صحيح البخاري
كتاب العمل في الصلاة— کتاب: نماز کے کام کے بارے میں
بَابُ مَا يَجُوزُ مِنَ الْعَمَلِ فِي الصَّلاَةِ: باب: نماز میں کون کون سے کام درست ہیں؟
حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنَّهُ صَلَّى صَلَاةً , قَالَ : " إِنَّ الشَّيْطَانَ عَرَضَ لِي فَشَدَّ عَلَيَّ لِيَقْطَعَ الصَّلَاةَ عَلَيَّ فَأَمْكَنَنِي اللَّهُ مِنْهُ ، فَذَعَتُّهُ وَلَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أُوثِقَهُ إِلَى سَارِيَةٍ حَتَّى تُصْبِحُوا فَتَنْظُرُوا إِلَيْهِ , فَذَكَرْتُ قَوْلَ سُلَيْمَانَ عَلَيْهِ السَّلَام : رَبِّ هَبْ لِي مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي ، فَرَدَّهُ اللَّهُ خَاسِيًا " ، ثُمَّ قَالَ : النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ فَذَعَتُّهُ بِالذَّالِ أَيْ خَنَقْتُهُ وَفَدَعَّتُّهُ مِنْ قَوْلِ اللَّهِ : يَوْمَ يُدَعُّونَ سورة الطور آية 13 أَيْ يُدْفَعُونَ وَالصَّوَابُ فَدَعَتُّهُ إِلَّا أَنَّهُ كَذَا قَالَ بِتَشْدِيدِ الْعَيْنِ وَالتَّاءِ .´ہم سے محمود بن غیلان نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے شبابہ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے محمد بن زیاد نے بیان کیا ، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ` آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ایک نماز پڑھی پھر فرمایا کہ میرے سامنے ایک شیطان آ گیا اور کوشش کرنے لگا کہ میری نماز توڑ دے ۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کو میرے قابو میں کر دیا میں نے اس کا گلا گھونٹا یا اس کو دھکیل دیا ۔ آخر میں میرا ارادہ ہوا کہ اسے مسجد کے ایک ستون سے باندھ دوں اور جب صبح ہو تو تم بھی دیکھو ۔ لیکن مجھے سلیمان علیہ السلام کی دعا یاد آ گئی ” اے اللہ ! مجھے ایسی سلطنت عطا کیجیو جو میرے بعد کسی اور کو نہ ملے “ ( اس لیے میں نے اسے چھوڑ دیا ) اور اللہ تعالیٰ نے اسے ذلت کے ساتھ بھگا دیا ۔ اس کے بعد نضر بن شمیل نے کہا کہ «ذعته» ” ذال “ سے ہے ۔ جس کے معنی ہیں کہ میں نے اس کا گلا گھونٹ دیا اور «دعته» اللہ تعالیٰ کے اس قول سے لیا گیا ہے ۔ «يوم يدعون» جس کے معنی ہیں قیامت کے دن وہ دوزخ کی طرف دھکیلے جائیں گے ۔ درست پہلا ہی لفظ ہے ۔ البتہ شعبہ نے اسی طرح ” عین “ اور ” تاء “ کی تشدید کے ساتھ بیان کیا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
جب حضرت عمر ؓ سے شیطان ڈرتا ہے تو آنحضرت ﷺ کے پاس کیونکر آیا۔
آنحضرت ﷺ توحضرت عمر ؓ سے کہیں افضل ہیں۔
اس کا جواب یہ ہے کہ چورڈاکو بدمعاش کوتوال سے زیادہ ڈرتے ہیں بادشاہ سے اتنا نہیں ڈرتے، وہ یہ سمجھتے ہیں کہ بادشاہ کو ہم پر رحم آجائے گا۔
تو اس سے یہ نہیں نکلتا کہ کوتوال بادشاہ سے افضل ہے۔
اس حدیث سے امام بخاری ؒ نے یہ نکالا کہ دشمن کو دھکیلنا یا اس کو دھکا دینا اس سے نماز فاسد نہیں ہوتی۔
امام ابن قیم ؒ نے کتاب الصلوة میں اہلحدیث کا مذہب قرار دیا کہ نماز میں کھنکارنا یا کوئی گھر میں نہ ہو تو دروازہ کھول دینا، سانپ بچھو نکلے تو اس کا مارنا، سلام کا جواب ہاتھ کے اشارے سے دینا، کسی ضرورت سے آگے پیچھے سرک جانا یہ سب کام درست ہیں۔
ان سے نمازفاسد نہیں ہوتی۔
(وحیدی)
بعض نسخوں میں ثم قال النضر بن شمیل والی عبارت نہیں ہے۔
1۔
ایک روایت میں ہے کہ شیطان حضرت عمرؓ کے سائے سے بھی دم دبا کر بھاگ جاتا ہے۔
جب شیطان حضرت عمر سے ڈرتا ہے تو نبیﷺ پر حملہ آور کیوں ہوا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ چور، ڈاکو اور بدمعاش پولیس سے زیادہ ڈرتے ہیں، لیکن حاکم وقت سے خوفزدہ نہیں ہوتے، کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ بادشاہ کو ہم پر رحم آ جائے گا۔
اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ پولیس، بادشاہ سے زیادہ مقام رکھتی ہے۔
2۔
امام بخاریؒ نے اس سے یہ ثابت کیا ہے کہ دوران نماز میں دشمن کو دھکا دینا، اسے پکڑنا اس سے نماز خراب نہیں ہوتی۔
اسی طرح دوران نماز میں جوتیاں اتارنا، جمائی روکنا، بچے کا کمر پر سوار ہونا، تھوک کو جوتے سے ملنا، سانپ اور بچھو کو مارنا، تھوکنا، بچہ اٹھا کر نماز پڑھ، بہت زیادہ رونا اور پھنکارنا اس سے نماز خراب نہیں ہوتی۔
صحیح بخاری کی ایک اور روایت میں ہے کہ سرکش جن میرے سامنے آیا اور مجھ پر حملہ آور ہوا۔
(صحیح البخاري، العمل في الصلاة، حدیث: 1210)
صحیح مسلم میں ہے کہ اس نے آگ کا شعلہ میرے چہرے پر ڈالنے کی کوشش کی۔
(صحیح مسلم، المساجد، حدیث: 211 (542)
مسند احمد میں ہے کہ میں نے سے پکڑ کر زمین پر پٹخ دیا اور اتنی زور سے اس کا گلادبایا کہ اس کا لعاب دہن میرے ہاتھوں پر گرا جس کی تراوٹ مجھے محسوس ہوئی۔
(مسند أحمد: 413/1)
امام بخاری ؒ کا مقصد یہ ہےکہ کسی مقروض کو عبرت کے لیے یا کسی کافر کومصلحت کے سبب مسجد کے ستون سے باندھنا جائز ہے اور اس سے مسجد کے تقدس کی پامالی نہیں ہوتی، کیونکہ عہد رسالت میں اس طرح کے سب کام مسجد نبوی ہی میں انجام پاتے تھے۔
مقروض کومسجد میں قید کرنے کی مصلحت یہ ہے کہ مسلمان نماز کے اوقات میں جب اسے دیکھیں گے تو ممکن ہے کہ کسی کو اس پر رحم آجائے اور قرض کی ادائیگی میں اس کا ہاتھ بٹائے اور وہ خود بھی اس ندامت کے پیش نظر اپنی خفت مٹانے کے لیے جلد از جلد قرض اداکرنے کی کوشش کرے گا۔
اسی طرح کافر کو مسجد میں قید کرنے کی مصلحت یہ ہوسکتی ہے کہ وہ مسلمانوں کے معاملات کو بچشم خود دیکھے گا۔
ان کی عبادت اور دیگر خوبیوں سے واقف ہوگا، اسی طرح اسے اسلام کی صداقت قبول کرنے اور ایمان لانے میں مدد ملے گی۔
مختصر یہ ہے کہ امام بخاری ؒ نے ثابت کیاہے کہ اگرشرعی مصلحت کاتقاضا ہوتومسجد میں مقروض اور غیرمسلم کو قید کیا جاسکتا ہے۔
لیکن روایت میں اسیر کو مسجد میں قید کرنے کے جواز پر تو استدلال ہوسکتا ہے۔
البتہ مقروض کا اس میں ذکر نہیں ہے۔
اس کے متعلق علامہ عینی ؒ فرماتے ہیں کہ مقروض کو اسیر پر قیاس کیاجاسکتا ہے، کیونکہ مقروض بھی قرض خواہ کے حق میں اسیر ہی ہوتا ہے، اس لیے اسے بھی روایت سے ثابت سمجھناچاہیے۔
(عمدۃالقاري: 510/3)
نوٹ: اس حدیث سے متعلقہ دیگر مباحث ہم کتاب بدء الخلق (حدیث: 3284)
کتاب أحادیث الأنبیاء (حدیث: 3423)
اور کتاب التفسیر(حدیث: 4808)
میں بیان کریں گے۔
بإذن اللہ تعالیٰ۔
1۔
چونک عہد نبوی میں باضابطہ کوئی جیل خانہ نہیں تھا، اس لیے ملزم، مجرم یا قیدی کو مسجد ہی میں بٹھا دیا جاتا تھا اور وہاں سے کہیں جانے نہیں دیتے تھے۔
سب سے پہلا جیل خانہ سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مکہ مکرمہ میں مکان خرید کر بنایا تھا۔
اس مقام پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ جن ہو یا شیطان، یہ انسان کی طرح خاکی مخلوق تو نہیں کہ اسے کسی ستون کے ساتھ باندھ دیا جائے؟ اس کاجواب یہ ہے کہ جن یا شیطان جب کسی انسان یا حیوان کی شکل میں آتا ہے تو اس مخلوق کے لوازمات اس میں آجاتے ہیں جس کا اس نے روپ دھارا ہو۔
بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عفریت بلی کی شکل میں آیا تھا، لہذا اسے باندھنے میں کوئی اشکال نہیں۔
2۔
حضرت سلیمان علیہ السلام کی یہ ایک فضیلت تھی جو آپ کے بعد نہ کسی نبی کو حاصل ہوئی اور نہ کوئی بادشاہ ہی اس طرح کا ہوا ہے لیکن ان کی یہ عظیم سلطنت عبادت گزاری میں آڑے نہ آسکی۔
شاہی میں فقیرانہ زندگی بسر کرنا بھی اللہ والوں کا کام ہے، لہذا اللہ تعالیٰ نے انھیں مقربین میں شامل کرلیا اور بلند درجات عطا فرمائے۔
1۔
رسول اللہ ﷺ پر بڑے سرکش قسم کے شیطان نے حملہ کیاتھا۔
رسول اللہ ﷺ نے اسےپکڑ کر اس کاگلا دبایا، پھر آپ نے اسے مسجد کے ستون کے ساتھ باندھنے کا ارادہ فرمایا تاکہ صحابہ کرام ؓ اس منحوس کو دیکھیں لیکن آپ کو حضرت سلیمان ؑ کی دعا یاد آگئی کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ سے عرض کی: ﴿رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْكًا لا يَنْبَغِي لأحَدٍ مِنْ بَعْدِي﴾ ’’اے اللہ!مجھے معاف کردے اور مجھے ایسی حکومت دے جو میرے بعدکسی کے لائق نہ ہو۔
‘‘ (ص 35: 38)
رسول اللہ ﷺ نے اسے شرمسار کرکے چھوڑدیا۔
اس طرح وہ اپنے مقصد میں بری طرح ناکام رہا۔
(صحیح البخاري، الصلاة، حدیث: 461)
2۔
مقصد یہ ہے کہ لعین شیطان ایسی گندی فطرت کا حامل ہے کہ اس نے رسول اللہ ﷺ پر بھی حملہ کرنے سے گریز نہیں کیا۔
حضرت سلیمان کی دعا آیت ﴿قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي﴾ (ص: 35)
میں مذکورہے۔
1۔
اس حدیث میں حضرت سلیمان ؑ کا ذکر ہے، اس لیے امام بخاری ؒ نے اسے ذکر کردیا ہے۔
حضرت سلیمان ؑ کی دعادرج ذیل آیت میں ہے: ’’میرے رب! مجھے معاف کردے اور مجھے ایسی حکومت دے جو میرے بعدکسی کے لائق نہ ہو۔
‘‘ (ص: 35)
2۔
اس حدیث میں اشارہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت سلیمان ؑ کی رعایت کرتے ہوئے اس سرکش جن کو چھوڑدیا۔
یہ بھی احتمال ہے کہ جنات کو کام میں لانا حضرت سلیمان ؑ کی خصوصیت ہو۔
قرآن کریم کی صراحت ہے کہ ہم جنوں کو نہیں دیکھ سکتے وہ ہمیں دیکھتے ہیں۔
(الأعراف: 27)
واقعی اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان ؑ کے لیے تمام جنوں کو تابع کردیا تھا، وہ ان سے مختلف کام لیتے تھے۔