی سائل آئے تو اسے خالی ہاتھ واپس نہیں کرنا، اگرچہ اسے کھجور کا کچھ حصہ ہی کیوں نہ دینا پڑے۔
(فتح الباري: 358/3) (3)
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ چھوٹی بچیوں پر خرچ کرنا اور ان کی خبر گیری کرنا ایک ایسا عمل ہے جو جہنم کی آگ سے نجات کا باعث ہے، اس لیے ہمیں اس پہلو پر بھی غور کرنا چاہیے۔
(عمدةالقاري: 382/6)
(1)
بیٹیوں سے اچھا سلوک کرنے کے معنی یہ ہیں کہ ان کی خورونوش اور وغیرہ کا اہتمام کرے۔
ان کی حسب وسعت پوری پوری کفالت کرے، اپنے بیٹوں کو ان پر ترجیح نہ دے، پھر ان کا نکاح کرے اور اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے صحیح انتخاب کرے۔
(2)
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بچیوں کی پرورش کرنا، ان سے محبت وشفقت سے پیش آنا بہت بڑا نیکی کا کام ہے۔
اللہ تعالیٰ ایسے آدمی کو دوزخ سے دور رکھے گا جو اس صنف نازک سے اچھا برتاؤ کرتا اور ان کی ضروریات کا خیال رکھتا ہے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ بیٹیوں کا حق بیٹوں کے حق سےزیادہ مضبوط اور مؤکد ہے کیونکہ وہ کمزور اور صنف نازک ہونے کے باعث روزی کمانے، حسن تصرف اور بلند رائے رکھنے سے قاصر ہوتی ہیں۔
پھر جب وہ بیوہ ہوتی ہیں تو والد کے پاس لوٹ آتی ہیں۔
(فتح الباري: 257/10)
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میرے پاس ایک عورت آئی اور اس کے ساتھ اس کی دو بچیاں تھیں، اس نے (کھانے کے لیے) کوئی چیز مانگی مگر میرے پاس سے ایک کھجور کے سوا اسے کچھ نہیں ملا، چنانچہ اسے میں نے وہی دے دیا، اس عورت نے کھجور کو خود نہ کھا کر اسے اپنی دونوں لڑکیوں کے درمیان بانٹ دیا اور اٹھ کر چلی گئی، پھر میرے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، میں نے آپ سے یہ (واقعہ) بیان کیا تو آپ نے فرمایا: ” جو ان لڑکیوں کی پرورش سے دو چار ہو اس کے لیے یہ سب جہنم سے پردہ ہوں گی “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة/حدیث: 1915]
وضاحت:
1؎:
بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسے تین کھجوریں دی تھیں، دوکھجوریں اس نے ان دونوں بچیوں کو دے دیں اور ایک کھجور خود کھانا چاہتی تھی، لیکن بچیوں کی خواہش پر آدھا آدھا کرکے اسے بھی ان کو دے دیا، جس پر عائشہ رضی اللہ عنہا کو بڑا تعجب ہوا، ان دونوں روایتوں میں تطبیق کی صورت یہ ہے کہ پہلے انہیں ایک کھجور دی، پھر بعد میں جب دوکھجوریں اور مل گئیں تو انہیں بھی اس کے حوالہ کردیا، یا یہ کہا جائے کہ یہ دونوں الگ الگ واقعات ہیں۔