مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 1256
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , قَالَتْ : " لَمَّا غَسَّلْنَا بِنْتَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَنَا وَنَحْنُ نَغْسِلُهَا : ابْدَأَنَ بِمَيَامِنِهَا وَمَوَاضِعِ الْوُضُوءِ " .
مولانا داود راز

´ہم سے یحییٰ بن موسیٰ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے وکیع نے بیان کیا ، ان سے سفیان نے ، ان سے خالد حذاء نے ، ان سے حفصہ بنت سیرین نے اور ان سے ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی کو ہم غسل دے رہی تھیں ۔ جب ہم نے غسل شروع کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ غسل دائیں طرف سے اور اعضاء وضو سے شروع کرو ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الجنائز / حدیث: 1256
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
1256. حضرت ام عطیہ ؓ سے روایت ہے،انھوں نے کہا:جب ہم رسول اللہ ﷺ کی لخت جگر کو غسل دینے لگیں تو آپ نے فرمایا: ’’اس کے دائیں اطراف اور وضو کے مقامات سے غسل شروع کرو۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:1256]
حدیث حاشیہ: اس سے معلوم ہوا کہ پہلے استنجا وغیرہ کرا کے وضو کرایا جائے اور کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا بھی ثابت ہوا پھر غسل دلایا جائے اور غسل دائیں طرف سے شروع کیا جائے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1256 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
1256. حضرت ام عطیہ ؓ سے روایت ہے،انھوں نے کہا:جب ہم رسول اللہ ﷺ کی لخت جگر کو غسل دینے لگیں تو آپ نے فرمایا: ’’اس کے دائیں اطراف اور وضو کے مقامات سے غسل شروع کرو۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:1256]
حدیث حاشیہ:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ غسل سے پہلے میت کو وضو کرانا چاہیے، نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ پہلے استنجا وغیرہ کرایا جائے اور وضو میں کلی کرانا اور اس کے ناک میں پانی ڈالنا بھی مستحب ہے اور یہ وضو، غسل کا ایک حصہ ہے۔
(فتح الباري: 168/3)
وضو کراتے وقت اس کے منہ اور ناک میں پانی ڈالنا کیونکر ممکن نہیں ہوتا، اس لیے ان کو روئی وغیرہ سے صاف کیا جائے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1256 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔