صحيح البخاري
كتاب الجنائز— کتاب: جنازے کے احکام و مسائل
بَابُ مَا يُنْهَى مِنَ الْحَلْقِ عِنْدَ الْمُصِيبَةِ: باب: غمی کے وقت سر منڈوانے کی ممانعت۔
وَقَالَ الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرٍ أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُخَيْمِرَةَ حَدَّثَهُ , قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو بُرْدَةَ بْنُ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : وَجِعَ أَبُو مُوسَى وَجَعًا شَدِيدًا فَغُشِيَ عَلَيْهِ وَرَأْسُهُ فِي حَجْرِ امْرَأَةٍ مِنْ أَهْلِهِ فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَرُدَّ عَلَيْهَا شَيْئًا , فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ : أَنَا بَرِيءٌ مِمَّنْ بَرِئَ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَرِئَ مِنْ : الصَّالِقَةِ , وَالْحَالِقَةِ , وَالشَّاقَّةِ´اور حکم بن موسیٰ نے بیان کیا کہ ہم سے یحییٰ بن حمزہ نے بیان کیا ، ان سے عبدالرحمٰن بن جابر نے کہ قاسم بن مخیمرہ نے ان سے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابوبردہ بن ابوموسیٰ نے بیان کیا کہ` ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیمار پڑے ‘ ایسے کہ ان پر غشی طاری تھی اور ان کا سر ان کی ایک بیوی ام عبداللہ بنت ابی رومہ کی گود میں تھا ( وہ ایک زور کی چیخ مار کر رونے لگی ) ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ اس وقت کچھ بول نہ سکے لیکن جب ان کو ہوش ہوا تو انہوں نے فرمایا کہ میں بھی اس کام سے بیزار ہوں جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیزاری کا اظہار فرمایا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( کسی غم کے وقت ) چلا کر رونے والی ‘ سر منڈوانے والی اور گریبان چاک کرنے والی عورتوں سے اپنی بیزاری کا اظہار فرمایا تھا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
«. . . إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَرِئَ مِنْ: الصَّالِقَةِ , وَالْحَالِقَةِ , وَالشَّاقَّةِ . . .»
”. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (کسی غم کے وقت) چلا کر رونے والی ‘ سر منڈوانے والی اور گریبان چاک کرنے والی عورتوں سے اپنی بیزاری کا اظہار فرمایا تھا . . .“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجَنَائِزِ: 1296]
«الصَّالِقَةِ» مصیبت کے وقت بلند آوازیں نکالنے والی۔
«الْحَالِقَةِ» مصیبت کے وقت سر منڈوانے والی۔
«الشَّاقَّةِ» مصیبت کے وقت کپڑے پھاڑنے والی۔
فہم الحدیث:
معلوم ہوا کہ مصیبت کے وقت چیخ و پکار کرنے والی عورتوں سے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا کوئی تعلق نہیں۔ ایک روایت میں ہے کہ نوحہ خوانی جاہلیت کا کام ہے اور اگر نوحہ کرنے والی عورت توبہ کیے بغیر مر جائے تو اسے روز قیامت گندھک کی شلوار اور خارش کی قمیص پہنائی جائے گی۔ [مسلم: كتاب الجنائز: 934]
(1)
مجبوری یا ضرورت کے پیش نظر سر منڈوانا جائز ہے لیکن مصیبت کے وقت ماتم و نوحے کے طور پر سر منڈوانے سے اگرچہ انسان دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوتا، لیکن قابل براءت اور لائقِ نفرت امر ضرور ہے اور یہی یہاں مقصود ہے۔
آج بھی ہمارے ہاں بعض قبائل بالخصوص کفار ہند میں اس کا رواج ہے۔
(2)
واضح رہے کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ کو جب غشی کا دورہ پڑا تو وہ حضرت عمر ؓ کی طرف سے بصرہ کے گورنر تھے۔
اس روایت میں عورتوں سے خطاب ہے۔
صحیح مسلم میں بصیغہ تذکیر یہ حدیث مروی ہے کہ میں ہر اس شخص سے بے زار ہوں جو مصیبت کے وقت سر منڈوائے، چلا کر روئے اور گریبان پھاڑے۔
(صحیح مسلم، الإیمان، حدیث: 288 (104)
، و فتح الباري: 212/3)