صحيح البخاري
كتاب الجنائز— کتاب: جنازے کے احکام و مسائل
بَابُ إِحْدَادِ الْمَرْأَةِ عَلَى غَيْرِ زَوْجِهَا: باب: عورت کا اپنے خاوند کے سوا اور کسی پر سوگ کرنا کیسا ہے؟
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى , قَالَ : أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ , قَالَتْ : " لَمَّا جَاءَ نَعْيُأَبِي سُفْيَانَ مِنْ الشَّأْمِ دَعَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا بِصُفْرَةٍ فِي الْيَوْمِ الثَّالِثِ ، فَمَسَحَتْ عَارِضَيْهَا وَذِرَاعَيْهَا , وَقَالَتْ : إِنِّي كُنْتُ عَنْ هَذَا لَغَنِيَّةً لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ ، إِلَّا عَلَى زَوْجٍ فَإِنَّهَا تُحِدُّ عَلَيْهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا " .´ہم سے عبداللہ بن زبیر حمیدی نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے ایوب بن موسیٰ نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ مجھے حمید بن نافع نے زینب بنت ابی سلمہ سے خبر دی کہ` ابوسفیان رضی اللہ عنہ کی وفات کی خبر جب شام سے آئی تو ام حبیبہ رضی اللہ عنہا ( ابوسفیان رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی اور ام المؤمنین ) نے تیسرے دن ” صفرہ “ ( خوشبو ) منگوا کر اپنے دونوں رخساروں اور بازوؤں پر ملا اور فرمایا کہ اگر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ نہ سنا ہوتا کہ کوئی بھی عورت جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو اس کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ شوہر کے سوا کسی کا سوگ تین دن سے زیادہ منائے اور شوہر کا سوگ چار مہینے دس دن کرے ۔ تو مجھے اس وقت اس خوشبو کے استعمال کی ضرورت نہیں تھی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
قال بن حجر: هو وهم لأنه مات بالمدینة بلا خلاف وإنما الذي مات بالشام أخوها یزید بن أبي سفیان والحدیث في مسندي ابن أبي شیبة والدارمي بلفظ جاء نعي لأخي أم حبیبة أوحمیم لها ولأحمد نحوہ فقوی کونه أخاها۔
یعنی علامہ ابن حجرؒ نے کہا کہ یہ وہم ہے۔
اس لیے کہ ابوسفیان ؓ کا انتقال بلا اختلاف مدینہ میں ہوا ہے۔
شام میں انتقال کرنے والے ان کے بھائی یزید بن ابی سفیان تھے۔
مسند ابن ابی شیبہ اور دارمی اورمسند احمد وغیرہ میں یہ وضاحت موجود ہے۔
اس حدیث سے ظاہر ہوا کہ صرف بیوی اپنے خاوند پر چار ماہ دس دن سوگ کرسکتی ہے اور کسی بھی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرنا جائز نہیں ہے۔
بیوی کے خاوند پر اتنا سوگ کرنے کی صورت میں بھی بہت سے اسلامی مصالح پیش نظر ہیں۔
پس ان کو اللہ سے ڈر کر اپنے ایمان کی خیر منانی چاہیئے۔
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ شوہر کے علاوہ کسی بھی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منانا حرام ہے۔
ایسی عورتیں ایمان سے محروم ہیں جو اس حکم کی خلاف ورزی کرتی ہیں۔
(2)
عنوان میں عدت کا ذکر تھا اور اس حدیث میں ہے کہ عدت گزارنے والی عورت حدیث میں بتائے ہوئے طریقے کے مطابق عدت کے ایام پورے کرے، اس کی خلاف ورزی کر کے خود کو ایمان سے محروم نہ کرے۔
(عمدة القاري: 357/14)
ام المؤمنین ام حبیبہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی منبر سے فرماتے ہوئے سنا: ” کسی عورت کے لیے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتی ہو کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منانا حلال نہیں ہے سوائے شوہر کے، اس (کے مرنے) پر چار ماہ دس دن سوگ منائے گی۔“ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3557]
زینب بنت ابی سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے انہوں نے یہ (آنے والی) تین حدیثیں بیان کیں: ۱- زینب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے والد ابوسفیان بن حرب رضی اللہ عنہ کا جب انتقال ہو گیا تو میں ان کے پاس (تعزیت میں) گئی، (میں نے دیکھا کہ) انہوں نے خوشبو منگوائی، (پہلے) لونڈی کو لگائی پھر اپنے دونوں گالوں پر ملا پھر یہ بھی بتا دیا کہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3563]
(2) ”کوئی ضرورت نہ تھی“ کیونکہ میرا خاوند تو فوت ہو چکا ہے‘نیز تین دن سوگ کے بعد خوشبو لگانا ضروری بھی نہیں البتہ سوگ کا شبہ ختم کرنے کے لیے خوشبو وغیرہ لگا لینا مستحب ہے(مزید تفصیل کے لیے دیکھیے حدیث نمبر 3531‘3532۔