صحيح البخاري
كتاب العمل في الصلاة— کتاب: نماز کے کام کے بارے میں
بَابُ إِذَا انْفَلَتَتِ الدَّابَّةُ فِي الصَّلاَةِ: باب: اگر آدمی نماز میں ہو اور اس کا جانور بھاگ پڑے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةً : " خَسَفَتِ الشَّمْسُ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَرَأَ سُورَةً طَوِيلَةً ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ، ثُمَّ اسْتَفْتَحَ بِسُورَةٍ أُخْرَى ، ثُمَّ رَكَعَ حَتَّى قَضَاهَا وَسَجَدَ ، ثُمَّ فَعَلَ ذَلِكَ فِي الثَّانِيَةِ ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَصَلُّوا حَتَّى يُفْرَجَ عَنْكُمْ ، لَقَدْ رَأَيْتُنِي فِي مَقَامِي هَذَا كُلَّ شَيْءٍ وُعِدْتُهُ ، حَتَّى لَقَدْ رَأَيْتُ أُرِيدُ أَنْ آخُذَ قِطْفًا مِنَ الْجَنَّةِ حِينَ رَأَيْتُمُونِي جَعَلْتُ أَتَقَدَّمُ ، وَلَقَدْ رَأَيْتُ جَهَنَّمَ يَحْطِمُ بَعْضُهَا بَعْضًا حِينَ رَأَيْتُمُونِي تَأَخَّرْتُ ، وَرَأَيْتُ فِيهَا عَمْرَو بْنَ لُحَيٍّ وَهُوَ الَّذِي سَيَّبَ السَّوَائِبَ " .´ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا ، کہا کہ ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ، کہا کہ ہم کو یونس نے خبر دی ، انہیں زہری نے ، ان سے عروہ نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتلایا کہ` جب سورج گرہن لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( نماز کے لیے ) کھڑے ہوئے اور ایک لمبی سورت پڑھی ۔ پھر رکوع کیا اور بہت لمبا رکوع کیا ۔ پھر سر اٹھایا اس کے بعد دوسری سورت شروع کر دی ، پھر رکوع کیا اور رکوع پورا کر کے اس رکعت کو ختم کیا اور سجدے میں گئے ۔ پھر دوسری رکعت میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح کیا ، نماز سے فارغ ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ۔ اس لیے جب تم ان میں گرہن دیکھو تو نماز شروع کر دو جب تک کہ یہ صاف ہو جائے اور دیکھو میں نے اپنی اسی جگہ سے ان تمام چیزوں کو دیکھ لیا ہے جن کا مجھ سے وعدہ ہے ۔ یہاں تک کہ میں نے یہ بھی دیکھا کہ میں جنت کا ایک خوشہ لینا چاہتا ہوں ۔ ابھی تم لوگوں نے دیکھا ہو گا کہ میں آگے بڑھنے لگا تھا اور میں نے دوزخ بھی دیکھی ( اس حالت میں کہ ) بعض آگ بعض آگ کو کھائے جا رہی تھی ۔ تم لوگوں نے دیکھا ہو گا کہ جہنم کے اس ہولناک منظر کو دیکھ کر میں پیچھے ہٹ گیا تھا ۔ میں نے جہنم کے اندر عمرو بن لحیی کو دیکھا ۔ یہ وہ شخص ہے جس نے سانڈ کی رسم عرب میں جاری کی تھی ۔ ( نوٹ : سانڈ کی رسم سے مراد کہ اونٹنی کو غیر اللہ کے نام پر چھوڑ دینا حتیٰ کہ سواری اور دودھ بھی نہ دھونا ۔ )
تشریح، فوائد و مسائل
نہ اس پر سوارہوتے اور نہ اس کا دودھ پیتے۔
یہی عمرو بن لحی عرب میں بت پرستی اور دوسری بہت سی منکرات کا بانی ہوا ہے۔
حدیث کی مطابقت ترجمہ باب سے ظاہر ہے اس لیے کہ خوشہ لینے کے لیے آپ ﷺ کا آگے بڑھنا اور دوزخ کی ہیبت کھا کر پیچھے ہٹنا حدیث سے ثابت ہو گیا اور جس کا چار پایہ چھوٹ جاتا ہے وہ اس کے تھامنے کے واسطے بھی کبھی آگے بڑھتا ہے کبھی پیچھے ہٹتا ہے۔
(فتح الباري)
خوارج ایک گروہ ہے جس نے حضرت علی ؓ کی خلافت کا انکار کیا۔
ساتھ ہی حدیث کا انکار کر کے حسنبا اللہ کتاب اللہ کا نعرہ لگایا۔
یہ گروہ بھی افراط وتفریط میں مبتلا ہو کر گمراہ ہوا۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دوران نماز میں چلنا، آگے بڑھنا اور پیچھے ہٹنا جائز ہے۔
اس سے نماز میں کوئی خرابی نہیں آتی۔
صحیح مسلم کی ایک روایت میں اس سے بھی زیادہ صراحت ہے کہ رسول اللہ ﷺ دوران نماز میں آگے بڑھے اور پیچھے آئے، چنانچہ حدیث کے الفاظ یہ ہیں: ’’میرے سامنے آگ کو لایا گیا تو میں پیچھے ہٹا مبادا اس کی تپش مجھے نقصان پہنچائے۔
پھر میرے سامنے جنت کو پیش کیا گیا جبکہ تم نے مجھے دیکھا کہ میں آگے بڑھ رہا ہوں۔
‘‘ (صحیح مسلم، الکسوف، حدیث: 2102(904)
علامہ کرمانی ؒ کو اس حدیث کی عنوان سے مطابقت قائم کرنے کے لیے بہت دور کی کوڑی لانا پڑی، فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں مطلق طور پر جانوروں کو فضول چھوڑ دینے کی مذمت ہے، خواہ نماز میں ہو یا نماز سے باہر، اس طرح عنوان سے اس کی مطابقت ثابت ہوئی، حالانکہ یہ محض تکلف ہے۔
(فتح الباري: 109/3)
پس باب کا مطلب ثابت ہوا
امام بخاری ؒ کے نزدیک لفظ کسوف اور خسوف کا اطلاق سورج اور چاند دونوں کے لیے جائز ہے۔
اس روایت کے آغاز میں لفظ خسوف اگرچہ سورج کے لیے استعمال ہوا ہے، تاہم دیگر روایات میں سورج کے لیے لفظ کسوف استعمال ہوا ہے۔
اسی طرح راوی نے روایت کے آخر میں دونوں کے لیے لفظ کسوف استعمال کیا ہے پھر لا يخسفان سے دونوں پر لفظ خسوف استعمال کیا، اس کا واضح مطلب ہے کہ دونوں الفاظ دونوں کے لیے جائز ہیں، اگرچہ عام طور پر سورج کے لیے کسوف اور چاند کے لیے خسوف بولا جاتا ہے۔
جیسا کہ آیت کریمہ میں چاند کے لیے خسوف اور روایات میں سورج کے لیے خسوف استعمال ہے۔
واللہ أعلم۔
مسلمانوں کا اس سے کیا تعلق، لیکن اس یہودیہ کے ذکر پر انہوں نے آنحضور ﷺ سے پوچھا اور آپ نے اس کا حق ہونا بتا یا۔
اسی روایت میں ہے کہ آنحضور ﷺ نے صحابہ کرام ؓ کو عذاب قبر سے پناہ مانگنے کی ہدایت فرمائی اور یہ نماز کسوف کے خطبہ کا واقعہ 9 ھ میں ہوا۔
حدیث کے آخر ی جملہ سے ترجمہ باب نکلتا ہے، اس یہودن کو شاید اپنی کتابوں سے قبر عذاب معلوم ہو گیا ہوگا۔
ابن حبان میں سے کہ آیت کریمہ میں لفظ ﴿مَعِیشَة ضَنکاً﴾ (طه: 124)
اس سے عذاب قبر مرا دہے اور حضرت علی ؓ نے کہا کہ ہم کو عذاب قبر کی تحقیق اس وقت ہوئی جب آیت کریمہ ﴿حَتّٰی زُرتُمُ المَقَابِرَ﴾ (التکاثر: 2)
نازل ہوئی اسے ترمذی نے روایت کیا ہے اور قتادہ اور ربیع نے آیت: ﴿سَنُعَذِّبُھُم مَرَّتَینِ﴾ (التوبة: 101)
کی تفسیر میں کہا کہ ایک عذاب دنیا کا اور دوسرا عذاب قبر کا مراد ہے۔
اب اس حدیث میں جو دوسری رکعت میں دون القیام الاول ہے، اس کے مطلب میں اختلاف ہے کہ دوسری رکعت کا قیام اول مراد ہے یا اگلے کل قیام مراد ہیں بعضوں نے کہا چار قیام اور چار رکوع ہیں اور ہر ایک قیام اور رکوع اپنے ما سبق سے کم ہوتا تو ثانی اول سے کم اور ثالث ثانی سے کم اور رابع ثالث سے کم۔
واللہ أعلم۔
یہ جو کسوف کے وقت عذاب قبر سے ڈرایا ا س کی مناسبت یہ ہے کہ جیسے کسوف کے وقت دنیا میں اندھیرا ہو جاتا ہے، ایسے ہی گنہگار کی قبر میں جس پر عذاب ہوگا، اندھیرا چھاجائے گا۔
اللہ تعالی پناہ میں رکھے۔
قبر کا عذاب حق ہے، حدیث اور قرآن سے ثابت ہے جو لوگ عذاب قبر سے انکار کر تے ہیں وہ قرآن وحدیث کا انکار کر تے ہیں, لہذا ان کو اپنے ایمان کے بارے میں فکرکرنا چاہیے۔
(1)
سورج گرہن کے وقت عذاب قبر سے ڈرانے میں یہ مناسبت ہے کہ جس طرح گرہن کے وقت اندھیرا چھا جاتا ہے اسی طرح بدکاروں اور گناہ گاروں کی قبروں میں بھی اندھیرا ہو گا، اس لیے سورج گرہن کے وقت اندھیرے اور قبر کی تاریکی دونوں سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہیے۔
(فتح الباري: 694/2)
حضرت عائشہ ؓ کا ذہن تھا کہ ثواب و عقاب آخرت میں ہو گا۔
پہلے انہیں عذاب قبر کے متعلق علم نہ تھا۔
رسول اللہ ﷺ کے بتانے کے بعد انہیں علم ہوا کہ عذاب قبر برحق ہے۔
ممکن ہے کہ یہودی عورت کو تورات یا پہلی کتابوں سے عذاب قبر کے متعلق معلومات حاصل ہوئی ہوں، چنانچہ حدیث میں ہے کہ جب یہودی عورت نے حضرت عائشہ ؓ سے عذاب قبر کے متعلق سوال کیا تو حضرت عائشہ نے اس کا انکار کر دیا۔
اس نے کہا کہ اپنے نبی ﷺ سے اس کے متعلق دریافت کرنا۔
رسول اللہ ﷺ جب تشریف لائے تو آپ نے اس کے متعلق سوال کیا۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’عذابِ قبر برحق ہے۔
‘‘ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ ہر نماز کے بعد عذاب قبر سے پناہ مانگتے تھے۔
(عمدة القاري: 319/5) (3)
واضح رہے کہ اس دن رسول اللہ ﷺ کے لخت جگر حضرت ابراہیم ؓ فوت ہوئے تھے۔
آپ کفن دفن کے سلسلے میں سواری پر سوار ہو کر گئے تھے۔
چاشت کے وقت نماز کسوف کا اہتمام مسجد میں کیا۔
صحیح مسلم کی روایت میں مسجد کی صراحت ہے کہ آپ نے آتے ہی مسجد کا رخ کیا اور نماز کسوف پڑھائی۔
(صحیح البخاري، الکسوف، حدیث: 1059، و صحیح مسلم، الکسوف، حدیث: 2098 (903)
اس موقع پر آنحضرت ﷺ نے عذاب قبر سے پناہ مانگنے کا حکم فرمایا۔
اس بارے میں شارحین بخاری لکھتے ہیں: لعظم ھو له وأیضا فإن ظلمة الکسوف إذا غمت الشمس تناسب ظلمة القبر والشيئ یذکر فیخاف من ھذا کما یخاف من ھذا ومما یستنبط منه أنه یدل علی أن عذاب القبر حق وأھل السنة مجمعون علی الإیمان به والتصدیق به ولا ینکرہ إلامبتدع۔
(حاشیہ بخاری)
یعنی اس کی ہولناک کیفیت کی وجہ سے آپ نے ایسا فرمایا اوراس لیے بھی کہ سورج گرہن کی کیفیت جب اس کی روشنی غائب ہو جائے قبر کے اندھیرے سے مناسبت رکھتی ہے۔
اسی طرح ایک چیز کا ذکر دوسری چیز کے ذکر کی مناسبت سے کیا جاتا ہے اوراس سے ڈرایا جاتا ہے اور اس سے ثابت ہوا کہ قبر کا عذاب حق ہے اور جملہ اہل سنت کا یہ متفقہ عقیدہ ہے جو عذاب قبر کا انکار کرے وہ بدعتی ہے۔
(انتهیٰ)
(1)
اس حدیث میں اگرچہ نماز کسوف مسجد میں ادا کرنے کی صراحت نہیں، لیکن حجروں کے درمیان سے گزر کر آپ مسجد ہی میں تشریف لائے ہیں۔
جیسا کہ صحیح مسلم میں ہے کہ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا: میں دیگر عورتوں کے ہمراہ حجروں کے درمیان سے ہوتی ہوئی مسجد میں آئی اور رسول اللہ ﷺ اپنی سواری سے اتر کر سیدھے وہاں آئے جہاں آپ نماز پڑھتے تھے۔
(صحیح مسلم، الکسوف، حدیث: 2088(903) (2)
صحیح بات یہ ہے کہ نماز کسوف مسجد میں ادا کرنا مسنون ہے۔
اگر یہ عمل مسجد میں ادا کرنا مسنون نہ ہوتا تو اسے کھلے میدان میں ادا کرنا زیادہ مناسب تھا، کیونکہ اس سے سورج کے روشن ہونے کا جلدی پتہ چل جاتا ہے۔
(فتح الباري: 702/2)
واللہ أعلم۔
خدا جانے ان کویہ فرق کرنے کی ضرورت کیسے محسوس ہوئی کہ سورج گرہن میں تو نماز با جماعت جائز ہو اور چاند گرہن میں ناجائز۔
اس فرق کے لیے کوئی واضح دلیل ہونی چاہیے تھی بہر حال خیال اپنااپنا نظر اپنی اپنی۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گرہن کی نماز پڑھی اور اس میں آپ نے بلند آواز سے قرأت کی۔ [سنن ترمذي/أبواب السفر/حدیث: 563]
نوٹ:
(متابعت کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی سفیان بن حسین امام زہری سے روایت میں ضعیف ہیں۔
دیکھیے صحیح أبی داود: 1074)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ سورج گرہن لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو حکم دیا تو اس نے اعلان کیا کہ نماز (کسوف) جماعت سے ہو گی۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1190]
نماز کسوف کے لئے اعلان عام تو مستحب ہے، مگر معروف اذان و اقامت نہیں ہے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لمبی قرآت کی اور اس میں جہر کیا یعنی نماز کسوف میں۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1188]
مذکوہ بالا دونوں احادیث کے درمیان جمع و تطبیق یوں ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا چونکہ فاصلے پر تھیں۔ اس لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأءت صاف سن نہ سکی تھیں، آواز سنی اس لئے جانا کہ قرأءت جہراً ہو رہی ہے لیکن یہ نہ جان سکیں کہ قرأءت کیا ہو رہی ہے، اس لئے اس کا اندازہ لگایا۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سورج گرہن لگا تو آپ نکلے اور لوگوں کو نماز پڑھائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام کیا تو میں نے آپ کی قرآت کا اندازہ لگایا تو مجھے لگا کہ آپ نے سورۃ البقرہ کی قرآت کی ہے، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی، اس میں ہے: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سجدے کئے پھر کھڑے ہوئے اور لمبی قرآت کی، میں نے آپ کی قرآت کا اندازہ کیا کہ آپ نے سورۃ آل عمران کی قرآت کی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1187]
اس نماز میں قراءت حتی المقدور خوب لمبی ہونی چاہیے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن لگا تو نبی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک منادی کو حکم دیا، تو اس نے ندا دی کہ نماز کے لیے جمع ہو جاؤ، تو سب جمع ہو گئے، اور انہوں نے صف بندی کی تو آپ نے انہیں چار رکوع، اور چار سجدوں کے ساتھ، دو رکعت نماز پڑھائی۔ [سنن نسائي/كتاب الكسوف/حدیث: 1466]
➋ ’’چار رکوع“ نماز کسوف کے بارے میں زیادہ معتبر اور اوثق روایات ایک رکعت کے اندر دو رکوع کی ہیں۔ بعض محدثین نے تین، چار اور پانچ رکوع کی روایات کو بھی صحیح مان کر یہ موقف اختیار کیا ہے کہ کسوف کے وقت کے حساب سے رکوع کم و بیش کیے جا سکتے ہیں۔ دو سے پانچ تک۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ احادیث میں صرف ایک کسوف کا ذکر ہے اور وہ کشوف 28 شوال 10ھ کا ہے جس دن آپ کے فرزند ارجمند ابراہیم رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تھے کیونکہ ہر روایت میں موت و حیات کا ذکر ہے۔ اور ظاہر ہے کہ ایک نماز کسوف میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی طریقہ اختیار فرما سکتے تھے اور وہ معتبر روایات کے مطابق دو رکوع والا ہے۔ اس مسئلے کی تصفیل پیچھے ابتدائیے میں گزر چکی ہے۔ تفصیل کے لیے ابتدائیہ ملاحظہ فرمائیں۔
➌ احناف عام نماز کی طرح نماز کشوف میں بھی ہر رکعت میں ایک ہی رکوع کے قائل ہیں مگر اس طرح صحیح اور صریح کثیر روایات، یعنی بخاری و مسلم کی اعلیٰ پائے کی روایات عمل سے رہ جائیں گی اور نماز کشوف کی خصوصی علامت ختم ہو جائے گی۔ اگر عیدین میں زائد تکبیرات، جنازے میں قیام کی زائد تکبیرات اور نماز وتر میں دعائے قنوت کا اضافہ احادیث کی بنا پر ہو سکتا ہے تو صلاۃ کسوف میں انتہائی معتبر اور صحیح روایات کی بنا پر ایک رکوع کا اضافہ کیوں قابل تسلیم نہیں؟ سوچیے! ہر صحیح حدیث واجب العمل ہے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن لگا تو آپ نے وضو کیا، اور حکم دیا تو ندا دی گئی: «الصلاة جامعة» (نماز باجماعت ہو گی)، پھر آپ (نماز کے لیے) کھڑے ہوئے، تو آپ نے لمبا قیام کیا، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: تو مجھے گمان ہوا کہ آپ نے سورۃ البقرہ پڑھی، پھر آپ نے لمبا رکوع کیا، پھر آپ نے: «سمع اللہ لمن حمده» کہا، پھر آپ نے اسی طرح قیام کیا جیسے پہلے کیا تھا، اور سجدہ نہیں کیا، پھر آپ نے رکوع کیا پھر سجدہ کیا، پھر آپ کھڑے ہوئے اور آپ نے پہلے ہی کی طرح دو رکوع اور ایک سجدہ کیا، پھر آپ بیٹھے، تب سورج سے گرہن چھٹ چکا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الكسوف/حدیث: 1482]
➋ اس روایت اور روایت نمبر 1480 میں اختصار ہے کہ دو سجدوں کی تفصیل نہیں صرف سجدے کا ذکر ہے کیونکہ نماز کسوف عام نماز سے صرف رکوع میں مختلف ہے، اس لیے رکوع کی تفصیل بیان کر دی کہ وہ ایک رکعت میں دو تھے مگر سجدے تو اتفاقاً ہر نماز میں ایک رکعت میں دو ہی ہیں، لہٰذا اسے مبہم ذکر کر دیا۔ کوئی شخص بھی ایک سجدے کا قائل نہیں۔ امام صاحب نے شاید ظاہر الفاظ کے پیش نظر اسے ’’ایک اور صورت“ بنادیا، ورنہ یہ کوئی صورت نہیں، نیز ایک قول یہ بھی ہے کہ یہاں تصحیف واقع ہوئی ہے۔ اصل میں فی سجدۃ تھا، غلطی سے وسجدۃ ہو گیا یا وسجدتین سے وسجدۃ ہو گیا جو یقیناًً غلطی ہے۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیے: (ذخیرہ العقبٰی شرح سنن النسائی: 16؍433)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار سجدوں میں چھ رکوع کئے۔ اسحاق بن ابراہیم کہتے ہیں میں نے معاذ بن ہشام سے پوچھا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے نا، انہوں نے کہا: اس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الكسوف/حدیث: 1472]
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گرہن کی نماز میں قرآت بلند آواز سے کی اور دو رکعتوں میں چار رکوع اور چار سجدے کیے۔ (بخاری و مسلم) اور اس حدیث کے الفاظ مسلم کے ہیں۔ اور مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منادی کرنے والے کو بھیجا جو «الصلاة جامعة» کی عنادی کرتا تھا۔ «بلوغ المرام/حدیث: 402»
«أخرجه البخاري، الكسوف، باب الجهر با لقراءة في الكسوف، حديث:1065، ومسلم، الكسوف، باب صلاة الكسوف، حديث:901.»
تشریح: 1. اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کسوف میں قراء ت بلند آواز سے فرمائی۔
2. یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ نماز عام نمازوں کی طرح نہیں بلکہ اس میں ایک رکوع کا اضافہ ہے۔
اس روایت کی رو سے آپ ایک رکعت میں دو رکوع فرماتے۔
اور یہی موقف راجح ہے جیسا کہ تفصیل پیچھے گزر چکی ہے۔
ظاہر ہے ہر رکوع سے اٹھ کر نئے سرے سے قراء ت کی ہوگی۔
اس طرح قراء ت کا بھی اضافہ ہوا۔
3.اس کا خاص وقت مقرر و متعین نہیں ہے‘ جب سورج یا چاند کو گرہن ہوگا اسی وقت نماز پڑھی جائے گی۔
4.عام نمازوں کے لیے تو اذان مقرر ہے اور صلاۃ کسوف و خسوف کے لیے «اَلصَّلاَۃُ جَامِعَۃٌ» کہنا مشروع ہے۔
پنجگانہ نماز کے لیے یہ کہنا ثابت نہیں ہے۔