صحيح البخاري
كتاب التهجد— کتاب: تہجد کا بیان
بَابُ مَنْ تَسَحَّرَ فَلَمْ يَنَمْ حَتَّى صَلَّى الصُّبْحَ: باب: اس بارے میں جو سحری کھانے کے بعد صبح کی نماز پڑھنے تک نہیں سویا۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ : حَدَّثَنَا رَوْحٌ , قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، " أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَزَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَسَحَّرَا ، فَلَمَّا فَرَغَا مِنْ سَحُورِهِمَا قَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الصَّلَاةِ فَصَلَّى ، فَقُلْنَا لِأَنَسٍ : كَمْ كَانَ بَيْنَ فَرَاغِهِمَا مِنْ سَحُورِهِمَا وَدُخُولِهِمَا فِي الصَّلَاةِ ؟ , قَالَ : كَقَدْرِ مَا يَقْرَأُ الرَّجُلُ خَمْسِينَ آيَةً " .´ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے روح بن عبادہ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے سعید بن ابی عروبہ نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے ، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہ دونوں نے مل کر سحری کھائی ، سحری سے فارغ ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہو گئے اور دونوں نے نماز پڑھی ۔ ہم نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ سحری سے فراغت اور نماز شروع کرنے کے درمیان کتنا فاصلہ رہا ہو گا ؟ آپ نے جواب دیا کہ اتنی دیر میں ایک آدمی پچاس آیتیں پڑھ سکتا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
آپ ﷺ کا یہ معمول رمضان کے مہینہ میں تھا کہ سحری کے بعد تھوڑا سا توقف فرماتے پھر فجر کی نماز اندھیرے میں ہی شروع کردیتے تھے (تفہیم البخاری)
پس معلوم ہواکہ فجر کی نماز غلس میں پڑھنا سنت ہے جو لوگ اس سنت کا انکار کرتے اور فجر کی نماز ہمیشہ سورج نکلنے کے قریب پڑھتے ہیں وہ یقینا سنت کے خلاف کر تے ہیں۔
اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ کا رمضان المبارک میں معمول بیان ہوا ہے کہ عام دنوں میں آپ سحری کے وقت سوئے رہتے تھے، پھر اٹھ کر صبح کی نماز پڑھتے تھے، لیکن رمضان المبارک میں سحری سے فراغت کے بعد صبح کی نماز کی تیاری میں مصروف ہو جاتے اور پھر نماز ادا فرماتے۔
صحیح بخاری کے بعض نسخوں میں یہ عنوان بایں الفاظ ہے: ’’جس نے سحری کی، پھر نماز کے لیے تیار ہوا اور نماز صبح ادا کرنے تک نہ سویا۔
‘‘ (عمدةالقاري: 366/5)
(1)
ان دونوں روایات کامضمون تقریبا ایک ہے، یعنی ان میں نماز اور سحری کا وقفہ بیان کیا گیا ہے کہ جتنے عرصے میں پچاس یا ساٹھ آیات کی تلاوت کی جاسکے۔
اس سے معلوم ہوا کہ سحری اور نماز کے درمیان بہت کم وقفہ تھا اور سحری سے فراغت کے بعد جلد ہی نماز کےلیے کھڑے ہوجاتے تھے۔
ان احادیث کے پیش نظر امام بخاری ؒ کایہ موقف ہے کہ نماز فجر صبح صادق کے بعد اندھیرے میں شروع کردی جائے۔
بعض احادیث میں اس کی صراحت ہے، جیسا کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ صبح کی نماز، صبح صادق طلوع ہوتے ہی شروع فرما دیتے تھے، حتی کہ اندھیرے کی وجہ سے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم ایک دوسرے کو پہچان بھی نہیں سکتے تھے۔
(صحیح مسلم، المساجد، حدیث: 1393(614)
حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’فجر دوطرح کی ہوتی ہے: ایک وہ فجر جس میں کھانا حرام اور نماز ادا کرنا جائز ہے اور دوسری وہ فجر جس میں نماز پڑھنا حرام لیکن کھانا مباح ہے۔
‘‘ (المستدرك للحاکم: 191/1)
حضرت جابر ؓ کی روایت میں مزید وضاحت ہے کہ وہ صبح جو بھیڑیے کی دم کی طرح اونچی چلی جاتی ہے، اس میں نماز پڑھنا حرام اور کھانا مباح ہوتا ہے اور وہ صبح جو آسمان کےکناروں میں پھیل جاتی ہے، اس میں نماز پڑھنا مباح اور کھانا حرام ہوتا ہے۔
(المستدرك للحاکم: 191/1) (2)
حضرت انس ؓ رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ سحری میں شریک نہیں تھے۔
ایک تفصیلی رویت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت انس ؓ سے فرمایا: ’’میں روزہ رکھنا چاہتا ہوں، کھانے وغیرہ کا بندوبست کرو۔
‘‘چنانچہ میں کھجور اور پانی لےکر حاضر خدمت ہوا، پھر آپ نے فرمایا: ’’ کوئی آدمی تلاش کرو جو میرے ساتھ کھانے میں شریک ہوجائے۔
‘‘ تو میں حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کوبلالایا،وہ آئے اور سحری میں شریک ہوگئے، فراغت کے بعد آپ نے دو رکعت نماز پڑھی، پھر نماز فجر کےلیے کھڑے ہوگئے۔
(فتح الباري: 72/2)
«. . . عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ حَدَّثَهُ، " أَنَّهُمْ تَسَحَّرُوا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَامُوا إِلَى الصَّلَاةِ، قُلْتُ: كَمْ بَيْنَهُمَا، قَالَ: قَدْرُ خَمْسِينَ أَوْ سِتِّينَ "، يَعْنِي آيَةً . . . .»
”. . . انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا کہ ان لوگوں نے (ایک مرتبہ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سحری کھائی، پھر نماز کے لیے کھڑے ہو گئے۔ میں نے دریافت کیا کہ ان دونوں کے درمیان کس قدر فاصلہ رہا ہو گا۔ فرمایا کہ جتنا پچاس یا ساٹھ آیت پڑھنے میں صرف ہوتا ہے اتنا فاصلہ تھا۔ . . .“ [صحيح البخاري/كِتَاب مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ/بَابُ وَقْتِ الْفَجْرِ:: 575]
پچاس یا ساٹھ آیتیں دس منٹ میں پڑھی جا سکتی ہیں۔ اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ سحری دیر سے کھانا مسنون ہے۔ جو لوگ سویرے ہی سحری کھا لیتے ہیں وہ سنت کے خلاف کرتے ہیں۔
خود قتادہ کہتے ہیں کہ جو بات بھی میرے کان میں پڑتی ہے اسے قلب فوراً محفوظ کر لیتا ہے۔
عبداللہ بن سرجس اور انس ؓ اور بہت سے دیگر حضرات سے روایت کرتے ہیں۔
70 ھ میں انتقال فرمایا۔
رحمة اللہ علیه (آمین)
(1)
معلوم ہوا کہ سحری دیر سے کرنی چاہیے۔
یہ بات خلاف سنت ہے کہ آدھی رات کو انسان سحری کھا کر سو جائے۔
مسنون یہ ہے کہ طلوع فجر سے تھوڑا وقت پہلے سحری سے فراغت ہو، پھر نماز فجر کی تیاری میں مصروف ہو جانا چاہیے۔
حضرت حذیفہ ؓ فرماتے ہیں: ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سحری کی تو دن کے روشن ہونے تک سحری کھاتے رہے، البتہ سورج طلوع نہیں ہوا تھا۔
(سنن النسائي، الصیام، حدیث: 2154)
یہ روایت حضرت زید بن ثابت ؓ والی حدیث کے مخالف ہے۔
علماء نے اس کے مختلف جواب دیے ہیں۔
راجح بات یہ ہے کہ حضرت حذیفہ کی روایت مرفوعا صحیح نہیں، اس لیے صحیح دلائل کے مخالف نہیں ہو سکتی۔
اور اگر اسے صحیح تسلیم کر لیا جائے تو پھر یہ منسوخ ہو گی اور حضرت زید کی روایت اور اس موضوع کے دیگر دلائل اس کے ناسخ ہوں گے۔
(ذخیرةالعقبیٰ شرح سنن النسائي: 350/20) (2)
قرآن کریم نے سفید دھاگے کے نمایاں ہونے سے روزہ فرض کیا ہے، اس کے بعد کھانا پینا حرام ہے تو اس کے بعد سحری کیسے جائز ہو سکتی ہے؟ الغرض حضرت حذیفہ ؓ کی مذکورہ حدیث قرآن کریم کے خلاف ہے، اس کے علاوہ حضرت زید ؓ کی حدیث پر شیخین نے اتفاق کیا ہے۔
حدیث میں ہے کہ ابن ام مکتوم کی اذان تک کھانے پینے کی اجازت ہے، الغرض انسان کو نماز فجر سے قبل سحری سے فراغت حاصل کر لینی چاہیے۔
(فتح الباري: 178/4)
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ زید بن ثابت رضی الله عنہ کہتے ہیں: ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سحری کی، پھر ہم نماز کے لیے کھڑے ہوئے، انس کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا: اس کی مقدار کتنی تھی؟ ۱؎ انہوں نے کہا: پچاس آیتوں کے (پڑھنے کے) بقدر ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصيام/حدیث: 703]
1؎:
یعنی ان دونوں کے بیچ میں کتنا وقفہ تھا۔
2؎:
اس سے معلوم ہوا کہ سحری بالکل آخری وقت میں کھائی جائے، یہی مسنون طریقہ ہے تاہم صبح صادق سے پہلے کھا لی جائے اور یہ وقفہ پچاس آیتوں کے پڑھنے کے بقدر ہو۔
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور زید بن ثابت نے سحری کھائی، پھر وہ دونوں اٹھے، اور جا کر نماز فجر پڑھنی شروع کر دی۔ قتادہ کہتے ہیں: ہم نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ان دونوں کے (سحری سے) فارغ ہونے اور نماز شروع کرنے میں کتنا (وقفہ) تھا؟ تو انہوں نے کہا: اس قدر کہ جتنے میں ایک آدمی پچاس آیتیں پڑھ لے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2159]
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سحری کھائی، پھر ہم اٹھ کر نماز کے لیے گئے، انس کہتے ہیں: میں نے پوچھا: ان دونوں کے درمیان کتنا (وقفہ) تھا؟ تو انہوں نے کہا: اس قدر جتنے میں ایک آدمی پچاس آیتیں پڑھ لے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2157]
(2) حسن ادب ہمہ وقت انسان کے پیش نظر رہنا چاہیے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے یہ نہیں کہا ہم نے اور رسول اللہﷺ نے سحری کھائی بلکہ کہا کہ ہم نے رسول اللہﷺ کے ساتھ سحری کھائی کیونکہ اس میں تبعیت کی طرف اشارہ ہے۔
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سحری کھائی پھر ہم نماز کے لیے کھڑے ہوئے۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے زید رضی اللہ عنہ سے پوچھا: سحری اور نماز کے درمیان کتنا فاصلہ تھا؟ کہا: پچاس آیتیں پڑھنے کی مقدار ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1694]
فوائد و مسائل:
(1)
اگر چہ سحری کا کھا نا صبح صادق سے کا فی پہلے بھی کھا یا جا سکتا ہے لیکن بہتر یہ ہے کہ را ت کے آخری حصے میں صبح صادق سے تھو ڑی دیر پہلے کھا یا جا ئے
(2)
فجر کی نما ز اول وقت میں ادا کر نا افضل ہے رسول اللہ ﷺ نے سحری کے بعد مختصر وقفہ دے کر فجر کی نما ز ادا کی۔