صحيح البخاري
كتاب التهجد— کتاب: تہجد کا بیان
بَابُ مَنْ نَامَ عِنْدَ السَّحَرِ: باب: جو شخص سحر کے وقت سو گیا۔
حَدَّثَنِي عَبْدَانُ , قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبِي , عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَشْعَثَ ، سَمِعْتُ أَبِي , قَالَ : سَمِعْتُ مَسْرُوقًا , قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَيُّ الْعَمَلِ كَانَ أَحَبَّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ , قَالَتْ : الدَّائِمُ ، قُلْتُ : مَتَى كَانَ يَقُومُ ؟ , قَالَتْ : يَقُومُ إِذَا سَمِعَ الصَّارِخَ " ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ, قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ الْأَشْعَثِ , قَالَ : إِذَا سَمِعَ الصَّارِخَ قَامَ فَصَلَّى .´ہم سے عبدان نے بیان کیا ، کہا کہ مجھے میرے باپ عثمان بن جبلہ نے شعبہ سے خبر دی ، انہیں اشعث نے ۔ اشعث نے کہا کہ میں نے اپنے باپ ( سلیم بن اسود ) سے سنا اور میرے باپ نے مسروق سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کون سا عمل زیادہ پسند تھا ؟ آپ نے جواب دیا کہ جس پر ہمیشگی کی جائے ( خواہ وہ کوئی بھی نیک کام ہو ) میں نے دریافت کیا کہ آپ ( رات میں نماز کے لیے ) کب کھڑے ہوتے تھے ؟ آپ نے فرمایا کہ جب مرغ کی آواز سنتے ۔ ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا ، کہا کہ ہمیں ابوالاحوص سلام بن سلیم نے خبر دی ، ان سے اشعث نے بیان کیا کہ مرغ کی آواز سنتے ہی آپ کھڑے ہو جاتے اور نماز پڑھتے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
احمد اور ابو داؤد میں ہے کہ مرغ کو برا مت کہو وہ نماز کے لیے جگاتا ہے۔
مرغ کی عادت ہے کہ فجر طلوع ہوتے ہی اور سورج کے ڈھلنے پر بانگ دیا کرتا ہے۔
یہ خدا کی فطرت ہے پہلے حضرت امام بخاری ؒ نے حضرت داؤد ؑ کی شب بیداری کا حال بیان کیا۔
پھر ہمارے پیغمبر ﷺ کا بھی عمل اس کے مطابق ثابت کیا تو ان دونوں حدیثوں سے یہ نکلا کہ آپ اول شب میں آدھی رات تک سوتے رہتے پھر مرغ کی بانگ کے وقت یعنی آدھی رات پر اٹھتے۔
پھر آگے کی حدیث سے یہ ثابت کیا کہ سحر کو آپ سوتے ہوتے۔
پس آپ ﷺ کا اور حضرت داؤد ؑ کا عمل یکساں ہوگیا۔
عراقی نے اپنی کتاب سیرت میں لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے ہاں ایک سفید مرغ تھا۔
واللہ أعلم بالصواب۔
اس وقت آپ تہجد کے لئے کھڑے ہو جاتے۔
مسروق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ محبوب کون سا عمل تھا؟ تو انہوں نے کہا: جس عمل پر مداومت ہو، میں نے پوچھا: رات میں آپ کب اٹھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: جب مرغ کی بانگ سنتے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1617]
➋ چونکہ مرغ کی آواز سن کر نیک لوگ نماز کے لیے جاگتے ہیں، لہٰذا اس کی آواز کو لوگ اذان کہہ دیتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا: مرغ فرشتے دیکھ کر آواز نکالتا ہے، لہٰذا تم مرغ کی آواز سن کر یہ کہا: کرو: (اللھم انی اسئلک من فضلک) صحیح البخاری، بدءالخلق، حدیث: 3303 و صحیح مسلم، الذکر والدعاء، حدیث: 2729) واہ رے مرغ تیری قسمت! نفلی عبادت میں میانہ روی اختیار کرنی چاہیے، تعمق سے کام نہیں لینا چاہیے۔ ورنہ آدمی اکتا جاتا ہے اور اس عمل کو جاری نہیں رکھ سکتا۔