صحيح البخاري
كتاب فضل الصلاة— کتاب: مکہ و مدینہ میں نماز کی فضیلت
بَابُ مَسْجِدِ قُبَاءٍ: باب: مسجد قباء کی فضیلت۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ هُوَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا " كَانَ لَا يُصَلِّي مِنَ الضُّحَى إِلَّا فِي يَوْمَيْنِ يَوْمَ يَقْدَمُ بِمَكَّةَ ، فَإِنَّهُ كَانَ يَقْدَمُهَا ضُحًى فَيَطُوفُ بِالْبَيْتِ ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ خَلْفَ الْمَقَامِ ، وَيَوْمَ يَأْتِي مَسْجِدَ قُبَاءٍ فَإِنَّهُ كَانَ يَأْتِيهِ كُلَّ سَبْتٍ ، فَإِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ كَرِهَ أَنْ يَخْرُجَ مِنْهُ حَتَّى يُصَلِّيَ فِيهِ ، قَالَ : وَكَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَزُورُهُ رَاكِبًا وَمَاشِيًا .´ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے اسماعیل بن علیہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہمیں ایوب سختیانی نے خبر دی اور انہیں نافع نے کہ` عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما چاشت کی نماز صرف دو دن پڑھتے تھے ۔ جب مکہ آتے کیونکہ آپ مکہ میں چاشت ہی کے وقت آتے تھے اس وقت پہلے آپ طواف کرتے اور پھر مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت پڑھتے ۔ دوسرے جس دن آپ مسجد قباء میں تشریف لاتے آپ کا یہاں ہر ہفتہ کو آنے کا معمول تھا ۔ جب آپ مسجد کے اندر آتے تو نماز پڑھے بغیر باہر نکلنا برا جانتے ۔ آپ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہاں سوار اور پیدل دونوں طرح آیا کرتے تھے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
قباء، مدینہ طیبہ کے نزدیک وہ بستی ہے جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بوقت ہجرت کچھ دن ٹھہرے تھے۔
اس بستی کی مسجد بھی ایک تاریخی جگہ ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بذاتِ خود کبھی پیدل اور کبھی سوار ہوکر وہاں تشریف لے جاتے۔
یہ قدرومنزلت مدینہ طیبہ کے مقامات کے علاوہ کسی اور جگہ کو نصیب نہیں ہوئی۔
واللہ أعلم۔
اللہ ہر مسلمان کو نصیب فرمائے۔
آمین۔
یہی وہ تاریخی مسجد ہے جس کا ذکر قرآن مجید میں ان لفظوں میں کیا گیا ہے ﴿لَمَسجِد اُسِّسَ عَلَی التَّقوٰی مِن اَوَّلِ یَومٍ اَحَقُّ اَن تَقُومَ فِیہِ فِیہِ رِجَال یُّحِبُّونَ اَن یَّتَطَھَّرُوا وَاللّٰہُ یُحِبُّ المُطَّھَّرِینَ﴾ (التوبة: 108)
یعنی یقیناً اس مسجد کی بنیاد اول دن سے تقوی پر رکھی گئی ہے۔
اس میں تیرا نماز کے لیے کھڑا ہونا انسب ہے۔
کیونکہ اس میں ایسے نیک دل لوگ ہیں جو پاکیزگی چاہتے ہیں۔
اور اللہ تعالی پاکی چاہنے والوں سے محبت کرتا ہے۔
امام بخاری ؒ نے اس عنوان اور پیش کردہ حدیث سے ثابت کیا ہے کہ مسجد قباء ان مساجد سے ہے جن کی طرف پیدل اور سوار ہو کر جانے میں چنداں حرج نہیں اور ایسا کرنا رخت سفر باندھنے سے متعلق حکم امتناعی میں داخل نہیں۔
جب مسجد نبوی کی تعمیر ہوئی تو اہل قباء اور باشندگان عوالی نماز جمعہ ادا کرنے کے لیے مسجد نبوی میں آئے تھے، اس بنا پر جمعہ کے دن مسجد قباء نمازیوں سے خالی رہتی تھی۔
اس کی تلافی کے لیے رسول اللہ ﷺ ہفتے کے دن مسجد قباء تشریف لے جاتے تھے۔
یہ بھی احتمال ہے کہ جمعے کے دن مشاغل کا ہجوم ہوتا تھا اور ہفتے کے روز فرصت کے لمحات میسر آنے پر آپ مسجد قباء کا رخ فرماتے تاکہ اہل قباء کی خبر گیری کی جائے اور جمعہ کے لیے مدینہ منورہ نہ جا سکنے والوں کا حال دریافت کیا جائے۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اپنے طور پر بعض اعمال صالح کی ادائیگی کے لیے کسی دن کو متعین کیا جا سکتا ہے اور پھر اس پر مداومت کرنا بھی جائز ہے۔
(فتح الباري: 90/3)
اس لیے آنحضرت ﷺ نے ہر دو عمل کر کے دکھلائے۔
پھر بھی پیدل جانے میں زیادہ ثواب یقینی ہے۔
مسجد قباء میں حاضری مسجد نبوی ہی کی زیارت کا ایک حصہ سمجھنا چاہیے۔
لہٰذا اسے حدیث لا تشد الرحال کے تحت نہیں لایا جا سکتا ہے۔
واللہ أعلم بالصواب۔
احادیث میں مسجد قباء آنے اور اس میں نماز پڑھنے کی فضیلت بھی بیان ہوئی ہے، چنانچہ حضرت سہل بن حنیف ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص اپنے گھر سے نکلے اور مسجد قباء جا کر نماز پڑھے تو اسے عمرہ ادا کرنے کے برابر ثواب ملتا ہے۔
‘‘ (سنن النسائي، المساجد، حدیث: 700)
ایک روایت میں ہے کہ جو شخص گھر سے وضو کر کے مسجد قباء آئے اور اس میں نماز ادا کرے تو اسے عمرہ ادا کرنے کا ثواب ملتا ہے۔
(سنن ابن ماجة، إقامةالصلوات، حدیث: 1412)
عمر بن شبہ نے تاریخ مدینہ منورہ میں صحیح سند سے روایت کیا ہے کہ حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ نے فرمایا: مسجد قباء میں نماز پڑھنا مجھے بیت المقدس دو دفعہ جانے سے زیادہ محبوب ہے۔
اگر لوگ مسجد قباء کی فضیلت پر مطلع ہو جائیں تو دور دراز سے چل کر وہاں پہنچیں۔
(فتح الباري: 90/3)
لیکن مسجد نبوی کی تعمیر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنفس نفیس حصہ لیا تھا اور وہیں ہمیشہ نمازیں ادا فرماتے تھے اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ﴿أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى﴾ فرمایا، اورآغاز تعمیر کے اعتبار سے مسجد قباء اولین مسجد ہے اس لیے جمہور اس کو بھی اس کا مصداق قرار دیتے ہیں۔
مسجد قباء مدینہ منورہ کے بالائی علاقہ میں دو تین میل کے فاصلہ پر واقع ہے۔
جس میں عمروبن عوف کا خاندان مقیم تھا، اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے انھیں کے ہاں آ کر ٹھہرے تھے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر ہفتہ، وہاں مسجد میں تشریف لے جاتے، تاکہ ان لوگوں کے حالات سے آ گاہ ہو سکیں، اور جو لوگ جمعہ پڑھنے مسجد نبوی میں کسی عذر کی بنا پر نہیں آ سکے تھے، ان سے مل لیں، اور بقول علامہ عینی، جمعہ کے دن چونکہ جمعہ کے وقت، مسجد قباء میں نماز نہیں ہوتی تھی، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری اور نماز سے اس کا بھی تدارک ہو جاتا، اور اس طرح یہود کی بھی مخالفت ہو جاتی تھی، جو ہفتہ کے دن میں کام کے لیے نہیں نکلتے تھے۔
اور اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسان اپنے طور پر کسی نیک کام کے لیے دن مقرر کر سکتا ہے، لیکن اس کو دین وشریعت قرار دے کر دوسروں کو اس کی تلقین وتبلیغ نہیں کر سکتا، اور نہ ہی اس میں تقدیم وتاخیر کوجرم وگناہ قرار دے سکتا ہے اپنی سہولت وآسانی کے لیے اس میں تبدیلی کر سکتا ہے۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد قباء پیدل اور سوار (دونوں طرح سے) آتے تھے ابن نمیر کی روایت میں " اور دو رکعت پڑھتے تھے " (کا اضافہ ہے)۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 2040]
مدینہ منورہ کی مشروع ومسنون زیارات میں سے اہم ترین زیارت مسجد قباء کی ہے بلکہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی تو یہ ہے۔
کہ یہاں نماز پڑھنے کا ثواب عمرے کا سا ثواب ہے۔
(سنن ابن ماجة، إقامة الصلاة، حدیث: 1411)
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد قباء (کبھی) سوار ہو کر اور (کبھی) پیدل جاتے تھے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 699]
«. . . 279- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يأتي قباء ماشيا وراكبا. . . .»
". . . اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیدل چل کر اور سوار ہو کر (دونوں حالتوں میں) قبا کو جایا کرتے تھے . . ." [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 191]
تفقہ:
➊ پیدل یا سوار ہو کر مسجد قبا جانا اور دو رکعتیں پڑھنا سنت ہے۔
➋ ایک حدیث میں آیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر ہفتے کے دن قبا جاتے تھے اور ابن عمر (رضی اللہ عنہما) بھی اسی طرح کرتے تھے۔ [صحيح مسلم: 521/1399، دارالسلام: 3396]
➌ گھر سے وضو کر کے / مسجد قبا میں نماز پڑھنا عمرے کے (ثواب کے) برابر ہے۔ دیکھئے [سنن الترمذي 324 وسنده حسن وقال الترمذي: حسن غريب، وسنن ابن ماجه 1412]