صحيح البخاري
كتاب الجنائز— کتاب: جنازے کے احکام و مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي عَذَابِ الْقَبْرِ: باب: عذاب قبر کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنِي أَبِي , عَنْ صَالِحٍ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ , قَالَ : " اطَّلَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَهْلِ الْقَلِيبِ , فَقَالَ : وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا ، فَقِيلَ لَهُ : تَدْعُو أَمْوَاتًا ، فَقَالَ : مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ مِنْهُمْ وَلَكِنْ لَا يُجِيبُونَ " .´ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے ‘ ان سے ان کے والد نے ‘ ان سے صالح نے ‘ ان سے نافع نے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں خبر دی کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کنویں والوں ( جس میں بدر کے مشرک مقتولین کو ڈال دیا گیا تھا ) کے قریب آئے اور فرمایا تمہارے مالک نے جو تم سے سچا وعدہ کیا تھا اسے تم لوگوں نے پا لیا ۔ لوگوں نے عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مردوں کو خطاب کرتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم کچھ ان سے زیادہ سننے والے نہیں ہو البتہ وہ جواب نہیں دے سکتے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
«. . . قَالَ:" اطَّلَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَهْلِ الْقَلِيبِ , فَقَالَ: وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا، فَقِيلَ لَهُ: تَدْعُو أَمْوَاتًا، فَقَالَ: مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ مِنْهُمْ وَلَكِنْ لَا يُجِيبُونَ . . .»
”. . . نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کنویں والوں (جس میں بدر کے مشرک مقتولین کو ڈال دیا گیا تھا) کے قریب آئے اور فرمایا تمہارے مالک نے جو تم سے سچا وعدہ کیا تھا اسے تم لوگوں نے پا لیا۔ لوگوں نے عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مردوں کو خطاب کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم کچھ ان سے زیادہ سننے والے نہیں ہو البتہ وہ جواب نہیں دے سکتے . . .“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجَنَائِزِ: 1370]
↰ یہ ایک استثناء ہے۔ اس حدیث میں بھی کفار مکہ کے ایک خاص آواز سننے کا ذکر ہے، جیسا کہ: صحیح بخاری [567/2،:3981-3980] میں ہے: «انهم الان يسمعون ما اقول» ”وہ اس وقت میری بات کو سن رہے ہیں۔‘‘
↰ اس سے معلوم ہوا کہ مردے نہیں سنتے۔ صحابہ کرام کا یہی عقیدہ تھا۔ اسی لیے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا کہ آپ مردوں سے کیوں باتیں کر رہے ہیں، یہ تو سنتے نہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بتایا کہ بدر کے کنویں میں پڑے کفار کے سننے کا واقعہ عدم سماع موتیٰ کے اس قانون شریعت سے خاص کر دیا گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ مرنے کے بعد مردے سنتے ہیں، بلکہ فرمایا: «الآن» یعنی اس وقت وہ میری بات سن رہے ہیں۔ اس میں استمرار کے ساتھ سننے کا کوئی ذکر نہیں، بلکہ استمرار کی نفی ہو گئی ہے۔
◈ حافظ نووی رحمہ اللہ (631-676ھ) علامہ مازری سے نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں: «قال (أبو عبدالله محمد بن على - 453-536هـ -) المازري: قال بعض الناس: الميت يسمع عملا بظاهر هذا الحديث، ثم أنكرهٔ المازري، وادعى أن هذا خاض فى هؤلاء.»
”علامہ (ابوعبد اللہ محمد بن علی) مازری (453۔ 536 ھ) فرماتے ہیں کہ بعض لوگوں نے اس حدیث کے ظاہری الفاظ کو دیکھ کر کہا ہے کہ مردے سنتے ہیں۔ اس کے بعد علامہ مازری نے اس کا ردّ کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ یہ سننا ان کفار کے ساتھ خاص تھا۔“ [شرح صحيح مسلم: 387/2]
◈ علامہ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ (1332-1420ھ) اس حدیث کے متعلق فرماتے ہیں: «ونحوه قوله صلي الله عليه وسلم لعمر حينما ساله عن منادته لاهل قليب بدر ما انتم باسمع لما اقول منهم هو خاص ايضا باهل القليب»
”نبی اکرم صلى اللہ علیہ وسلم نے جب بدر کے کنویں میں پڑے مقتولین کو پکارا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں پوچھا: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میری بات کو ان سے زیادہ نہیں سن رہے۔ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان گرامی بھی اہل بدر کے ساتھ خاص ہے۔“ [سلسلة الأحاديث الضعيفة: 286/3، ح: 1148]
فائدہ: مشہور تابعی امام قتادہ بن دعامہ رحمہ اللہ (61۔ 118 ھ) فرماتے ہیں: «أحياهم الله حتي أسمعهم قوله، توبيخا وتصغيرا ونقمة وحسرة وندما .»
”اللہ تعالیٰ نے ان کفار کو زندہ کر کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان انہیں سنا دیا تاکہ ان کی تحقیر و تذلیل ہو اور وہ حسرت و ندامت میں ڈوب جائیں۔“ [مسند الإمام أحمد: 459/19، ح: 12417، صحيح البخاري: 3976]
◈ علامہ ابوالحسن علی بن خلف بن عبد اللہ، ابن بطال (م: 449 ھ) فرماتے ہیں: «وعلى تأويل قتادة فقهاء الأئمة وجماعة أهل السنة.»
”امام قتادہ کے بیان کردہ مفہوم پر ہی فقہاء ائمہ اور جماعت اہل سنت قائم ہیں۔“ [شرح صحيح البخاري: 358/3]
↰ معلوم ہوا کہ صحابہ کرام اور سلف صالحین میں سے کوئی بھی مردوں کے سننے کا قائل نہیں۔ اگر قرآن و حدیث میں سماع موتیٰ کی کوئی دلیل ہوتی تو اسلاف امت ضرور اس کے قائل ہوتے۔ اس لیے تو ہم اصل ضابطہ عدم سماع قرار دیتے ہیں اور جن جگہوں میں صحیح دلیل کے ساتھ سننا ثابت ہے، ان کو مستثنیٰ قرار دیتے ہیں۔
عقائد و اعمال میں استثناء کا باب کھلا ہے۔ یہ کہنا کہ ”نفی سماع، پھر استثناء، کیا فرق نکلے گا، نتیجہ تو بہرکیف سماع موتیٰ ہی نکلتا ہے۔۔۔“ نری جہالت اور بے وقوفی ہے۔
◈ شار ح بخاری، علامہ، ابومحمد، عبدالواحد، ابن تین مغربی (م: 611 ھ) فرماتے ہیں: «ان الموتي لا يسمعون بلا شك .» ”یقینا مردے نہیں سنتے۔ ”[فتح الباري لابن حجر: 235/3]
◈ شارح بخاری، مہلب بن احمد بن اسید تمیمی (م: 435 ھ) فرماتے ہیں: «لا يسمعون، كما قال تعالى: ﴿إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَى﴾» [27-النمل:80]، «﴿وَمَا أَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَنْ فِي الْقُبُورِ﴾» [35-فاطر:22]
”مردے نہیں سنتے، جیسا کہ فرمان باری تعالیٰ ہے: «﴿إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَى﴾» (اے نبی!) ”یقیناً آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے۔“ نیز فرمایا: «﴿وَمَا أَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَنْ فِي الْقُبُورِ﴾» ”(اے نبی!) آپ قبروں میں موجود لوگوں کو سنا نہیں سکتے۔“ [شرح صحيح البخاري لابن بطال: 320/3]
↰ ثابت ہوا کہ قرآن و سنت میں مردوں کے سننے کا کوئی ثبوت نہیں، اسی لئے سلف صالحین میں سے کوئی بھی سماع موتیٰ کا قائل نہیں تھا۔ دین وہی ہے جو سلف صالحین نے سمجھا اور جس پر انہوں نے عمل کیا۔ باقی سب بدعات و خرافات ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں دین و ایمان کی سلامتی عطا فرمائے اور ساری زندگی سلف صالحین کے نقش قدم پر چلائے۔ آمین!
یہی حق ہے۔
مقتولین بدر کو سنانا وقتی طور پر خصوصیات رسالت میں سے تھا۔
اس پر دوسرے مردوں کو قیاس نہیں کیا جا سکتا۔
ہاں‘ اللہ تعالی جب چاہے اور جس قدر چاہے مردوں کو سنا سکتا ہے۔
جیسا کہ قبرستان میں السلامُ علیکم أهلَ الدیار حدیث کی مسنون دعاء سے ظاہر ہے۔
باقی اہل بدعت کا یہ خیال کہ وہ جب بھی مدفون باباؤں کی قبریں پوجنے جائیں وہ بابا ان کی فریاد سنتے اور حا جات پوری کرتے ہیں‘ سراسر باطل اور کافرانہ ومشرکانہ خیال ہے جس کی شرعاً کو ئی اصل نہیں ہے۔
حضرت ابن عباس اور حضرت عائشہ ؓ ہر دو کے خیالات پر مزید تفصیل کے لیے فتح الباری کامطالعہ کیا جائے۔
1۔
امام بخاری ؒ نے ان احادیث کو اس لیے بیان کیا ہے کہ ان میں کفار قریش کا ذکر ہے جو میدان بدر میں جہنم واصل ہوئے۔
خود رسول اللہ ﷺ نے ایک غیرآباد کنویں پر کھڑے ہو کرانھیں جہنم میں جانے کی خبر دی لیکن شارحین نے اس مقام پر مسئلہ سماع موتی کی تفصیل بیان کی ہےحالانکہ اس مقام پر قطعاً اس کی ضرورت نہیں۔
ہم کتاب الجنائز میں اس مسئلے پر تفصیل سے بحث کر چکے ہیں2۔
بعض اہل علم نے یہ نکتہ پیدا کیا ہے کہ حضرت عائشہ ؓ نے(يَسْمَعُونَ)
کے بجائے (يَعْلَمُونَ)
بیان کیا ہے ان کے بقول جب مردوں کے لیے علم ثابت ہے تو سماع کیسے محال ہو گا؟ ممکن ہے دونوں ہوں اگر علم (ان کا جاننا)
خرق عادت کے طور پر ہے تو سماع سننا بھی ایسے ہو گا یا جیسے علم زندہ کیا گیا ایسے سماع کے لیے بھی زندہ کیا گیا ہوگا۔
ہمارے رجحان کے مطابق اس نکتہ آفرینی کا یہ جواب ہے کہ علم (جاننے)
کا تعلق تو روح سے ہے جو موجود ہے اور اسے فنا نہیں ہے اورسماع (سننے)
کا تعلق آلہ روح کے زندہ ہونے میں کوئی شک نہیں اور نہ یہ بات ہی زیر بحث ہے کیونکہ روح کا علم یعنی جاننا یقینی اور باقی ہے۔
بحث اس سماع سے متعلق ہے جس کا تعلق آلہ روح یعنی کانوں سے ہے آیا مرنے کے بعد سماع آلہ روح (کانوں)
سے حاصل ہوتا ہے یا نہیں جبکہ مرنے کے بعد جملہ حواس ختم ہو چکے ہیں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ حضرت عائشہ ؓ کی پیش کردہ آیت میں اسماع (سنانے)
کی نفی ہے سماع (سننے)
کی نہیں حالانکہ اسماع اصل ہے اور سماع اس کی فرع ہے جب اصل نہیں تو فرع کیسے ہو گی۔
3۔
بہر حال قرآنی آیت اس بات کی واضح دلیل ہے کہ رسول اللہ ﷺ مردوں کو نہیں سنا سکتے۔
مقتولین بدر کو وقتی طور پر سنانا خصوصیات رسالت میں سے تھا۔
اس پر کسی دوسرے کو قیاس نہیں کیا جا سکتا۔
ہاں اللہ تعالیٰ جب چاہے جسے چاہے اور جس قدر چاہے مردوں کو سنا سکتاہے۔
اہل بدعت کا یہ عقیدہ کہ مدفون بزرگ ان کی فریاد سنتے ہیں اور حاجات پوری کرتے ہیں سراسر باطل ہے جس کی شریعت میں کوئی دلیل نہیں ہے۔
واللہ اعلم۔
قبل ازیں حضرت براء بن عازب ؓ سے بیان ہوا تھا کہ غزوہ بدر میں مہاجرین کی تعداد ساٹھ سے زائد تھی۔
(صحیح البخاري، المغازي، حدیث: 3956)
لیکن یہ تعداد ان اصحاب کی ہے انھوں نے عملی طور پر غزوہ بدر میں حصہ لیا۔
کچھ لوگوں کو رسول اللہ ﷺ نے جاسوسی کے لیے بھیجا تھا اور کچھ حضرات مدینہ طیبہ میں امامت اور نگرانی کے لیے رہ گئے تھے۔
ان کو بھی حکمی طور پر شریک کیا گیا اور انھیں غنیمت سے حصہ دیا۔
اس اعتبار سے مال غنیمت کے سو حصے کیے البتہ عملی طور شرکائے بدر مہاجرین کی تعدادکیاسی (81)
تھی ممکن ہے کہ حضرت براء ؓ کی حدیث میں آزاد مہاجرین کا ذکر ہواور اس حدیث میں آزاد موالی اور غلام وغیرہ مراد ہوں۔
(فتح الباري: 406/7)