صحيح البخاري
كتاب الجنائز— کتاب: جنازے کے احکام و مسائل
بَابُ بِنَاءِ الْمَسْجِدِ عَلَى الْقَبْرِ: باب: قبر پر مسجد تعمیر کرنا کیسا ہے؟
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , قَالَتْ : " لَمَّا اشْتَكَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَتْ بَعْضُ نِسَائِهِ كَنِيسَةً رَأَيْنَهَا بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ , يُقَالُ لَهَا : مَارِيَةُ ، وَكَانَتْ أُمُّ سَلَمَةَ وَأُمُّ حَبِيبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , أَتَتَا أَرْضَ الْحَبَشَةِ فَذَكَرَتَا مِنْ حُسْنِهَا وَتَصَاوِيرَ فِيهَا ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ , فَقَالَ : أُولَئِكِ إِذَا مَاتَ مِنْهُمُ الرَّجُلُ الصَّالِحُ ، بَنَوْا عَلَى قَبْرِهِ مَسْجِدًا , ثُمَّ صَوَّرُوا فِيهِ تِلْكَ الصُّورَةَ ، أُولَئِكِ شِرَارُ الْخَلْقِ عِنْدَ اللَّهِ " .´ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا ‘ کہا مجھ سے امام مالک نے بیان کیا ‘ ان سے ہشام بن عروہ نے ‘ ان سے ان کے باپ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ` جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار پڑے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض بیویوں ( ام سلمہ رضی اللہ عنہا اور ام حبیبہ رضی اللہ عنہا ) نے ایک گرجے کا ذکر کیا جسے انہوں نے حبشہ میں دیکھا تھا جس کا نام ماریہ تھا ۔ ام سلمہ اور ام حبیبہ رضی اللہ عنہا دونوں حبش کے ملک میں گئی تھیں ۔ انہوں نے اس کی خوبصورتی اور اس میں رکھی ہوئی تصاویر کا بھی ذکر کیا ۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سر مبارک اٹھا کر فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں کہ جب ان میں کوئی صالح شخص مر جاتا تو اس کی قبر پر مسجد تعمیر کر دیتے ۔ پھر اس کی مورت اس میں رکھتے ۔ اللہ کے نزدیک یہ لوگ ساری مخلوق میں برے ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
بكسر الكاف وفتحها، ولأبي ذر: وأولئك (شرار الخلق عند الله)
. وموضع الترجمة قوله: بنوا على قبره مسجدًا، وهو مؤول على مذمة من اتخذ القبر مسجدًا، ومقتضاه التحريم. لا سيما وقد ثبت اللعن عليه۔
یعنی قرطبی نے کہا کہ بنواسرائیل نے شروع میں اپنے بزرگوں کے بت بنائے تاکہ ان سے انس حاصل کریں اور ان کے نیک کاموں کو یاد کر کرکے خود بھی ایسے ہی نیک کام کریں اور ان کی قبروں کے پاس بیٹھ کر عبادت الٰہی کریں۔
پیچھے اور بھی زیادہ جاہل لوگ پیدا ہوئے۔
جنہوں نے اس مقصد کو فراموش کردیا اور ان کو شیطان نے وسوسوں میں ڈالا کہ تمہارے اسلاف ان ہی مورتوں کو پوجتے تھے اور انہی کی تعظیم کرتے تھے۔
پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی شرک کا سدباب کرنے کے لیے سختی کے ساتھ ڈرایا اور فرمایا کہ اللہ کے نزدیک یہی لوگ بدترین مخلوق ہیں۔
اور ترجمۃ الباب لفظ حدیث بنو ا علی قبرہ مسجدا سے ثابت ہوتا ہے یعنی آنحضرت ﷺ نے اس شخص کی مذمت کی جو قبر کو مسجد بنالے۔
اس سے اس فعل کی حرمت بھی ثابت ہوتی ہے اور ایسا کرنے پر لعنت بھی دارد ہوئی ہے۔
حضرت نوع ؑ کی قوم نے بھی شروع شروع میں اسی طرح اپنے بزرگوں کے بت بنائے‘ بعد میں پھر ان بتوں ہی کو خدا کا درجہ دے دیاگیا۔
عموماً جملہ بت پرست اقوام کا یہی حال ہے۔
جب کہ وہ خود کہتے بھی ہیں کہ ﴿مَانَعبُدُهُم اِلاَّ لِیُقَرِّبُونَا إِلَی اللّٰہِ رُلفٰی﴾ (الزمر: 3)
یعنی ہم ان بتوں کو محض اس لیے پوجتے ہیں کہ یہ ہم کو اللہ سے قریب کردیں۔
باقی یہ معبود نہیں ہیں یہ تو ہمارے لیے وسیلہ ہیں۔
اللہ پاک نے مشرکین کے اس خیال باطل کی تردید میں قرآن کریم کا بیشتر حصہ نازل فرمایا۔
صد افسوس! کہ کسی نہ کسی شکل میں بہت سے مدعیان اسلام میں بھی اس قسم کا شرک داخل ہوگیا ہے۔
حالانکہ شرک اکبر ہویا اصغر اس کے مرتکب پر جنت ہمیشہ کے لیے حرام ہے۔
مگر اس صورت میں کہ وہ مرنے سے پہلے اس سے تائب ہوکر خالص خدا پرست بن جائے۔
اللہ پاک ہر قسم کے شرک سے بچائے۔
آمین
تفصیل یہ ہے کہ حضرت عمرؓب نے حضرت انس ؓ کو ایک قبر کے پاس نماز پڑھتے دیکھا تو قبرقبر کہہ کر ان کواطلاع فرمائی، مگر وہ قمر سمجھے بعد میں سمجھ جانے پر وہ قبر سے دور ہو گئے اور نماز ادا کی۔
اس سے امام بخاری ؒ نے یہ نکالا کہ نماز جائز ہوگی اگرفاسد ہوتی تو دوبارہ شروع کرتے۔
(فتح)
آج کے زمانہ میں جب قبر پرستی عام ہے بلکہ چلہ پرستی اور شدہ پرستی اورتعزیہ پرستی سب زوروں پر ہے، توان حالات میں رسول اللہ ﷺ کی حدیث کے مطابق قبروں کے پاس مسجد بنانے سے منع کرنا چاہیے اور اگر کوئی کسی قبر کو سجدہ کرے یا قبر کی طرف منہ کر کے نماز پڑھے تواس کے مشرک ہونے میں کیا شک ہو سکتا ہے؟
1۔
امام بخاری ؒ کا دعویٰ ہے کہ مشرکین کے قبرستان میں قبریں ختم کرکے مسجد تعمیر کرنادرست ہے اور جو دلیل ذکر کی ہے وہ یہ ہے کہ قبرستان کو مسجد بنانے کی اجازت نہیں، اس لیے امام بخاری کے دعویٰ اوردلیل میں تقریب تام نہیں ہے۔
اس کی وضاحت کرتے ہوئے حافظ ابن حجر ؒ لکھتے ہیں کہ یہودونصاریٰ کے حق میں وعید اور لعنت جس طرح ان لوگوں کے لیے ہے جنھوں نے انبیاء علیہم السلام کی قبروں کی تعظیم میں غلو کرتے ہوئے انھیں سجدہ گاہ بنالیا اور نتیجتاً و ہ انبیاء علیہم السلام کو معبود سمجھنے لگے، اسی طرح یہ وعید ان لوگوں کے لیے بھی ہے جو ان قبروں کی جگہ اس طرح مسجد تعمیر کریں کہ ان کے جسد اطہر کو قبر سے نکال دیں اور ہڈیاں پھینک دیں۔
وہ فرماتے ہیں یہ دونوں باتیں حضرات انبیاء علیہم السلام اور ان کے متبعین ہی کے ساتھ خاص ہیں، جہاں تک کفار کا تعلق ہے تو ان میں یہ باتیں نہیں پائی جاتیں، اس لیے اگرکفار کی قبروں سے ہڈیاں نکال کر پھینک دی جائیں اور ان کی جگہ مسجد تعمیر کرلی جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں، کیونکہ ان کی تعظیم تو مقصود نہیں اور ان کی اہانت میں بھی کوئی حرج نہیں۔
(فتح الباري: 679/1)
2۔
یہود ونصاریٰ پر لعنت کا سبب یہ تھا کہ انھوں نے انبیاء کرام علیہم السلام کی قبروں کو باقی رکھتے ہوئے انھیں مساجد بنالیا تھا۔
جب انبیاء علیہم السلام کی قبروں کو باقی رکھے ہوئے وہاں مسجد بنانا باعث لعنت ہے، توقبور مشرکین کو باقی رکھتے ہوئے وہاں مسجد تعمیر کرنابدرجہ اولیٰ موجب لعنت ہوگا۔
اس طرح امام بخاری ؒ کے دعویٰ اور دلیل میں مطابقت ظاہر ہوگئی۔
ہاں! یہ ضروری ہے کہ انبیاء علیہم السلام کی قبروں کو کھودنا سخت حرام اور ان کی توہین کاباعث ہے۔
اس لیے ان کی قبروں کی جگہ پر مسجد تعمیرکرنا کسی صورت میں جائز نہیں۔
اس کے برعکس مشرکین کی قبروں کا کوئی احترام نہیں، اس لیےان کی جگہ پرمساجد تعمیر کرنے کے لیے ضروری ہے کہ انھیں اکھاڑ کر ہڈیاں الگ کردی جائیں۔
اور جب زمین ان کے ناپاک جسم سے پاک ہوجائے تو وہاں مسجد بنا لی جائے۔
3۔
اس حدیث سے معلوم ہواکہ بزرگوں کی قبروں پر مسجدیں بنانا یہودونصاریٰ کی علامت ہے۔
جسے رسول اللہ ﷺ نے حرام قراردیا ہے اور آپ نے یہ باتیں مرض وفات میں ارشادفرمائیں جن کا مفہوم یہ تھا کہ آپ کے بعد آپ کی قبر مبارک کے ساتھ یہ سلوک نہ کیا جائے، چنانچہ اللہ تعالیٰ حکومت سعودیہ کو جزاے خیر دے جس کی مخلصانہ کوششوں سے امت ابھی تک ان ہدایات پر قائم ہے اور آپ کی قبر سجدہ گاہ بننے سے محفوظ ہے۔
الحمدلله على ذلك۔
اس حدیث میں ہجرت حبشہ کا ذکر ہے کہ حضرت ام حبیبہ ؓ اور حضرت ام سلمہ ؓ نے حبشے کی طرف ہجرت کی تھی۔
اس کی تفصیل یہ ہے کہ حضرت ام سلمہ ہند بنت ابوامیہ ؓ نے ا پنے شوہر حضرت ابوسلمہ بن عبدالاسد ؓ کے ساتھ پہلی ہجرت کی۔
اورحضرت ام حبیبہ رملہ بنت ابوسفیان ؓ نے اپنے شوہر عبداللہ بن جحش کے ساتھ حبشے کی طرف دوسری ہجرت میں شمولیت کی۔
ان کا شوہر وہاں جاکر عیسائی ہوگیا اور وہیں مرا۔
اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے ان کے ساتھ نکاح کرلیاتھا۔
شاہ حبشہ نے اپنی سرکردگی میں اس نکاح کو سرانجام دیا۔
اس حدیث سے متعلقہ دیگر مباحث کتاب الجنائز حدیث: 1341۔
کے تحت گزرچکے ہیں، انھیں یہاں ذکر کرنے کی ضرورت نہیں۔
(فتح الباري: 239/7)
کیونکہ احتمال ہے کہ گرجا کی جگہ پہلے قبر ہو اورمسلمان کے نماز پڑھنے سے وہ مسجد ہوجائے۔
ان عیسائیوں سے بدترآج ان مسلمانوں کا حال ہے جو مزاروں کو مسجدوں سے بھی زیادہ زینت دے کر وہاں بزرگوں سے حاجات طلب کرتے ہیں۔
بلکہ ان مزاروں پر سجدہ کرنے سے بھی باز نہیں آتے، یہ لوگ بھی اللہ کے نزدیک بدترین خلائق ہیں۔
1۔
یہ حدیث پہلے 427 کے تحت بیان ہو چکی ہے۔
اس کی تشریح وہاں دیکھی جا سکتی ہے۔
اس مقام پر امام بخاری ؒ کا مقصد یہ وضاحت کرنا ہے کہ یہود ونصاری کے عبادت خانوں میں تصاویر کب اور کیوں داخل ہوئیں، کیونکہ پہلے بیان ہو چکا ہےکہ ان کے عبادت خانوں میں نماز پڑھنے کی وجہ صرف تصاویر تماثیل کا موجودہونا ہے۔
2۔
حافظ ابن حجر ؒ کہتے ہیں امام بخاری ؒ اس حدیث سے یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ایک مسلمان کو گرجے میں نماز پڑھنا جائز ہے، کیونکہ احتمال ہے کہ گرجے کی جگہ پہلے قبر ہو اور مسلمان کے نماز پڑھنے کی وجہ سے اسے مسجد کا مقام دے دیا جائے۔
(فتح الباری: 668/1)
ان عیسائیوں سے بدترآج ان نام نہاد مسلمانوں کا حال ہے جو مزارات کو مساجد کا مقام دے کر وہاں نمازیں پڑھتے ہیں اور وہاں صاحب قبر کے حضورجبین نیاز جھکا کر سجدے کرتے اور ان سے حاجات طلب کرتے ہیں۔
یہ لوگ بھی اللہ کے ہاں بدترین خلائق ہیں۔
اللہ تعالیٰ انھیں ہوش کے ناخن لینے کی توفیق دے. 3۔
ابن بطال ؒ نے امام مالک ؒ کے حوالے سے لکھا ہے کہ میں ان کے کنیساؤں میں نماز پڑھنا ناپسند کرتا ہوں، کیونکہ یہ لوگ وہاں خنزیر کا گوشت کھاتے ہیں اور شراب پیتے ہیں جس کی وجہ سے اس کا طاہر ہونا یقینی نہیں۔
ہاں! اگر کوئی جگہ نہ ہو یا باہر کیچڑیا بارش ہو رہی ہو تو بامر مجبوری نماز پڑھنے کی گنجائش ہے۔
(شرح ابن بطال: 89/2)
(1)
كَنِيْسَة: گرجا، عیسائیوں کی عبادت گاہ۔
(2)
تَصَاوِيْر: تصويرکی جمع ہے اور صور، صورة کی جمع ہے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ام المؤمنین ام حبیبہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہم دونوں نے ایک کنیسہ (گرجا گھر) کا ذکر کیا جسے ان دونوں نے حبشہ میں دیکھا تھا، اس میں تصویریں تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” یہ لوگ ایسے تھے کہ جب ان میں کا کوئی صالح آدمی مرتا تو یہ اس کی قبر کو سجدہ گاہ بنا لیتے، اور اس کی مورتیاں بنا کر رکھ لیتے، یہ لوگ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک بدترین مخلوق ہوں گے۔“ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 705]
➋ نیک آدمی کی قبر پر مسجد بنا کر اس میں اس نیک آدمی اور دوسرے صالحین کی تصویریں بناتے تھے۔ مقصد تو تعظیم اور ان کی یاد ہوتی تھی مگر آہستہ آہستہ ان تصویروں کی پوجا شروع ہو جاتی تھی، اس لیے شریعت نے قبروں پر مسجدوں سے مطلقاً منع کر دیا کہ یہ شرک کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔ اور واقعتاً جن قبروں پر یا ان کے قریب مساجد بنی ہوئی ہیں، ان قبروں کی پوجا ہوتی ہے، اسی لیے انہیں بدترین مخلوق کہا گیا۔
➌ صالحین سے مراد انبیاء کے حواری (اولین پیروکار) یا علماء و رہبان ہیں کیونکہ عیسائی انہیں نبیوں کی طرح سمجھتے اور ان کی غیر مشروط اطاعت کرتے تھے۔