صحيح البخاري
كتاب الجنائز— کتاب: جنازے کے احکام و مسائل
بَابٌ في الْجَنَائِزِ، وَمَنْ كَانَ آخِرُ كَلاَمِهِ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ: باب: جنازوں کے باب میں جو حدیثیں آئی ہیں ان کا بیان اور جس شخص کا آخری کلام لا الہٰ الا اللہ ہو، اس کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا وَاصِلٌ الْأَحْدَبُ ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَتَانِي آتٍ مِنْ رَبِّي فَأَخْبَرَنِي أَوْ قَالَ بَشَّرَنِي أَنَّهُ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ , قُلْتُ : وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ ، قَالَ : وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ " .´ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے مہدی بن میمون نے ، کہا کہ ہم سے واصل بن حیان احدب ( کبڑے ) نے ، ان سے معرور بن سوید نے بیان کیا اور ان سے ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( کہ خواب میں ) میرے پاس میرے رب کا ایک آنے والا ( فرشتہ ) آیا ۔ اس نے مجھے خبر دی ، یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ اس نے مجھے خوشخبری دی کہ میری امت میں سے جو کوئی اس حال میں مرے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس نے کوئی شریک نہ ٹھہرایا ہو تو وہ جنت میں جائے گا ۔ اس پر میں نے پوچھا اگرچہ اس نے زنا کیا ہو ، اگرچہ اس نے چوری کی ہو ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں اگرچہ زنا کیا ہو اگرچہ چوری کی ہو ۔
تشریح، فوائد و مسائل
«. . . عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتَانِي آتٍ مِنْ رَبِّي فَأَخْبَرَنِي أَوْ قَالَ بَشَّرَنِي أَنَّهُ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ , قُلْتُ: وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ، قَالَ: وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ " . . . .»
”. . . ان سے ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (کہ خواب میں) میرے پاس میرے رب کا ایک آنے والا (فرشتہ) آیا۔ اس نے مجھے خبر دی، یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ اس نے مجھے خوشخبری دی کہ میری امت میں سے جو کوئی اس حال میں مرے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس نے کوئی شریک نہ ٹھہرایا ہو تو وہ جنت میں جائے گا۔ اس پر میں نے پوچھا اگرچہ اس نے زنا کیا ہو، اگرچہ اس نے چوری کی ہو؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں اگرچہ زنا کیا ہو اگرچہ چوری کی ہو . . .“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجَنَائِزِ/بَابٌ في الْجَنَائِزِ، وَمَنْ كَانَ آخِرُ كَلاَمِهِ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ:: 1237]
ان احادیث میں یہ دلیل موجود ہے کہ کبیرہ گناہوں کے مرتکب ابدی جہنمی نہیں ہیں بلکہ وہ اگر جہنم میں داخل ہو بھی گئے تو اپنے گناہوں کی سزا پا کر بالآخر جنت میں داخل ہو جائیں گے۔
اس واسطے کتاب اللباس میں ابو ذر ؓ کی حدیث کے آخر میں ہے کہ ابو عبداللہ امام بخاری کہتے ہیں کہ یہ حدیث موت کے وقت کے لیے ہے یااس سے پہلے جب توبہ کرے اور نادم ہو۔
وہیب کے اثر کو مؤلف نے اپنی تاریخ میں موصولاً روایت کیا ہے اور ابو نعیم نے حلیۃ میں (فتح الباري)