مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 1255
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَسْلِ ابْنَتِهِ : " ابْدَأْنَ بِمَيَامِنِهَا وَمَوَاضِعِ الْوُضُوءِ مِنْهَا " .
مولانا داود راز

´ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے اسماعیل بن ابراہیم نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے خالد نے بیان کیا ، ان سے حفصہ بنت سیرین نے اور ان سے ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی کے غسل کے وقت فرمایا تھا کہ دائیں طرف سے اور اعضاء وضو سے غسل شروع کرنا ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الجنائز / حدیث: 1255
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
1255. حضرت ام عطیہ ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے اپنی صاحبزادی کو غسل دینے کے متعلق فرمایا: ’’ان کی دائیں اطراف اور وضو کے مقامات سے غسل کا آغاز کریں۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:1255]
حدیث حاشیہ: ہر اچھاکام دائیں طرف سے شروع کرنا مشروع ہے اور اس بارے میں کئی احادیث وارد ہوئی ہیں
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1255 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
1255. حضرت ام عطیہ ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے اپنی صاحبزادی کو غسل دینے کے متعلق فرمایا: ’’ان کی دائیں اطراف اور وضو کے مقامات سے غسل کا آغاز کریں۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:1255]
حدیث حاشیہ:
حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہر اچھے کام کو دائیں ہاتھ سے شروع کرتے تھے اور آپ کو دائیں جانب پسند ہوتی تھی۔
امام بخاری ؒ نے عنوان مطلق رکھا ہے تاکہ غیر غسل کو غسل پر قیاس کیا جا سکے۔
حدیث میں دائیں اطراف اور مقامات وضو کا ذکر ہے۔
ان دونوں میں منافات نہیں کیونکہ بعض اوقات دائیں اطراف اور مقامات وضو کو بیک وقت بھی دھویا جا سکتا ہے، پھر جو اعضاء وضو میں نہیں دھوئے جاتے غسل کے وقت ان کی دائیں جانب کو دھویا جائے۔
دراصل امام بخاریؒ، ابو قلابہ کی تردید کرنا چاہتے ہیں جن کا موقف ہے کہ میت کو غسل دیتے وقت پہلے سر پھر داڑھی سے آغاز کیا جائے۔
(فتح الباري: 168/3)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1255 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔