صحيح البخاري
كتاب العلم— کتاب: علم کے بیان میں
بَابُ الْعِلْمِ وَالْعِظَةِ بِاللَّيْلِ: باب: اس بیان میں کہ رات کو تعلیم دینا اور وعظ کرنا جائز ہے۔
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ هِنْدٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَة ، وَعَمْرٍو ، وَيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ هِنْدٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : اسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، فَقَالَ : " سُبْحَانَ اللَّهِ ، مَاذَا أُنْزِلَ اللَّيْلَةَ مِنَ الْفِتَنِ ، وَمَاذَا فُتِحَ مِنَ الْخَزَائِنِ ، أَيْقِظُوا صَوَاحِبَاتِ الْحُجَرِ ، فَرُبَّ كَاسِيَةٍ فِي الدُّنْيَا عَارِيَةٍ فِي الْآخِرَةِ " .´صدقہ نے ہم سے بیان کیا ، انہیں ابن عیینہ نے معمر کے واسطے سے خبر دی ، وہ زہری سے روایت کرتے ہیں ، زہری ہند سے ، وہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے ، ( دوسری سند میں ) عمرو اور یحییٰ بن سعید زہری سے ، وہ ایک عورت سے ، وہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتی ہیں کہ` ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیدار ہوتے ہی فرمایا کہ سبحان اللہ ! آج کی رات کس قدر فتنے اتارے گئے ہیں اور کتنے ہی خزانے بھی کھولے گئے ہیں ۔ ان حجرہ والیوں کو جگاؤ ۔ کیونکہ بہت سی عورتیں ( جو ) دنیا میں ( باریک ) کپڑا پہننے والی ہیں وہ آخرت میں ننگی ہوں گی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
«. . . عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: اسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَقَالَ: " سُبْحَانَ اللَّهِ، مَاذَا أُنْزِلَ اللَّيْلَةَ مِنَ الْفِتَنِ، وَمَاذَا فُتِحَ مِنَ الْخَزَائِنِ، أَيْقِظُوا صَوَاحِبَاتِ الْحُجَرِ، فَرُبَّ كَاسِيَةٍ فِي الدُّنْيَا عَارِيَةٍ فِي الْآخِرَةِ " . . . .»
”. . . ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتی ہیں کہ ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیدار ہوتے ہی فرمایا کہ سبحان اللہ! آج کی رات کس قدر فتنے اتارے گئے ہیں اور کتنے ہی خزانے بھی کھولے گئے ہیں۔ ان حجرہ والیوں کو جگاؤ۔ کیونکہ بہت سی عورتیں (جو) دنیا میں (باریک) کپڑا پہننے والی ہیں وہ آخرت میں ننگی ہوں گی . . .“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْعِلْمِ/بَابُ الْعِلْمِ وَالْعِظَةِ بِاللَّيْلِ:: 115]
مطلب یہ ہے کہ نیک بندوں کے لیے اللہ کی رحمتوں کے خزانے نازل ہوئے اور بدکاروں پر اس کا عذاب بھی اترا۔ پس بہت سی عورتیں جو ایسے باریک کپڑے استعمال کرتی ہیں جن سے بدن نظر آئے، آخرت میں انہیں رسوا کیا جائے گا۔ اس حدیث سے رات میں وعظ و نصیحت کرنا ثابت ہوتا ہے، پس مطابقت حدیث کی ترجمہ سے ظاہر ہے۔[فتح الباری] عورتوں کے لیے حد سے زیادہ باریک کپڑوں کا استعمال جن سے بدن نظر آئے قطعاً حرام ہے۔ مگر آج کل زیادہ تر یہی لباس چل پڑا ہے جو قیامت کی نشانیوں میں سے ہے۔
1۔
قرآن کریم کی صراحت کے مطابق رات کو آرام کے لیے بنایا گیا ہے۔
اس سے شبہ ہوتا ہے کہ رات کے وقت تعلیم اور وعظ ونصیحت جائز نہیں، پھر دن بھرکا تھکا ماندہ انسان رات میں آرام کا خواہش مند ہوتا ہے۔
لہٰذا اس وقت کی تعلیم بےآرامی کے علاوہ وضع لیل کے بھی خلاف ہے۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا مقصود یہ ہے کہ اگر رات کے وقت وعظ ونصیحت اور تعلیم کی ضرورت ہو تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔
پیش کردہ حدیث سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ بعض اوقات علمی باتیں سنانے کے لیے سوئے ہوؤں کو بھی بیدار کیا جا سکتا ہے۔
عنوان میں دوقسم کی ضروریات کا ذکر ہے: ایک تعلیم وتعلم جس کی دلیل: «مَاذَا أُنْزِلَ اللَّيْلَةَ مِنَ الْفِتَنِ» ہے۔
دوسری ضرورت وعظ ونصیحت ہے جس کی دلیل: «أيْقِظُوا صَوَاحِب الْحُجَرِ» ’’حجروں میں رہنے والیوں کو جگاؤ‘‘ ہے۔
2۔
حدیث میں دو چیزیں بطور خاص ذکر کی گئی ہیں، یعنی آج رات کتنے فتنے اتارے گئے اور کتنے خزانوں کے منہ کھول دیے گئے۔
پہلی چیز کا تعلق انذار سے ہے اور دوسری چیز کا تعلق تبشیر سے ہے۔
قرآن کریم میں بھی اکثر وبیشتر انذار کے ساتھ تبشیر کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
مقصد یہ ہے کہ اگرتم فتنوں میں ثابت قدم رہے تو ہرقسم کی رحمتیں تمہارے لیے ہیں۔
اس صورت میں خزائن سے مراد، خزائن رحمت ہیں، یعنی فتنے بھی اتارے گئے اور رحمت کے دروازے بھی کھول دیے گئے۔
یہ بھی ممکن ہے کہ خزائن سے مراد دنیوی خزائن ہوں۔
اس صورت میں ما قبل کی تفصیل ہوگی کیونکہ یہ دنیوی خزائن بھی فنتہ ہی ہیں۔
چنانچہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دور ہی میں دنیا کی دوحکومتیں فارس اور روم مسلمانوں کے زیرنگیں آگئیں، لیکن سیاق وسباق کا تقاضا یہ ہے کہ خزائن اورفتن دونوں الگ الگ ہوں کیونکہ بے شمار لوگ ایسے ہیں جنھیں دنیا کے خزانے توملے لیکن وہ فتنوں سے بالکل محفوظ رہے۔
(فتح الباري: 278/1)
3۔
قرآن کریم نے لباس کے دو فائدے بتائے ہیں: ایک ستر پوشی اوردوسرا زینت۔
اگر کوئی لباس پہننے کے باوجود ننگا رہتا ہے تو قیامت کے دن اس کی سزا بھگتنی ہوگی۔
اس کی دوصورتیں ہیں: (الف)
۔
لباس اتنا باریک ہو کہ بدن کی جھلک نمایاں نظر آئے۔
(ب)
۔
سلائی اتنی چست ہو کہ جسم کا ابھار واضح معلوم ہو۔
حدیث میں اس حقیقت سے خبردار کیا گیا ہے کہ بہت سی کپڑے پہننے والی ایسی ہیں جو آخرت میں برہنہ ہوں گی۔
اس حدیث سے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے یہ ثابت کیا ہے کہ پرفتن دور پرامن دورسے بدترہوگا۔
عورتیں کپڑے پہننے کے باوجود ننگی ہوں گی۔
محدثین نے اس جملے کے چند ایک مفہوم بیان کیے ہیں۔
۔
تونگری کی بنا پر دنیا میں لباس پہنا ہوگا لیکن بدعملی کی وجہ سے آخرت میں ثواب سے محروم ہوں گی۔
۔
دنیا میں لباس پہنا ہوگا لیکن باریک ہونے کی وجہ سے ستر پوشی نہیں کرے گا، اس لیے آخرت میں انھیں یہ سزا دی جائے گی کہ ایسی عورتوں کو ننگا اُٹھایا جائے گا۔
۔
اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتیں استعمال کریں گی لیکن شکرگزاری سے عاری ہوں گی جس کا نتیجہ آخرت میں سامنے آئے گا۔
(لباس اس قدر چست ہوگا کہ جسم کے نشیب وفراز نمایاں نظرآئیں گے، یوں محسوس ہوگا کہ گویا جسم ننگا ہے، اس کی سزا نھیں آخرت میں بھگتنا ہوگی۔
۔
نیک صالح خاوند کے نکاح میں ہوں گی لیکن بدعملی کی وجہ سے انھیں قیامت کے دن اس رشتے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
(فتح الباري: 30/13)
«. . . عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: اسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ وَهُوَ يَقُولُ:" لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، مَاذَا أُنْزِلَ اللَّيْلَةَ مِنَ الْفِتْنَةِ، مَاذَا أُنْزِلَ مِنَ الْخَزَائِنِ، مَنْ يُوقِظُ صَوَاحِبَ الْحُجُرَاتِ، كَمْ مِنْ كَاسِيَةٍ فِي الدُّنْيَا عَارِيَةٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ"، قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَكَانَتْ هِنْدٌ لَهَا أَزْرَارٌ فِي كُمَّيْهَا بَيْنَ أَصَابِعِهَا . . .»
”. . . ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت بیدار ہوئے اور کہا اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، کیسی کیسی بلائیں اس رات میں نازل ہو رہی ہیں اور کیا کیا رحمتیں اس کے خزانوں سے اتر رہی ہیں۔ کوئی ہے جو ان حجرہ والیوں کو بیدار کر دے۔ دیکھو بہت سی دنیا میں پہننے اوڑھنے والیاں آخرت میں ننگی ہوں گی۔ زہری نے بیان کیا کہ ہندہ اپنی آستینوں میں انگلیوں کے درمیان گھنڈیاں لگاتی تھیں، تاکہ صرف انگلیاں کھلیں اس سے آگے نہ کھلے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب اللِّبَاسِ: 5844]
باب اور حدیث میں مناسبت: ترجمۃ الباب میں امام بخاری رحمہ اللہ نے اس لباس کے بارے میں ذکر فرمایا جس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”اور حقیقتا لباس ہے ہی وہی جو ستر پوشی کا کام کرے۔“ تحت الباب جو حدیث سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے اس میں باریک کپڑوں سے ممانعت کی گئی ہے، یعنی وہ باریک کپڑے جن سے جسم جھلکے ایسے لباس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند نہ تھے، چنانچہ حافظ ابن حجر العسقلانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: «و مطابقة حديث أم سلمة هذا للترجمة من جهة انه صلى الله عليه وسلم حزر من لباس الرقيق من الثياب الواصفة لأجسامهن لئلا يعرين فى الآخرة.» (2)
”سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کی ترجمۃ الباب سے مناسبت اس جہت سے ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے باریک لباس زیب تن کرنے سے منع فرمایا اور تحذیر فرمائی اس لباس سے جس سے جسم جھلکتے ہوں تاکہ اس قسم کی خواتین آخرت کی عریانی سے بچ سکیں، امام زہری رحمہ اللہ نے جو ہند سے نقل فرمایا ہے کہ وہ اس کی موید ہے، کہتے ہیں کہ اس میں اشارہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ثیاب شفافہ (باریک لباس) نہ پہنا کرتے تھے، کیوں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے کپڑوں سے تحزیر فرمائی ہے تاکہ ظہور عورۃ نہ ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بصفۃ الکمال دیگر سے اس کے اولی ہیں . . . محتمل ہے کہ دونوں احادیث ترجمۃ الباب کے ایک جزء پر دال ہوں، حدیث عمر بسیط اور حدیث سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا لباس کے ساتھ مطابقت رکھتی ہوں۔“
اور مزید حافظ صاحب لکھتے ہیں کہ: ”ہند اس بات سے ڈرتی تھی کہ ان کے جسم کا ذرا سا حصہ بھی ظاہر نہ ہو، ان کی آستینوں کے کشادہ ہونے کی وجہ سے ان میں بٹن لگا لیے، تاکہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول «كاسية عارية» میں شامل نہ ہوں۔“
یہ حقیر بندہ کہتا ہے کہ ممکن ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ یہ بات واضح کرنا چاہتے ہوں کہ بندہ اپنے ستر ڈھانپے اور با آسانی جو بھی کپڑا میسر آ جائے اسے زیب تن کرے، نہ وہ باریک پہنے اور نہ ہی وہ اچھے اور بڑھیا کپڑوں کے لیے اسراف کرے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں باب میں ذکر فرما دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قناعت پسند تھے، اور تحت الباب عریاں اور باریک کپڑے زیب تن کرنے کی ممانعت پر حدیث پیش کر دی، ممکن ہے کہ کہیں سے ترجمۃ الباب اور حدیث میں مناسبت ہو۔
علامہ قسطلانی رحمہ اللہ ترجمۃ الباب اور حدیث میں مناسبت دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: «و مطابقة الحديث للترجمة من حيث إنه حزر من لباس دقيق الثياب الواصفة للجسد.» (1)
”یعنی ترجمۃ الباب سے حدیث کی مناسبت یہ ہے کہ نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم نے ایسے لباس سے ڈرایا ہے جو باریک ہوں اور جس لباس سے جسم نمایاں ہو، یعنی شریعت میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔“
نکتہ: امام قسطلانی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب «المواهب اللدنية» میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لباس کے بارے میں اسی حدیث سے افتتاح فرمایا۔(2)
اس حدیث کی مطابقت ترجمہ باب سے اس طرح ہے کہ اس میں باریک اور عمدہ کپڑوں کی مذمت ہے جو عورتیں باریک کپڑے پہنتی ہیں اور اپنا جسم اوروں کو دکھلاتی ہیں وہ آخرت میں ننگی ہوں گی یہی سزا ان کو دی جائے گی۔
(1)
اس حدیث میں باریک اور چست لباس کی مذمت بیان ہوئی ہے کہ جو عورتیں دنیا میں باریک اور چست لباس پہنتی ہیں اور اپنا جسم دوسروں کو دکھاتی ہیں انہیں آخرت میں سزا دی جائے گی کہ وہ ننگی ہوں گی۔
(2)
اس میں اشارہ ہے کہ عورتوں کو قیمتی اور نفیس لباس نہیں پہننا چاہیے بلکہ انہیں سادہ زندگی بسر کرتے ہوئے بقدر کفایت لباس زیب تن کرنا چاہیے۔
(3)
حضرت ہند بنت حارث رضی اللہ عنہا کی آستین فراخ ہوتی تھیں، انہوں نے اپنی آستینوں پر بٹن لگا رکھے تھے تاکہ ان کے بدن کا کوئی حصہ ظاہر ہونے کے باعث حدیث میں مذکور وعید میں داخل نہ ہوں۔
(4)
اس حدیث کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باریک اور چست لباس نہیں پہنتے تھے کیونکہ آپ نے ایسے لباس سے دوسروں کو خبردار کیا ہے۔
یہ ممکن نہیں ہے کہ ایک لباس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوسروں کو خبردار کریں پھر خود ہی اسے زیب تن کریں، گویا اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لباس کی سادگی بیان ہوئی ہے۔
(فتح الباري: 373/10)
حجروں میں سونے والی عورتوں سے مراد ازواج مطہرات ہیں۔
رسول اللہ ﷺ اپنی ازواج مطہرات کو نماز تہجد کے لیے بیدار کرنا چاہتے تھے کیونکہ رات کی نماز فتنوں سے نجات اور مصائب سے تحفط کا ذریعہ ہے۔
رسول اللہ ﷺ انہیں صرف فتنوں اور خزانوں کی خبر دینے کے لیے بیدار نہیں کرنا چاہتے تھے، کیونکہ یہ کام تو دن چڑھے بھی ہو سکتا تھا، اس لیے عنوان کا پہلا حصہ ثابت ہوا کہ آپ نے انہیں نماز تہجد کے لیے ترغیب دلائی۔
اور دوسرا حصہ اس طرح ثابت ہوا کہ آپ نے ان پر یہ قیام لازم نہیں فرمایا۔
(فتح الباري: 15/3)
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات بیدار ہوئے اور فرمایا: ” سبحان اللہ! آج کی رات کتنے فتنے اور کتنے خزانے نازل ہوئے! حجرہ والیوں (امہات المؤمنین) کو کوئی جگانے والا ہے؟ سنو! دنیا میں کپڑا پہننے والی بہت سی عورتیں آخرت میں ننگی ہوں گی “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن/حدیث: 2196]
وضاحت:
1؎:
اس سے مراد وہ عورتیں ہیں جو بے انتہا باریک لباس پہنتی ہیں، یا وہ عورتیں مراد ہیں جن کے لباس مال حرام سے بنتے ہیں، یا وہ عورتیں ہیں جو بطور زینت بہت سے کپڑے استعمال کرتی ہیں، لیکن عریانیت سے اپنے آپ کو محفوظ نہیں رکھتیں۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ فتنوں کا نزول حق ہے۔ اسی طرح خزانوں کا کھولا جانا بھی حق ہے، جب اللہ تعالیٰ لوگوں کو مصیبت میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں تو ان پر بعض فتنے ڈال دیتے ہیں، اور جب اللہ تعالیٰ کسی پر رحم و کرم فرمانا چاہتے ہیں تو ان پر رحمت و رزق کے دروازے کھل دیتے ہیں، اور تمام خزانوں کی چابیاں اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں، وہ جب چاہتا ہے، اور جن پر چاہتا ہے، انھیں اپنی مرضی سے عطا فرماتا ہے۔