صحيح البخاري
كتاب الجنائز— کتاب: جنازے کے احکام و مسائل
بَابُ إِذَا أَسْلَمَ الصَّبِيُّ فَمَاتَ هَلْ يُصَلَّى عَلَيْهِ وَهَلْ يُعْرَضُ عَلَى الصَّبِيِّ الإِسْلاَمُ: باب: ایک بچہ اسلام لایا پھر اس کا انتقال ہو گیا، تو کیا اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی؟ اور کیا بچے کے سامنے اسلام کی دعوت پیش کی جا سکتی ہے؟
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهْوَ ابْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : " كَانَ غُلَامٌ يَهُودِيٌّ يَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرِضَ ، فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ ، فَقَعَدَ عِنْدَ رَأْسِهِ فَقَالَ لَهُ : أَسْلِمْ ، فَنَظَرَ إِلَى أَبِيهِ , وَهُوَ عِنْدَهُ ، فَقَالَ لَهُ : أَطِعْ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْلَمَ ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنْقَذَهُ مِنَ النَّارِ " .´ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ‘ ان سے ثابت نے ‘ ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` ایک یہودی لڑکا ( عبدالقدوس ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا ، ایک دن وہ بیمار ہو گیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا مزاج معلوم کرنے کے لیے تشریف لائے اور اس کے سرہانے بیٹھ گئے اور فرمایا کہ مسلمان ہو جا ۔ اس نے اپنے باپ کی طرف دیکھا ، باپ وہیں موجود تھا ۔ اس نے کہا کہ ( کیا مضائقہ ہے ) ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ کہتے ہیں مان لے ۔ چنانچہ وہ بچہ اسلام لے آیا ۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شکر ہے اللہ پاک کا جس نے اس بچے کو جہنم سے بچا لیا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
دوسری روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس یہودی لڑکے کا نام عبدالقدوس تھا۔
(فتح الباري: 283/3)
رسول اللہ ﷺ نے اس پر اس کے باپ کی موجودگی میں اسلام پیش کیا اور وہ رسول اللہ ﷺ کی دعوت کو قبول کر کے مسلمان ہو گیا۔
سنن کبری کی روایت میں ہے کہ اس نے أشهد أن لا إله إلا الله و أن محمدا رسول الله پڑھا۔
(السنن الکبریٰ للنسائي: 173/5، رقم: 8588)
اس سے امام بخاری ؒ کا دعویٰ ثابت ہوا کہ بچے پر اسلام پیش کرنا صحیح ہے اور اس کے اسلام کا اعتبار ہو گا۔
اگر وہ بچپن میں فوت ہو جائے تو اسے عذاب نہیں ہو گا، کیونکہ حدیث کے مطابق بچہ بالغ ہونے تک مرفوع القلم ہے۔
(2)
اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ اہل شرک اور بچوں سے خدمت لینا جائز ہے اور ذمیوں کی تیمارداری کرنا بھی محاسن اسلام سے ہے، خصوصا جب وہ ہمسائے بھی ہوں۔
(فتح الباري: 281/3)
یہ حدیث اوپر گزر چکی ہے حضرت امام بخاری نے اس باب میں ان احادیث کو لا کر یہ ثابت کیا ہے کہ اپنے نوکروں اور غلاموں تک کی اگر وہ بیمار ہوں عیادت کرنا سنت ہے۔
(1)
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے سر کے پاس بیٹھ گئے اور اسے کہا: ’’بیٹے! تم مسلمان ہو جاؤ۔
‘‘ وہ اپنے باپ کی طرف دیکھنے لگا تو اس نے کہا: ابو القاسم کی بات مان لو، چنانچہ وہ مسلمان ہو گیا تو آپ نے ان الفاظ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا: ’’تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے اسے آگ سے بچا لیا۔
‘‘ (صحیح البخاري، الجنائز، حدیث: 1356) (2)
ابن بطال نے لکھا ہے کہ اگر مشرک سے امید ہو کہ وہ اسلام قبول کرے گا تو اس کی عیادت کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
اگر اس طرح کی توقع نہ ہو تو اس کی مزاج پرسی نہیں کرنی چاہیے۔
لیکن یہ بات مطلق طور پر صحیح نہیں ہے کیونکہ مختلف حالات کے پیش نظر دیگر مقاصد بھی ہو سکتے ہیں۔
اس کی تیمارداری دوسری مصلحتوں کی وجہ سے بھی کی جا سکتی ہے، مثلاً: اس کا کوئی عزیز مسلمان ہو اس کی حوصلہ افزائی پیش نظر ہو یا اس سے اسلام یا اہل اسلام کو کوئی خطرہ ہو تو اس کی روک تھام مقصود ہو۔
(فتح الباري: 148/10)
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک یہودی لڑکا بیمار پڑا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس عیادت کے لیے آئے اور اس کے سرہانے بیٹھ گئے پھر اس سے فرمایا: ” تم مسلمان ہو جاؤ “، اس نے اپنے باپ کی طرف دیکھا جو اس کے سرہانے تھا تو اس سے اس کے باپ نے کہا: ” ابوالقاسم ۱؎ کی اطاعت کرو “، تو وہ مسلمان ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کہتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے: ” تمام تعریفیں اس ذات کے لیے ہیں جس نے اس کو میری وجہ سے آگ سے نجات دی ۲؎۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3095]
1۔
کسی کافر کی عیادت کےلئے جانا جائز ہے۔
بشرط یہ ہے کہ وہاں حق شرعی ادا ہو یعنی بالخصوص مرنے والے کو دعوت اسلام دی جائے۔
اور صحیح بخاری میں ہے کہ یہ لڑکا رسول اللہ ﷺ کا خادم بھی تھا۔
(صحیح البخاري، المرضی، باب عيادة المشرك، حدیث:5657)
2۔
جس شخص کا خاتمہ اسلام اور ایمان پر ہو وہ نجات پاگیا۔
3۔
اور اس نجات کا محور محمدر سول اللہ ﷺ کی رسالت اور دعوت پر ایمان وعمل ہے۔