مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 1303
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ ، حَدَّثَنَا قُرَيْشٌ هُوَ ابْنُ حَيَّانَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَال : " دَخَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَبِي سَيْفٍ الْقَيْنِ ، وَكَانَ ظِئْرًا لِإِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِبْرَاهِيمَ فَقَبَّلَهُ وَشَمَّهُ ، ثُمَّ دَخَلْنَا عَلَيْهِ بَعْدَ ذَلِكَ وَإِبْرَاهِيمُ يَجُودُ بِنَفْسِهِ ، فَجَعَلَتْ عَيْنَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَذْرِفَانِ , فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : وَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَقَالَ : يَا ابْنَ عَوْفٍ إِنَّهَا رَحْمَةٌ ثُمَّ أَتْبَعَهَا بِأُخْرَى ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ الْعَيْنَ تَدْمَعُ وَالْقَلْبَ يَحْزَنُ وَلَا نَقُولُ إِلَّا مَا يَرْضَى رَبُّنَا وَإِنَّا بِفِرَاقِكَ يَا إِبْرَاهِيمُ لَمَحْزُونُونَ " ، رَوَاهُ مُوسَى ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ المُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا داود راز

´ہم سے حسن بن عبدالعزیز نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے یحییٰ بن حسان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے قریش نے جو حیان کے بیٹے ہیں ، نے بیان کیا ، ان سے ثابت نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کی کہ` ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ابوسیف لوہار کے یہاں گئے ۔ یہ ابراہیم ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے رضی اللہ عنہ ) کو دودھ پلانے والی انا کے خاوند تھے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابراہیم رضی اللہ عنہ کو گود میں لیا اور پیار کیا اور سونگھا ۔ پھر اس کے بعد ہم ان کے یہاں پھر گئے ۔ دیکھا کہ اس وقت ابراہیم رضی اللہ عنہ دم توڑ رہے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر آئیں ۔ تو عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ بول پڑے کہ یا رسول اللہ ! اور آپ بھی لوگوں کی طرح بے صبری کرنے لگے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ ابن عوف ! یہ بے صبری نہیں یہ تو رحمت ہے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ روئے اور فرمایا ۔ آنکھوں سے آنسو جاری ہیں اور دل غم سے نڈھال ہے پر زبان سے ہم کہیں گے وہی جو ہمارے پروردگار کو پسند ہے اور اے ابراہیم ! ہم تمہاری جدائی سے غمگین ہیں ۔ اسی حدیث کو موسیٰ بن اسماعیل نے سلیمان بن مغیرہ سے ‘ ان سے ثابت نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الجنائز / حدیث: 1303
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 3126

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
1303. حضرت انس ؓ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا:ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ابو سیف لوہار ؓ کے ہاں گئے جو حضرت ابراہیم ؓ کا رضاعی باپ تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابراہیم کو لے کر بوسہ دیا اور اس کےاوپر اپنا منہ رکھا۔ اس کے بعد ہم دوبارہ ابو سیف کے ہاں گئے تو حضرت ابراہیم ؓ حالت نزع میں تھے۔ رسول اللہ ﷺ کی آنکھیں اشکبار ہوئیں۔ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف ؓ نے عرض کیا:اے اللہ کے رسول اللہ ﷺ!آپ بھی روتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا:’’اے ابن عوف ؓ!یہ تو ایک رحمت ہے۔‘‘ پھر آپ ﷺ نے روتے ہوئے فرمایا:’’آنکھ اشکبار اور دل غمزدہ ہے، لیکن ہم کو زبان سے وہی کہنا ہے جس سے ہمارا مالک راضی ہو۔ اے ابراہیم! ہم تیری جدائی سے یقیناً غمگین ہیں۔‘‘ اس روایت کو موسیٰ نے سلیمان بن مغیرہ سے بھی بیان کیا ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:1303]
حدیث حاشیہ: حضرت امام بخاری ؒ یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ اس طرح سے آنکھوں سے آنسو نکل آئیں اور دل غمگین ہو اور زبان سے کوئی لفظ اللہ کی ناراضی کا نہ نکلے تو ایسا رونا بے صبری نہیں، بلکہ یہ آنسو رحمت ہیں اور یہ بھی ثابت ہوا کہ مرنے والے کو محبت آمیز لفظوں سے مخاطب کر کے اس کے حق میں کلمہ خیر کہنا درست ہے۔
آنحضرتﷺ کے یہ صاحبزادے ماریہ قبطیہؓ کے بطن سے پیدا ہوئے تھے جو مشیت ایزدی کے تحت حالت شیر خوارگی ہی میں انتقال کر گئے۔
رضي اللہ عنه وأرضاہ۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1303 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
1303. حضرت انس ؓ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا:ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ابو سیف لوہار ؓ کے ہاں گئے جو حضرت ابراہیم ؓ کا رضاعی باپ تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابراہیم کو لے کر بوسہ دیا اور اس کےاوپر اپنا منہ رکھا۔ اس کے بعد ہم دوبارہ ابو سیف کے ہاں گئے تو حضرت ابراہیم ؓ حالت نزع میں تھے۔ رسول اللہ ﷺ کی آنکھیں اشکبار ہوئیں۔ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف ؓ نے عرض کیا:اے اللہ کے رسول اللہ ﷺ!آپ بھی روتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا:’’اے ابن عوف ؓ!یہ تو ایک رحمت ہے۔‘‘ پھر آپ ﷺ نے روتے ہوئے فرمایا:’’آنکھ اشکبار اور دل غمزدہ ہے، لیکن ہم کو زبان سے وہی کہنا ہے جس سے ہمارا مالک راضی ہو۔ اے ابراہیم! ہم تیری جدائی سے یقیناً غمگین ہیں۔‘‘ اس روایت کو موسیٰ نے سلیمان بن مغیرہ سے بھی بیان کیا ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:1303]
حدیث حاشیہ:
(1)
ابو سیف کا نام براء بن اوس انصاری ہے۔
ان کی بیوی ام بردہ خولہ بنت منذر نے حضرت ابراہیم ؓ کو دودھ پلایا۔
ان کی وفات 10 ربیع الاول 10 ہجری کو ہوئی جبکہ ان کی پیدائش ماہ ذوالحجہ 8 ہجری ہے، اس طرح وہ ڈیڑھ سال زندہ رہے۔
ان کی وفات پر رسول اللہ ﷺ کا آبدیدہ ہونا شفقت و رحمت کی وجہ سے تھا، جزع و فزع اس کی قطعا بنیاد نہ تھی۔
(2)
اس سے معلوم ہوا کہ محض رونے میں کوئی حرج نہیں، جبکہ اس کے ساتھ واویلا نہ ہو، چنانچہ ایک روایت میں اس کی وضاحت ہے کہ مجھے دو آوازوں سے منع کیا گیا: ایک تو لہو و لعب اور موسیقی کے ساتھ گاتے ہوئے آواز نکالنا اور دوسرے مصیبت کے وقت رونا دھونا، منہ نوچنا اور گریبان پھاڑنا۔
رہا مصیبت کے وقت آبدیدہ ہونا تو یہ اللہ کی رحمت ہے۔
جو شخص ایسے حالات میں کسی پر رحم کا اظہار نہیں کرتا، اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔
(فتح الباري: 222/3)
موسیٰ بن اسماعیل تبوذ کی روایت کو امام بیہقی ؒ نے اپنی کتاب دلائل النبوۃ میں متصل سند سے بیان کیا ہے، لیکن اس کے الفاظ میں معمولی سا اختلاف ہے۔
(فتح الباري: 223/3)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1303 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 3126 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´میت پر رونا۔`
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آج رات میرے یہاں بچہ پیدا ہوا، میں نے اس کا نام اپنے والد ابراہیم کے نام پر رکھا ، اس کے بعد راوی نے پوری حدیث بیان کی، انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اس بچے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا دیکھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو بہہ پڑے، آپ نے فرمایا: آنکھ آنسو بہا رہی ہے، دل غمگین ہے ۱؎، اور ہم وہی کہہ رہے ہیں جو ہمارے رب کو پسند آئے، اے ابراہیم! ہم تمہاری جدائی سے غمگین ہیں ۲؎۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3126]
فوائد ومسائل:
معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ صاحب اختیار نہ تھے۔
بلکہ اللہ کی بارگاہ میں بالکل بے اختیار عاجز اور اللہ کی رضا پر راضی رہنے والے بندے اور رسولﷺ تھے۔
آپﷺ کا یہ اسوہ حسنۃ ہر مسلمان کےلئے قابل اتباع ہے۔
اس میں غم کا فطری اظہار بھی ہے اور یہ رب کے فیصلے پر تسلیم ورضا کا آئینہ دار بھی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3126 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔