صحيح البخاري
كتاب الجنائز— کتاب: جنازے کے احکام و مسائل
بَابُ الرَّجُلِ يَنْعَى إِلَى أَهْلِ الْمَيِّتِ بِنَفْسِهِ: باب: آدمی اپنی ذات سے موت کی خبر میت کے وارثوں کو سنا سکتا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَخَذَ الرَّايَةَ زَيْدٌ فَأُصِيبَ ، ثُمَّ أَخَذَهَا جَعْفَرٌ فَأُصِيبَ ، ثُمَّ أَخَذَهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ فَأُصِيبَ ، وَإِنَّ عَيْنَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَتَذْرِفَانِ ، ثُمَّ أَخَذَهَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ مِنْ غَيْرِ إِمْرَةٍ فَفُتِحَ لَهُ " .´ہم سے ابومعمر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا ، ان سے ایوب نے ، ان سے حمید بن بلال نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ زید نے جھنڈا سنبھالا لیکن وہ شہید ہو گئے ۔ پھر جعفر نے سنبھالا اور وہ بھی شہید ہو گئے ۔ پھر عبداللہ بن رواحہ نے سنبھالا اور وہ بھی شہید ہو گئے ۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں میں آنسو بہ رہے تھے ۔ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ) اور پھر خالد بن ولید نے خود اپنے طور پر جھنڈا اٹھا لیا اور ان کو فتح حاصل ہوئی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
مسلمان تین ہزار تھے اور کافر بے شمار، آپ ﷺ نے زید بن حارثہ کو امیر لشکر بنایا تھا اور فرما دیا تھا کہ اگر زید شہید ہو جائیں تو ان کی جگہ حضرت جعفر ؓ قیادت کریں اگر وہ بھی شہید ہو جائیں تو پھر عبد اللہ بن رواحہ۔
یہ تینوں سردارشہید ہوئے۔
پھر حضرت خالد بن ولید ؓ نے (از خود)
کمان سنبھالی اور (اللہ نے ان کے ہاتھ پر)
کافروں کو شکست فاش دی، نبی کریم ﷺ نے لشکر کے لوٹنے سے پہلے ہی سب خبریں لوگوں کو سنا دیں۔
اس حدیث میں حضور ﷺ کے کئی معجزات بھی مذکور ہوئے ہیں۔
(1)
حدیث میں نعي سے منع کیا گیا ہے جس سے مراد موت کی اطلاع دینا یا اعلان کرنا ہے۔
حضرت حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ موت کے لیے اعلان کرنے سے منع فرمایا کرتے تھے۔
(مسند أحمد: 406/5)
حضرت حذیفہ ؓ نے فرمایا تھا کہ جب میں فوت ہو جاؤں تو میرے بارے میں کسی کو اطلاع نہ دی جائے، کیونکہ ایسا کرنے سے نعي کا اندیشہ ہے جس سے رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے۔
(جامع الترمذي، الجنائز، حدیث: 986)
لیکن شریعت نے جس نعي سے منع فرمایا ہے وہ اہل جاہلیت کی نعي تھی جس میں لوگ موت کی اطلاع دینے والوں کو بھیجتے جو گھروں کے دروازوں اور بازاروں میں اعلان کرتے جس میں نوحہ اور میت کے افعال حمیدہ کا بیان ہوتا۔
امام بخاری ؒ جس اطلاع وغیرہ کا جواز ثابت کر رہے ہیں اس کا جاہلیت کی نعي سے کوئی تعلق نہیں۔
(2)
متعدد احادیث سے موت کے اعلان کے متعلق تین حالتیں اخذ کی جا سکتی ہیں: ٭ گھر والوں، ساتھیوں، عزیز و اقارب اور اہل صلاح کو اطلاع دینا سنت ہے۔
٭ تکبر و ریاء اور فخر کے لیے بڑی جماعت کو اطلاع دینا ناپسندیدہ عمل ہے۔
٭ ایسی اطلاع جس میں نوحہ یا اس کی مثل کوئی کام ہو حرام اور خلاف شریعت ہے۔
نوحے سے مراد یہ ہے کہ مرنے والے کے اوصاف و شمائل کو گن گن کر بآواز بلند بیان کرنا، رونا، پیٹنا اور عمدہ کارناموں کو یاد کر کے چیخ پکار کرنا۔
(3)
اس حدیث سے امام بخاری ؒ نے ثابت کیا ہے کہ میت کے عزیز و اقارب کو موت کی خبر دینا منع نہیں، خود رسول اللہ ﷺ نے حضرت زید، حضرت جعفر اور حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓ کی شہادت کے متعلق ان کے اہل خانہ اور دینی تعلق داروں کو مطلع کیا تھا۔
(فتح الباري: 151/3) (4)
حضرت خالد بن ولید ؓ کو رسول اللہ ﷺ نے فوج کی کمان کرنے کا حکم نہیں دیا تھا اس کے باوجود انہوں نے فوج کی کمان کو سنبھالا اور کافروں کی شکست فاش سے دوچار کیا۔
سنگین حالات کے پیش نظر ایسا کرنا جائز ہے۔
1۔
یہ غزوہ موتہ کا واقعہ ہے جو جمادی الاولیٰ8 ہجری میں ہوا۔
اسلام پر اگر ایسا نازک وقت آجائے کہ میدان جنگ مسلمانوں کے ہاتھوں سے نکل رہا ہو اور مسلم قیادت بھی ختم ہو رہی ہو تو کوئی صاحب بصیرت اور جنگی اسرار و رموز سے واقف آدمی فوری طور پر کمان ہاتھ میں لے لے تو یہ جائز ہے جیسا کہ جنگ موتہ میں تینوں سپہ سالاروں کی شہادت کے بعد حجرت خالدبن ولید ؓنے خود بخود جھنڈا اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا جبکہ گھمسان کی جنگ جاری تھی اور مسلمانوں کا دشمن سے سخت مقابلہ جاری تھا اگر ایسے حالات میں کوئی بھی جھنڈا نہ اٹھاتا تو دشمن غالب آجاتا اور مسلمانوں کی طاقت کو ایسا ناقابل تلافی دھچکا لگتا جو کسی صورت میں اچھا نہ تھا۔
2۔
رسول اللہ ﷺ نے اس عمل کی نہ صرف تصویب فرمائی بلکہ حضرت خالد بن ولید ؓ کو اللہ تعالیٰ کی تلوار قراردیا اور صحابہ کرام ؓ کو ان کے ہاتھوں فتح کی نوید سنائی۔
اس سے اسلام کا نظام امارت مجروح نہیں ہو تا بلکہ اس کے جامع اور وسعت پذیر ہونے کی دلیل ہے کہ ایسے سنگین اور ہنگامی حالات میں ایک عمدہ اور قابل قبول حل کی نشاندہی کی گئی ہے۔
واللہ أعلم۔
1۔
رسول اللہ ﷺ نے حضرت خالد بن ولید ؓ کو اللہ کی تلوار قراردیا۔
واقعی یہ اللہ کی تلوار ہی تھے،جہاں بھی گئے وہاں فتح ونصرت نے ان کے قدم چومے۔
رسول اللہ ﷺ نے آپ کے لیے ان الفاظ میں دعا فرمائی: ’’اے اللہ! یہ تیری تلواروں میں سے ایک تلوار ہے تو اس کی مدد فرما۔
‘‘ (مسند احمد: 8/1)
2۔
حدیث میں مذکورہ واقعہ غزوہ موتہ کا ہے۔
(طبقات ابن سعد: 395/7)
زید بن حارثہ ؓ کو اس کا سردار مقرر کیا‘ فرمایا اگر وہ شہید ہو جائیں تو جعفر ؓ کو سردار بنانا‘ اگر وہ بھی شہید ہو جائیں تو عبداللہ بن رواحہ ؓ کو۔
اتفاق سے یکے بعد دیگرے یہ تینوں سردار شہید ہوگئے اور خالد بن ولید ؓ نے آخر میں افسری جھنڈا اٹھا لیا تاکہ مسلمان ہمت نہ ہاریں کیونکہ لڑائی سخت ہو رہی تھی۔
گو ان کے لئے آنحضرتﷺ نے کچھ نہیں فرمایا تھا۔
آپؐ کافروں سے یہاں تک لڑے کہ اللہ نے آپ کے ذریعہ اسلام کے لشکر کو فتح نصیب فرمائی۔
دوسری روایت میں ہے کہ آپ نے خوش ہو کر خالد کے حق میں فرمایا کہ وہ اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے۔
مزید تفصیلات جنگ موتہ کے ذکر میں آئیں گی۔
1۔
جب شہداء نے شہادت کے باعث اللہ کے ہاں کرامت وعظمت کو دیکھاتو انھیں یہ پسند نہ تھا کہ وہ دنیا میں واپس آئیں۔
اس حدیث میں نبوت کی دلیل ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مذکورہ حضرات کے متعلق شہادت کی خبر دی جبکہ آپ اس وقت مدینہ طیبہ میں تشریف فرماتھے۔
2۔
حضرت خالد بن ولید ؓ نے جب دیکھا کہ یہ حضرات شہید ہوگئے ہیں تو انھوں نے خیال کیا کہ اگر مسلمان اسی حال میں رہے تو ہلاک ہوجائیں گے اور قوت اسلام کو زبردست دھچکا لگے گا تو انہوں نے خود بخود افسری جھنڈا اپنے ہاتھ میں لے لیا تاکہ مسلمان ہمت نہ ہاریں،پھر زبردست حملہ کیا حتی کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں فتح سے ہمکنار کیا اور رسول اللہ ﷺ بھی اس فعل سے راضی ہوگئے،حالانکہ آپ نے انھیں امیر نامزد نہیں کیا تھا اور نہ لشکر میں سے کسی نے ان کی بیعت ہی کی تھی۔
3۔
اس سے معلوم ہوا کہ ضرورت کے وقت شرعی احکام کی شرائط میں نرمی کی جاسکتی ہے۔
واللہ أعلم۔