حدیث نمبر: 1235
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ , قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا الثَّوْرِيُّ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ فَاطِمَةَ , عَنْ أَسْمَاءَ , قَالَتْ : " دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَهِيَ تُصَلِّي قَائِمَةً وَالنَّاسُ قِيَامٌ ، فَقُلْتُ : مَا شَأْنُ النَّاسِ ، فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا إِلَى السَّمَاءِ , فَقُلْتُ : آيَةٌ ، فَقَالَتْ بِرَأْسِهَا : أَيْ نَعَمْ " .
مولانا داود راز

´ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا ، ان سے سفیان ثوری نے ، ان سے ہشام بن عروہ نے ، ان سے فاطمہ بنت منذر نے اور ان سے اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ` میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی ۔ اس وقت وہ کھڑی نماز پڑھ رہی تھیں ۔ لوگ بھی کھڑے نماز پڑھ رہے تھے ۔ میں نے پوچھا کہ کیا بات ہوئی ؟ تو انہوں نے سر سے آسمان کی طرف اشارہ کیا ۔ میں نے پوچھا کہ کیا کوئی نشانی ہے ؟ تو انہوں نے اپنے سر کے اشارے سے کہا کہ ہاں ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب السهو / حدیث: 1235
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
1235. حضرت اسماء ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں حضرت عائشہ‬ ؓ ک‬ے پاس گئی جبکہ وہ کھڑی نماز پڑھ رہی تھیں اور لوگ بھی کھڑے نماز پڑھ رہے تھے۔ میں نے پوچھا: لوگوں کا کیا ماجرا ہے؟ تو انہوں نے اپنے سر سے آسمان کی طرف اشارہ فرمایا۔ میں نے کہا: (قدرت کی) کوئی نشانی ہے؟ انہوں نے پھر اپنے سر سے اشارہ کر کے فرمایا: ہاں۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:1235]
حدیث حاشیہ: اس روایت سے بھی بحالت نماز اشارہ کرنا ثابت ہوا
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1235 سے ماخوذ ہے۔