صحيح البخاري
كتاب الجنائز— کتاب: جنازے کے احکام و مسائل
بَابُ مَا قِيلَ فِي أَوْلاَدِ الْمُسْلِمِينَ: باب: مسلمانوں کی نابالغ اولاد کہاں رہے گی؟
حدیث نمبر: 1382
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، أَنَّه سَمِعَ الْبَرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : " لَمَّا تُوُفِّيَ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ لَهُ مُرْضِعًا فِي الْجَنَّةِ " .مولانا داود راز
´ہم سے ابوالولید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے عدی بن ثابت نے بیان کیا ‘ انہوں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ انہوں نے فرمایا کہ` جب ابراہیم ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ) کا انتقال ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بہشت میں ان کے لیے ایک دودھ پلانے والی ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا داود راز
1382. حضرات براء بن عازب ؓ سے روایت ہے،انھوں نےفرمایا:جب (جگر گوشہ رسول ﷺ) حضرت ابراہیم ؑ کی وفات ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’جنت میں اس کے لیے ایک دودھ پلانے والی کو تعینات کردیاگیا ہے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:1382]
حدیث حاشیہ: اس حدیث سے بھی ثابت ہوا کہ مسلمانوں کی اولاد جنت میں داخل ہوگی۔
آنحضرت ﷺ کے صاحبزادے کے لیے اللہ نے مزید فضل یہ فرمایا کہ چونکہ آپ نے حالت رضاعت میں انتقال فرمایا تھا، لہٰذا اللہ پاک نے ان کو دودھ پلانے کے لیے جنت میں ایک انا کو مقرر فرما دیا۔
اللهم صلی علی محمد وعلی آل محمد وبارك وسلم
آنحضرت ﷺ کے صاحبزادے کے لیے اللہ نے مزید فضل یہ فرمایا کہ چونکہ آپ نے حالت رضاعت میں انتقال فرمایا تھا، لہٰذا اللہ پاک نے ان کو دودھ پلانے کے لیے جنت میں ایک انا کو مقرر فرما دیا۔
اللهم صلی علی محمد وعلی آل محمد وبارك وسلم
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1382 سے ماخوذ ہے۔
✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
1382. حضرات براء بن عازب ؓ سے روایت ہے،انھوں نےفرمایا:جب (جگر گوشہ رسول ﷺ) حضرت ابراہیم ؑ کی وفات ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’جنت میں اس کے لیے ایک دودھ پلانے والی کو تعینات کردیاگیا ہے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:1382]
حدیث حاشیہ:
(1)
جگر گوشہ رسول حضرت ابراہیم ؓ شیر خوارگی کی عمر میں فوت ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر ﷺ کی عظمت کے پیش نظر جنت میں ان کے لیے دودھ پلانے والی دایہ کا بندوبست کر دیا۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں کی اولاد جنت میں ہو گی۔
(2)
امام بخاری ؒ کا اس حدیث کو بیان کرنا اس موقف کی نشاندہی کرتا ہے کہ مسلمانوں کی اولاد جنت میں ہو گی۔
گویا آپ کو اس کے متعلق پہلے توقف تھا، پھر آپ نے اس کے متعلق اپنے رجحان کو جزم و وثوق سے بیان کیا۔
(فتح الباري: 311/3) (3)
امام بخاری ؒ نے اس سلسلے میں قیاس سے بھی کام لیا ہے کہ جب بچہ والدین کے لیے آگ سے حجاب بن سکتا ہے تو وہ خود آگ سے محجوب کیوں نہیں ہو سکتا۔
اس سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں کی نابالغ اولاد جنتی ہو گی۔
(1)
جگر گوشہ رسول حضرت ابراہیم ؓ شیر خوارگی کی عمر میں فوت ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر ﷺ کی عظمت کے پیش نظر جنت میں ان کے لیے دودھ پلانے والی دایہ کا بندوبست کر دیا۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں کی اولاد جنت میں ہو گی۔
(2)
امام بخاری ؒ کا اس حدیث کو بیان کرنا اس موقف کی نشاندہی کرتا ہے کہ مسلمانوں کی اولاد جنت میں ہو گی۔
گویا آپ کو اس کے متعلق پہلے توقف تھا، پھر آپ نے اس کے متعلق اپنے رجحان کو جزم و وثوق سے بیان کیا۔
(فتح الباري: 311/3) (3)
امام بخاری ؒ نے اس سلسلے میں قیاس سے بھی کام لیا ہے کہ جب بچہ والدین کے لیے آگ سے حجاب بن سکتا ہے تو وہ خود آگ سے محجوب کیوں نہیں ہو سکتا۔
اس سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں کی نابالغ اولاد جنتی ہو گی۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1382 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6195 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
6195. حضرت براء ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا: جب (رسول اللہ ﷺ کے فرزند) ابراہیم ؓ فوت ہوئے تو آپ نے فرمایا: ”اس کے لیے جنت میں ایک دودھ پلانے والی مقرر ہوگئی ہے۔“[صحيح بخاري، حديث نمبر:6195]
حدیث حاشیہ:
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ حضرات انبیاء علیہم السلام کے نام پر بچوں کے نام رکھے جا سکتے ہیں۔
خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لخت جگر کا نام ''جد اعلیٰ'' حضرت ابراہیم علیہ السلام کے نام پر ابراہیم رکھا تھا۔
حضرت عبداللہ بن سلام کے ہاں بچہ پیدا ہوا تو انہوں نے نام یوسف رکھا تھا اور اسے اپنی گود میں بٹھایا۔
(الأدب المفرد، حدیث: 838)
سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ انہیں انبیاء علیہم السلام کے نام پر نام رکھنے بہت محبوب ہیں۔
(فتح الباري: 709/10)
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ حضرات انبیاء علیہم السلام کے نام پر بچوں کے نام رکھے جا سکتے ہیں۔
خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لخت جگر کا نام ''جد اعلیٰ'' حضرت ابراہیم علیہ السلام کے نام پر ابراہیم رکھا تھا۔
حضرت عبداللہ بن سلام کے ہاں بچہ پیدا ہوا تو انہوں نے نام یوسف رکھا تھا اور اسے اپنی گود میں بٹھایا۔
(الأدب المفرد، حدیث: 838)
سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ انہیں انبیاء علیہم السلام کے نام پر نام رکھنے بہت محبوب ہیں۔
(فتح الباري: 709/10)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6195 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3255 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
3255. (م) حضرت ابوہریرہ ؓسے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’قبیلہ اسلم، غفار اور بعض قبیلے مزینہ اور جہینہ اللہ کے ہاں قیامت کےدن اسد، تمیم، ہوازن اور غطفان سے بہتر ہیں۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:3255]
حدیث حاشیہ:
1۔
ایک روایت میں ہے کہ راوی حدیث اسماعیل نے حضرت ابن ابی اوفیٰ ؓ سے پوچھا: کیا تم نے رسول اللہ ﷺ کے لخت جگر ابراہیم ؓ کو دیکھا تھا؟ تو انھوں نے فرمایا: وہ صغرسنی ہی میں فوت ہو گئے تھے۔
اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ان کا نبی ہونا مقدر ہوتا تو وہ ضرور زندہ رہتے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔
(صحیح البخاري، الأدب، حدیث: 6149)
2۔
امام بخاری ؒ نے جنت کا وصف بیان کیا ہے کہ اگر دنیا میں کوئی بچہ دودھ پینے کی عمر میں فوت ہو جائے تو جنت میں اسے دودھ پلانے کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے جیسا کہ آپ کے بیٹے حضرت ابراہیم ؓکے لیے کیا گیا تھا۔
واللہ أعلم۔
1۔
ایک روایت میں ہے کہ راوی حدیث اسماعیل نے حضرت ابن ابی اوفیٰ ؓ سے پوچھا: کیا تم نے رسول اللہ ﷺ کے لخت جگر ابراہیم ؓ کو دیکھا تھا؟ تو انھوں نے فرمایا: وہ صغرسنی ہی میں فوت ہو گئے تھے۔
اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ان کا نبی ہونا مقدر ہوتا تو وہ ضرور زندہ رہتے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔
(صحیح البخاري، الأدب، حدیث: 6149)
2۔
امام بخاری ؒ نے جنت کا وصف بیان کیا ہے کہ اگر دنیا میں کوئی بچہ دودھ پینے کی عمر میں فوت ہو جائے تو جنت میں اسے دودھ پلانے کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے جیسا کہ آپ کے بیٹے حضرت ابراہیم ؓکے لیے کیا گیا تھا۔
واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3255 سے ماخوذ ہے۔