صحيح البخاري
كتاب التهجد— کتاب: تہجد کا بیان
بَابُ مَنْ نَامَ عِنْدَ السَّحَرِ: باب: جو شخص سحر کے وقت سو گیا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ أَوْسٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ : " أَحَبُّ الصَّلَاةِ إِلَى اللَّهِ صَلَاةُ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام ، وَأَحَبُّ الصِّيَامِ إِلَى اللَّهِ صِيَامُ دَاوُدَ ، وَكَانَ يَنَامُ نِصْفَ اللَّيْلِ وَيَقُومُ ثُلُثَهُ وَيَنَامُ سُدُسَهُ ، وَيَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا " .´ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عمرو بن دینار نے بیان کیا کہ عمرو بن اوس نے انہیں خبر دی اور انہیں عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ سب نمازوں میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ نماز داؤد علیہ السلام کی نماز ہے اور روزوں میں بھی داؤد علیہ السلام ہی کا روزہ ۔ آپ آدھی رات تک سوتے ، اس کے بعد تہائی رات نماز پڑھنے میں گزارتے ۔ پھر رات کے چھٹے حصے میں بھی سو جاتے ۔ اسی طرح آپ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار کرتے تھے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
گویا سحر کے وقت سوتے ہوتے یہی ترجمہ باب ہے۔
(1)
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اگر رات کے بارہ گھنٹے ہوں تو داود ؑ پہلے چھ گھنٹے سوئے رہتے، پھر تہائی شب، یعنی چار گھنٹے عبادت کرتے، اس کے بعد چھٹا حصہ، یعنی دو گھنٹے محو استراحت رہتے، گویا سحری کا وقت سو کر گزار دیتے۔
(2)
عنوان بالا کا مقصد ہے کہ جو شخص سحری کے وقت سویا رہا وہ قابل ملامت نہیں بشرطیکہ رات کی حق ادائیگی پہلے کر چکا ہو۔
اس وقت سونے میں حکمت یہ ہے کہ صبح کی نماز کے لیے نشاط حاصل ہو اور تھکاوٹ وغیرہ دور ہو جائے۔
ایسا کرنا ریا کاری سے بھی بچاؤ کا ذریعہ ہے کیونکہ جو شخص رات کے وقت عبادت کر کے سو جائے تو بیداری کے وقت اس کے چہرے سے عبادت کے اثرات ختم ہو جائیں گے۔
(فتح الباري: 23/3)
اس حدیث میں نفلی روزوں میں سے افضل ترین روزے صوم داؤد علیہ السلام کو قرار دیا گیا ہے، کہ ایک دن روزہ رکھ لیا جائے اور ایک دن چھوڑ دیا جائے۔ اللہ تعالیٰ جس کو اتنی طاقت دے وہ اس پرعمل کر سکتا ہے، ورنہ نفلی امور میں شریعت کسی پر سختی نہیں کرتی، بلکہ صرف ترغیب دلاتی ہے۔
نیز اس حدیث میں نفلی نمازوں میں سے افضل نماز صلاۃ داؤد علیہ السلام کو قرار دیا گیا ہے کہ وہ آدھی رات سوجاتے، پھر تیسرے حصے میں قیام کرتے اور پھر چھٹے حصے میں سو جاتے، سبحان اللہ۔
اس انداز میں نیند بھی پوری رہتی ہے اور نفلی عبادت بھی کھل کر ہوجاتی ہے۔ بعض گمراہ لوگوں کی عبادت سنت کے مخالف ہوتی ہے، عبادت خواہ تھوڑی ہو یا زیادہ، بس یہ خیال رکھا جائے کہ وہ قرآن و حدیث کے مطابق ہونی چاہئے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جو شخص ساری رات قیام کرے اور روزانہ روزہ رکھے، اس کو ڈانٹا جائے، اس کی تعریف کی بجائے مذمت کی جائے، کیونکہ مؤمن حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد میں بھی کمی نہیں کرتا۔