حدیث نمبر: 1138
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ , قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ , قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو جَمْرَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , قَالَ : " كَانَتْ صَلَاةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً يَعْنِي بِاللَّيْلِ " .
مولانا داود راز

´ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا ، ان سے شعبہ نے کہا کہ مجھ سے ابوحمزہ نے بیان کیا اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز تیرہ رکعت ہوتی تھی ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب التهجد / حدیث: 1138
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 764 | سنن ترمذي: 442 | سنن ابي داود: 1365 | سنن نسائي: 1708

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
1138. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی ﷺ کی نماز تہجد تیرہ رکعت پر مشتمل ہوتی تھی۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:1138]
حدیث حاشیہ:
اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ کی نماز تہجد کی رکعات کی تعداد کو بیان کیا گیا ہے کہ وہ تیرہ رکعات ہوتی تھیں جنہیں رسول اللہ ﷺ اس طرح ادا کرتے تھے کہ ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیر دیتے۔
صحیح بخاری کی ایک روایت میں رسول اللہ ﷺ کی ان رکعات کو گیارہ بتایا گیا ہے۔
(صحیح البخاري، التفسیر، حدیث: 4569)
لیکن یہ روایت شریک بن عبداللہ سے مروی ہے جنہوں نے حضرت کریب سے یہ تعداد بیان کی ہے جبکہ کریب کے دوسرے شاگرد تیرہ رکعت ہی بیان کرتے ہیں، اس بنا پر شریک کی روایت مرجوح ہے۔
حضرت عائشہ ؓ سے بھی اس کی تعداد تیرہ رکعات ہی مروی ہے جیسا کہ صحیح مسلم میں اس کے متعلق متعدد روایات ہیں۔
بہرحال نماز تہجد کے موقع پر افتتاحی دو رکعت کو شامل کر کے ان کی تعداد تیرہ ہے۔
تفصیل کے لیے حدیث: 992 کے فوائد ملاحظہ فرمائیں۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1138 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 442 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´سابقہ باب سے متعلق ایک اور باب۔`
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے ۱؎۔ [سنن ترمذي/أبواب السهو/حدیث: 442]
اردو حاشہ:
1؎:
پیچھے (حدیث: رقم 439) میں گزرا کہ آپ رمضان یا غیر رمضان میں تہجد گیارہ رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے، اور اس حدیث میں تیرہ پڑھنے کا تذکرہ ہے، تو کسی نے ان تیرہ میں عشاء کی دو سنتوں کو شمار کیا ہے کہ کبھی تاخیر کر کے ان کو تہجد کے ساتھ ملا کر پڑھتے تھے، اور کسی نے یہ کہا ہے کہ اس میں فجر کی دو سنتیں شامل ہیں، کسی کسی روایت میں ایسا تذکرہ بھی ہے، یا ممکن ہے کہ کبھی گیارہ پڑھتے ہوں اور کبھی تیرہ بھی، جس نے جیسا دیکھا بیان کر دیا، لیکن تیرہ سے زیادہ کی کوئی روایت صحیح نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 442 سے ماخوذ ہے۔