صحيح البخاري
كتاب الجنائز— کتاب: جنازے کے احکام و مسائل
بَابُ إِذَا أَسْلَمَ الصَّبِيُّ فَمَاتَ هَلْ يُصَلَّى عَلَيْهِ وَهَلْ يُعْرَضُ عَلَى الصَّبِيِّ الإِسْلاَمُ: باب: ایک بچہ اسلام لایا پھر اس کا انتقال ہو گیا، تو کیا اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی؟ اور کیا بچے کے سامنے اسلام کی دعوت پیش کی جا سکتی ہے؟
حدیث نمبر: 1357
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , قَالَ : قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ ، سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , يَقُولُ : " كُنْتُ أَنَا , وَأُمِّي مِنَ الْمُسْتَضْعَفِينَ ، أَنَا مِنَ الْوِلْدَانِ ، وَأُمِّي مِنَ النِّسَاءِ " .مولانا داود راز
´ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ عبیداللہ بن زیاد نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے سنا تھا کہ` میں اور میری والدہ ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے بعد مکہ میں ) کمزور مسلمانوں میں سے تھے ۔ میں بچوں میں اور میری والدہ عورتوں میں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا داود راز
1357. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے،انھوں نے فرمایا:میں اور میری والدہ ناتواں لوگوں میں سے تھے۔ میں بچوں میں سے اور میری والدہ عورتوں میں سے کمزور تھیں۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:1357]
حدیث حاشیہ: جن کا ذکر سورۃ نساء کی آیتوں میں ہے ﴿إِلَّا الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِالخ﴾
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1357 سے ماخوذ ہے۔
✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
1357. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے،انھوں نے فرمایا:میں اور میری والدہ ناتواں لوگوں میں سے تھے۔ میں بچوں میں سے اور میری والدہ عورتوں میں سے کمزور تھیں۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:1357]
حدیث حاشیہ:
(1)
قرآن کریم میں اسلام لانے کے بعد مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت نہ کرنے والوں کو بڑی سخت وعید سنائی گئی ہے، لیکن ایک گروہ کو اس وعید سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿إِلَّا الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ لَا يَسْتَطِيعُونَ حِيلَةً وَلَا يَهْتَدُونَ سَبِيلًا ﴿٩٨﴾ ﴿فَأُولَـٰئِكَ عَسَى اللَّـهُ أَن يَعْفُوَ عَنْهُمْ ۚ وَكَانَ اللَّـهُ عَفُوًّا غَفُورًا ﴿٩٩﴾) (النسآء: 99،98: 4)
’’مگر جو مرد، عورتیں اور بچے فی الواقع کمزور اور بےبس ہیں اور وہاں سے نکلنے کی کوئی تدبیر اور راہ نہیں پاتے امید ہے کہ اللہ ایسے لوگوں کو معاف فرما دے کیونکہ اللہ تعالیٰ بہت معاف کرنے والا نہایت بخشنے والا ہے۔
‘‘ (2)
حدیث میں ناتواں لوگوں سے مراد وہی ہیں جن کا ذکر اس آیت کریمہ میں ہوا ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ حضرت ابن عباس ؓ اپنی والدہ لبابہ بنت حارث ؓ کے ساتھ کمزور مسلمانوں میں سے تھے جو مکہ میں مسلمان تو ہو گئے تھے، لیکن مشرکین نے انہیں ہجرت سے روک دیا تھا، ظاہر ہے کہ ایسے حالات میں بچہ خیرالابوین کے تابع ہوتا ہے، کیونکہ حضرت عباس ؓ تو غزوہ بدر کے بعد مسلمان ہوئے تھے۔
چونکہ اسلام بلند رہتا ہے مغلوب نہیں ہوتا، اس لیے غیر مکلف بچہ جب مسلمان ہو جائے تو اس کا اسلام صحیح ہے اور اسی حالت میں اگر اسے موت آ جائے تو اسلام کی برکت سے اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی۔
امام بخاری ؒ کے قائم کردہ عنوان اور پیش کردہ احادیث سے یہی مقصود ہے۔
والله أعلم۔
(1)
قرآن کریم میں اسلام لانے کے بعد مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت نہ کرنے والوں کو بڑی سخت وعید سنائی گئی ہے، لیکن ایک گروہ کو اس وعید سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿إِلَّا الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ لَا يَسْتَطِيعُونَ حِيلَةً وَلَا يَهْتَدُونَ سَبِيلًا ﴿٩٨﴾ ﴿فَأُولَـٰئِكَ عَسَى اللَّـهُ أَن يَعْفُوَ عَنْهُمْ ۚ وَكَانَ اللَّـهُ عَفُوًّا غَفُورًا ﴿٩٩﴾) (النسآء: 99،98: 4)
’’مگر جو مرد، عورتیں اور بچے فی الواقع کمزور اور بےبس ہیں اور وہاں سے نکلنے کی کوئی تدبیر اور راہ نہیں پاتے امید ہے کہ اللہ ایسے لوگوں کو معاف فرما دے کیونکہ اللہ تعالیٰ بہت معاف کرنے والا نہایت بخشنے والا ہے۔
‘‘ (2)
حدیث میں ناتواں لوگوں سے مراد وہی ہیں جن کا ذکر اس آیت کریمہ میں ہوا ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ حضرت ابن عباس ؓ اپنی والدہ لبابہ بنت حارث ؓ کے ساتھ کمزور مسلمانوں میں سے تھے جو مکہ میں مسلمان تو ہو گئے تھے، لیکن مشرکین نے انہیں ہجرت سے روک دیا تھا، ظاہر ہے کہ ایسے حالات میں بچہ خیرالابوین کے تابع ہوتا ہے، کیونکہ حضرت عباس ؓ تو غزوہ بدر کے بعد مسلمان ہوئے تھے۔
چونکہ اسلام بلند رہتا ہے مغلوب نہیں ہوتا، اس لیے غیر مکلف بچہ جب مسلمان ہو جائے تو اس کا اسلام صحیح ہے اور اسی حالت میں اگر اسے موت آ جائے تو اسلام کی برکت سے اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی۔
امام بخاری ؒ کے قائم کردہ عنوان اور پیش کردہ احادیث سے یہی مقصود ہے۔
والله أعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1357 سے ماخوذ ہے۔