صحيح البخاري
كتاب تقصير الصلاة— کتاب: نماز میں قصر کرنے کا بیان
بَابُ إِذَا صَلَّى قَاعِدًا ثُمَّ صَحَّ أَوْ وَجَدَ خِفَّةً تَمَّمَ مَا بَقِيَ: باب: اگر کسی شخص نے نماز بیٹھ کر شروع کی لیکن دوران نماز میں وہ تندرست ہو گیا یا مرض میں کچھ کمی محسوس کی تو باقی نماز کھڑے ہو کر پوری کرے۔
حدیث نمبر: 1119
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، وَأَبِي النَّضْرِ ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي جَالِسًا فَيَقْرَأُ وَهُوَ جَالِسٌ ، فَإِذَا بَقِيَ مِنْ قِرَاءَتِهِ نَحْوٌ مِنْ ثَلَاثِينَ أَوْ أَرْبَعِينَ آيَةً قَامَ فَقَرَأَهَا وَهُوَ قَائِمٌ ، ثُمَّ يَرْكَعُ ، ثُمَّ سَجَدَ يَفْعَلُ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ ، فَإِذَا قَضَى صَلَاتَهُ نَظَرَ فَإِنْ كُنْتُ يَقْظَى تَحَدَّثَ مَعِي ، وَإِنْ كُنْتُ نَائِمَةً اضْطَجَعَ " .مولانا داود راز
´ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک رحمہ اللہ نے عبداللہ بن یزید اور عمر بن عبیداللہ کے غلام ابوالنضر سے خبر دی ، انہیں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف نے ، انہیں ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کی نماز بیٹھ کر پڑھنا چاہتے تو قرآت بیٹھ کر کرتے ۔ جب تقریباً تیس چالیس آیتیں پڑھنی باقی رہ جاتیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں کھڑے ہو کر پڑھتے ۔ پھر رکوع اور سجدہ کرتے پھر دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کرتے ۔ نماز سے فارغ ہونے پر دیکھتے کہ میں جاگ رہی ہوں تو مجھ سے باتیں کرتے لیکن اگر میں سوتی ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی لیٹ جاتے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب تقصير الصلاة / حدیث: 1119
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 1118 | صحيح البخاري: 1148 | صحيح مسلم: 731 | سنن ترمذي: 374 | سنن ابي داود: 953 | سنن ابي داود: 954 | سنن نسائي: 1649 | سنن نسائي: 1650 | سنن نسائي: 1651 | سنن ابن ماجه: 1226 | سنن ابن ماجه: 1227 | موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 155 | موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 156 | مسند الحميدي: 192
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
1119. ام المومنین حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ بیٹھ کر نماز پڑھتے اور بیٹھنے کی حالت میں قراءت کرتے اور جب تقریبا تیس یا چالیس آیات باقی رہ جاتیں تو کھڑے ہو جاتے اور بحالت قیام انہیں تلاوت فرماتے، پھر رکوع کرتے اور سجدے میں چلے جاتے۔ اس کے بعد دوسری رکعت میں بھی ایسا ہی کرتے۔ اور جب نماز سے فارغ ہو جاتے تو دیکھتے، اگر میں بیدار ہوتی تو میرے ساتھ محو گفتگو ہوتے اور اگر میں نیند میں ہوتی تو آپ بھی لیٹ جاتے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:1119]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث سے یہ ثابت ہوا کہ بیٹھ کر نماز شروع کرنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ نمازی اپنی تمام نماز بیٹھ کر ہی مکمل کرے کیونکہ جس طرح بیٹھ کر شروع کرنے کے بعد کھڑا ہونا درست ہے، اسی طرح کھڑے ہو کر شروع کرنے کے بعد بیٹھ جانا بھی جائز ہے۔
ان دونوں حالتوں میں کوئی فرق نہیں، نیز جو انسان لیٹ کر نماز پڑھتا ہے، پھر دوران نماز میں اسے بیٹھ کر یا کھڑا ہو کر نماز پڑھنے کی ہمت پیدا ہو جاتی ہے تو اسے چاہیے کہ وہ بھی سابقہ نماز پر بنیاد رکھتے ہوئے اپنی بقیہ نماز کو بیٹھ کر یا کھڑے ہو کر پورا کرے۔
بعض فقہاء اس کی اجازت نہیں دیتے، لیکن یہ حدیث ان کے خلاف ہے۔
(2)
ابن بطال فرماتے ہیں کہ امام بخاری ؒ کا عنوان فرض سے متعلق ہے جبکہ احادیث نفل نماز کے بارے میں ہیں، امام بخاری ؒ نے ان احادیث سے استنباط فرمایا ہے کہ جب نفل نماز میں بغیر کسی عذر کے بیٹھنا جائز ہے لیکن پھر بھی رسول اللہ ﷺ رکوع سے پہلے کھڑے ہو جاتے تھے، تو فرض نماز جس میں بلا عذر بیٹھنا جائز ہی نہیں، جب عذر زائل ہو جائے تو پھر قیام بطریق اولیٰ جائز ہو گا کیونکہ اس میں اب بیٹھنے کا عذر ختم ہو چکا ہے۔
(فتح الباري: 781/2)
(1)
اس حدیث سے یہ ثابت ہوا کہ بیٹھ کر نماز شروع کرنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ نمازی اپنی تمام نماز بیٹھ کر ہی مکمل کرے کیونکہ جس طرح بیٹھ کر شروع کرنے کے بعد کھڑا ہونا درست ہے، اسی طرح کھڑے ہو کر شروع کرنے کے بعد بیٹھ جانا بھی جائز ہے۔
ان دونوں حالتوں میں کوئی فرق نہیں، نیز جو انسان لیٹ کر نماز پڑھتا ہے، پھر دوران نماز میں اسے بیٹھ کر یا کھڑا ہو کر نماز پڑھنے کی ہمت پیدا ہو جاتی ہے تو اسے چاہیے کہ وہ بھی سابقہ نماز پر بنیاد رکھتے ہوئے اپنی بقیہ نماز کو بیٹھ کر یا کھڑے ہو کر پورا کرے۔
بعض فقہاء اس کی اجازت نہیں دیتے، لیکن یہ حدیث ان کے خلاف ہے۔
(2)
ابن بطال فرماتے ہیں کہ امام بخاری ؒ کا عنوان فرض سے متعلق ہے جبکہ احادیث نفل نماز کے بارے میں ہیں، امام بخاری ؒ نے ان احادیث سے استنباط فرمایا ہے کہ جب نفل نماز میں بغیر کسی عذر کے بیٹھنا جائز ہے لیکن پھر بھی رسول اللہ ﷺ رکوع سے پہلے کھڑے ہو جاتے تھے، تو فرض نماز جس میں بلا عذر بیٹھنا جائز ہی نہیں، جب عذر زائل ہو جائے تو پھر قیام بطریق اولیٰ جائز ہو گا کیونکہ اس میں اب بیٹھنے کا عذر ختم ہو چکا ہے۔
(فتح الباري: 781/2)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1119 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 1148 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
1148. حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے کبھی نبی ﷺ کو بیٹھ کر نماز پڑھتے نہیں دیکھا حتی کہ جب آپ عمر رسیدہ ہو گئے تو بحالت نماز بیٹھ کر قراءت فرماتے۔ جب کسی سورت کی تیس یا چالیس آیات باقی رہ جاتیں تو کھڑے ہو جاتے اور انہیں پڑھ کر رکوع فرماتے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:1148]
حدیث حاشیہ:
اس روایت سے ان حضرات کی تردید ہوتی ہے جن کا موقف ہے کہ جب نماز تہجد بحالت قیام شروع کی جائے تو رکوع کھڑے ہو کر کرنا چاہیے اور جب اس کا آغاز بیٹھ کر کیا جائے تو رکوع بھی بیٹھ کر کرنا چاہیے۔
ان حضرات کی دلیل حضرت عائشہ ؓ سے مروی ایک روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب قراءت بحالت قیام کرتے تو رکوع کھڑے ہو کر کرتے اور جب قراءت بیٹھ کر کرتے تو رکوع بھی بیٹھ کر کرتے۔
(صحیح ابن خزیمة: 239/2)
امام بخاری ؒ کی بیان کردہ مذکورہ روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ بیٹھ کر قراءت کرتے، جب کچھ آیات باقی رہ جاتیں تو کھڑے ہو کر انہیں پڑھتے اور بحالت قیام رکوع فرماتے۔
واضح رہے کہ صحیح ابن خزیمہ کی مذکورہ روایت کے متعلق حضرت ہشام نے بہت سخت موقف اختیار فرمایا ہے۔
راوئ حدیث ابو خالد کہتے ہیں کہ جب میں نے عبداللہ بن شقیق کی اس روایت کا تذکرہ حضرت عروہ سے کیا تو انہوں نے کہا کہ عبداللہ بن شقیق غلط کہتا ہے۔
اس کے بعد اپنے باپ حضرت عروہ سے مروی حدیث کو بیان کیا جسے امام بخاری ؒ نے پیش کیا ہے۔
امام ابن خزیمہ ؒ فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک ان دونوں روایات میں کوئی تضاد نہیں، کیونکہ عبداللہ بن شقیق سے مروی حدیث کا مطلب ہے کہ جب پوری قراءت کھڑے ہو کر کرے تو رکوع بھی کھڑے ہو کر کرنا چاہیے اور جب پوری قراءت بیٹھ کر کی جائے تو رکوع بھی بیٹھ کر کرنا چاہیے۔
اور حضرت عروہ کی روایت کا مطلب یہ ہے کہ اگر قراءت کا کچھ حصہ بیٹھ کر اور کچھ حصہ کھڑے ہو کر پڑھا جائے تو رکوع بھی کھڑے ہو کر کرنا چاہیے۔
(صحیح ابن خزیمة: 240/2)
اس روایت سے ان حضرات کی تردید ہوتی ہے جن کا موقف ہے کہ جب نماز تہجد بحالت قیام شروع کی جائے تو رکوع کھڑے ہو کر کرنا چاہیے اور جب اس کا آغاز بیٹھ کر کیا جائے تو رکوع بھی بیٹھ کر کرنا چاہیے۔
ان حضرات کی دلیل حضرت عائشہ ؓ سے مروی ایک روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب قراءت بحالت قیام کرتے تو رکوع کھڑے ہو کر کرتے اور جب قراءت بیٹھ کر کرتے تو رکوع بھی بیٹھ کر کرتے۔
(صحیح ابن خزیمة: 239/2)
امام بخاری ؒ کی بیان کردہ مذکورہ روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ بیٹھ کر قراءت کرتے، جب کچھ آیات باقی رہ جاتیں تو کھڑے ہو کر انہیں پڑھتے اور بحالت قیام رکوع فرماتے۔
واضح رہے کہ صحیح ابن خزیمہ کی مذکورہ روایت کے متعلق حضرت ہشام نے بہت سخت موقف اختیار فرمایا ہے۔
راوئ حدیث ابو خالد کہتے ہیں کہ جب میں نے عبداللہ بن شقیق کی اس روایت کا تذکرہ حضرت عروہ سے کیا تو انہوں نے کہا کہ عبداللہ بن شقیق غلط کہتا ہے۔
اس کے بعد اپنے باپ حضرت عروہ سے مروی حدیث کو بیان کیا جسے امام بخاری ؒ نے پیش کیا ہے۔
امام ابن خزیمہ ؒ فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک ان دونوں روایات میں کوئی تضاد نہیں، کیونکہ عبداللہ بن شقیق سے مروی حدیث کا مطلب ہے کہ جب پوری قراءت کھڑے ہو کر کرے تو رکوع بھی کھڑے ہو کر کرنا چاہیے اور جب پوری قراءت بیٹھ کر کی جائے تو رکوع بھی بیٹھ کر کرنا چاہیے۔
اور حضرت عروہ کی روایت کا مطلب یہ ہے کہ اگر قراءت کا کچھ حصہ بیٹھ کر اور کچھ حصہ کھڑے ہو کر پڑھا جائے تو رکوع بھی کھڑے ہو کر کرنا چاہیے۔
(صحیح ابن خزیمة: 240/2)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1148 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 731 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بیٹھ کر نماز پڑھتے اور بیٹھے بیٹھے قرأت کرتے، جب آپ ﷺ کی قرأت تیس یا چالیس آیات باقی رہ جاتیں تو آپﷺ کھڑے ہو کر قرأت فرماتے، پھر رکوع کرتے پھر سجدہ کرتے، پھر دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کرتے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1705]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ آپﷺ تہجد میں طویل قرآءت فرماتے تھے جب تک آپﷺ عمررسیدہ نہیں ہوئے اور جسم مبارک بھاری نہیں ہوا تھا تب تک آپﷺ قرآءت کھڑے ہو کر فرماتے رہے جب طبیعت میں عمر رسیدگی کے آثار نمایاں ہو گئے جسم بوجھل ہو گیا تو طویل قرآءت کھڑے کھڑے مشکل ہو گئی تو آپﷺ نے یہ طریقہ اختیار کیا کہ کچھ رکعات کھڑے ہو کر پڑھ لیتے اور کچھ بیٹھ کر اور بعض دفعہ ایسے بھی کیا کہ قرآءت کھڑے ہو کر شروع کرنے کی بجائے بیٹھ کر شروع کی اور آخر ٍٍٍٍٍمیں کھڑے ہوگئے۔
اس لیے یہ جائز ہے کہ انسان بیٹھ کر نماز شروع کرے اور پھر کھڑا ہو جائے یا کھڑے ہو کر نماز شروع کرے اور پھر بیٹھ جائے ظاہر ہے اس کی ضرورت اس صورت میں پیش آئے گی جب قرآءت طویل کرنی ہو۔
اس لیے یہ جائز ہے کہ انسان بیٹھ کر نماز شروع کرے اور پھر کھڑا ہو جائے یا کھڑے ہو کر نماز شروع کرے اور پھر بیٹھ جائے ظاہر ہے اس کی ضرورت اس صورت میں پیش آئے گی جب قرآءت طویل کرنی ہو۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 731 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 731 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
علقمہ بن وقاص بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھا، رسول اللہ ﷺ بیٹھ کر دو رکعت کیسے پڑھتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا، آپﷺ قرأت کرتے رہتے تو جب رکوع کرنے کا ارادہ کرتے کھڑے ہو جاتے اور رکوع کرتے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1707]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: بیٹھ کر قرآءت کرنے کے بعد کھڑے ہو کر رکوع کرنے کی صورت وہی ہے جو اوپر گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 731 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 953 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´بیٹھ کر نماز پڑھنے کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کی نماز کبھی بیٹھ کر پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا یہاں تک کہ آپ عمر رسیدہ ہو گئے تو اس میں بیٹھ کر قرآت کرتے تھے پھر جب تیس یا چالیس آیتیں رہ جاتیں تو انہیں کھڑے ہو کر پڑھتے پھر سجدہ کرتے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 953]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کی نماز کبھی بیٹھ کر پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا یہاں تک کہ آپ عمر رسیدہ ہو گئے تو اس میں بیٹھ کر قرآت کرتے تھے پھر جب تیس یا چالیس آیتیں رہ جاتیں تو انہیں کھڑے ہو کر پڑھتے پھر سجدہ کرتے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 953]
953۔ اردو حاشیہ:
معلوم ہوا کہ نوافل میں جائز ہے کہ انسان بیٹھ کر ابتداء کرے اور اثنائے قرأت میں کھڑا ہو جائے یا کھڑے ہو کر ابتداء کرے اور درمیان میں بیٹھ جائے۔
معلوم ہوا کہ نوافل میں جائز ہے کہ انسان بیٹھ کر ابتداء کرے اور اثنائے قرأت میں کھڑا ہو جائے یا کھڑے ہو کر ابتداء کرے اور درمیان میں بیٹھ جائے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 953 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 1650 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´جب نماز کھڑے ہو کر شروع کرے تو کیسے کرے؟ اور اس باب میں عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرنے والوں کے اختلاف کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا کہ آپ نے بیٹھ کر نماز پڑھی ہو یہاں تک کہ آپ بوڑھے ہو گئے، تو (جب آپ بوڑھے ہو گئے) تو آپ بیٹھ کر نماز پڑھتے اور بیٹھ کر قرآت کرتے، پھر جب سورۃ میں سے تیس یا چالیس آیتیں باقی رہ جاتیں تو ان کی قرآت کھڑے ہو کر کرتے، پھر رکوع کرتے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1650]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا کہ آپ نے بیٹھ کر نماز پڑھی ہو یہاں تک کہ آپ بوڑھے ہو گئے، تو (جب آپ بوڑھے ہو گئے) تو آپ بیٹھ کر نماز پڑھتے اور بیٹھ کر قرآت کرتے، پھر جب سورۃ میں سے تیس یا چالیس آیتیں باقی رہ جاتیں تو ان کی قرآت کھڑے ہو کر کرتے، پھر رکوع کرتے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1650]
1650۔ اردو حاشیہ: بعض کا قول ہے کہ ان دو روایات میں جو طریقہ بیان کیا گیا ہے، وہ بڑھاپے کے دور کا ہے جیسا کہ دوسری حدیث میں صراحت ہے۔ پہلی دواحادیث میں بڑھاپے سے قبل کا طریقہ بیان کیا گیا ہے، لہٰذا یہ حقیقتاً اختلاف نہیں اگرچہ ظاہراً اختلاف ہے، نیز اسے تعدد احوال پر بھی محمول کیا جا سکتا ہے، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کھڑے ہو کر اور کبھی بیٹھ کر نماز پڑھ لیتے تھے۔ اس طرح دونوں قسم کی احادیث میں ظاہری تعارض رفع ہو جاتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1650 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 1226 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´نفل نماز بیٹھ کر پڑھنے کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (نفل نماز میں) بیٹھ کر قراءت کرتے تھے، جب رکوع کا ارادہ کرتے تو اتنی دیر کے لیے کھڑے ہو جاتے جتنی دیر میں کوئی شخص چالیس آیتیں پڑھ لیتا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1226]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (نفل نماز میں) بیٹھ کر قراءت کرتے تھے، جب رکوع کا ارادہ کرتے تو اتنی دیر کے لیے کھڑے ہو جاتے جتنی دیر میں کوئی شخص چالیس آیتیں پڑھ لیتا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1226]
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل: (1)
نبی اکرم ﷺ کی نماز تہجد بہت طویل ہوتی تھی۔
اور آپﷺ اس میں طویل قراءت کرتے تھے۔
(2)
کھڑے ہوکر نماز پڑھتے وقت اگر کچھ قیام بیٹھ کے کرلیا جائے تو جائز ہے۔
اس صورت میں رکوع اور قومہ کھڑے ہوکر کیا جائےگا۔
لیکن اگر پورا قیام بیٹھ کر کیا جائے تو رکوع اور قومہ بھی بیٹھ کر ادا کیا جائےگا۔
فوائد ومسائل: (1)
نبی اکرم ﷺ کی نماز تہجد بہت طویل ہوتی تھی۔
اور آپﷺ اس میں طویل قراءت کرتے تھے۔
(2)
کھڑے ہوکر نماز پڑھتے وقت اگر کچھ قیام بیٹھ کے کرلیا جائے تو جائز ہے۔
اس صورت میں رکوع اور قومہ کھڑے ہوکر کیا جائےگا۔
لیکن اگر پورا قیام بیٹھ کر کیا جائے تو رکوع اور قومہ بھی بیٹھ کر ادا کیا جائےگا۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1226 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: موطا امام مالك رواية ابن القاسم / حدیث: 155 کی شرح از حافظ زبیر علی زئی ✍️
´نفل نماز بیٹھ کر پڑھی جا سکتی ہے`
«. . . 378- وعن عبد الله بن يزيد مولى الأسود بن سفيان وأبي النضر مولى عمر بن عبيد الله عن أبى سلمة بن عبد الرحمن عن عائشة أم المؤمنين أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يصلي وهو جالس، فيقرأ وهو جالس، فإذا بقي من قراءته قدر ما يكون ثلاثين أو أربعين آية قام فقرأ وهو قائم، ثم ركع، ثم سجد، ثم يفعل فى الركعة الثانية مثل ذلك. . . .»
”. . . ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے بیٹھے (نفل) نماز پڑھتے اور قرأت بھی بیٹھے ہوئے ہی کرتے تھے پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرات سے تیس یا چالیس آیتوں کی مقدار باقی رہتی تو اٹھ کر قرأت کرتے، پھر حالت قیام سے ہی رکوع کرتے پھر سجدہ کرتے اور دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کرتے تھے۔ . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 155]
«. . . 378- وعن عبد الله بن يزيد مولى الأسود بن سفيان وأبي النضر مولى عمر بن عبيد الله عن أبى سلمة بن عبد الرحمن عن عائشة أم المؤمنين أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يصلي وهو جالس، فيقرأ وهو جالس، فإذا بقي من قراءته قدر ما يكون ثلاثين أو أربعين آية قام فقرأ وهو قائم، ثم ركع، ثم سجد، ثم يفعل فى الركعة الثانية مثل ذلك. . . .»
”. . . ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے بیٹھے (نفل) نماز پڑھتے اور قرأت بھی بیٹھے ہوئے ہی کرتے تھے پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرات سے تیس یا چالیس آیتوں کی مقدار باقی رہتی تو اٹھ کر قرأت کرتے، پھر حالت قیام سے ہی رکوع کرتے پھر سجدہ کرتے اور دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کرتے تھے۔ . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 155]
تخریج الحدیث:
[واخرجه البخاري 1119 و مسلم 731/112 من حديث مالك به]
تفقه:
➊ اگر کوئی شرعی عذر ہو تو بیٹھ کر نماز پڑھنا جائز ہے ورنہ فرائض میں قیام فرض ہے۔
➋ اگر کوئی شخص کسی شرعی عذر کی وجہ سے بیٹھ کر نماز شروع کرے اور بعد میں دوسری یا کسی رکعت میں اس کی طبیعت بہتر ہو جائے تو وہ باقی نماز کھڑے ہوکر پڑھ سکتا ہے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص کھڑے ہو کر نماز شروع کرے مگر بعد میں اس کی طبیعت خراب ہو جائے جس کی وجہ سے اس کے لئے کھڑا ہونا مشکل ہو تو باقی نماز حسب استطاعت بیٹھ کر پڑھ سکتا ہے۔
➌ نفل نماز بیٹھ کر پڑھنی جائز ہے لیکن ثواب آدھا ملے گا۔ دیکھئے [التمهيد 19/169] تاہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پورا ثواب ملتا تھا۔
[واخرجه البخاري 1119 و مسلم 731/112 من حديث مالك به]
تفقه:
➊ اگر کوئی شرعی عذر ہو تو بیٹھ کر نماز پڑھنا جائز ہے ورنہ فرائض میں قیام فرض ہے۔
➋ اگر کوئی شخص کسی شرعی عذر کی وجہ سے بیٹھ کر نماز شروع کرے اور بعد میں دوسری یا کسی رکعت میں اس کی طبیعت بہتر ہو جائے تو وہ باقی نماز کھڑے ہوکر پڑھ سکتا ہے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص کھڑے ہو کر نماز شروع کرے مگر بعد میں اس کی طبیعت خراب ہو جائے جس کی وجہ سے اس کے لئے کھڑا ہونا مشکل ہو تو باقی نماز حسب استطاعت بیٹھ کر پڑھ سکتا ہے۔
➌ نفل نماز بیٹھ کر پڑھنی جائز ہے لیکن ثواب آدھا ملے گا۔ دیکھئے [التمهيد 19/169] تاہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پورا ثواب ملتا تھا۔
درج بالا اقتباس موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 378 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: موطا امام مالك رواية ابن القاسم / حدیث: 156 کی شرح از حافظ زبیر علی زئی ✍️
´نفل نماز بیٹھ کر پڑھی جا سکتی ہے`
«. . . 455- وبه: أنها أخبرته أنها لم تر رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى صلاة الليل قاعدا قط حتى أسن، فكان يقرأ قاعدا، حتى إذا أراد أن يركع قام فقرأ نحوا من ثلاثين أو أربعين آية، ثم ركع. . . .»
”. . . اور اسی سند کے ساتھ (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے) روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کی نماز کبھی بیٹھ کر پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا حتیٰ کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بڑی عمر کے ہوئے تو آپ بیٹھ کر قرأت کرتے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کا رادہ کرتے تو کھڑے ہو کر تیس یا چالیس کے قریب آیتیں پڑھتے پھر رکوع کرتے تھے۔ . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 156]
«. . . 455- وبه: أنها أخبرته أنها لم تر رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى صلاة الليل قاعدا قط حتى أسن، فكان يقرأ قاعدا، حتى إذا أراد أن يركع قام فقرأ نحوا من ثلاثين أو أربعين آية، ثم ركع. . . .»
”. . . اور اسی سند کے ساتھ (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے) روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کی نماز کبھی بیٹھ کر پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا حتیٰ کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بڑی عمر کے ہوئے تو آپ بیٹھ کر قرأت کرتے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کا رادہ کرتے تو کھڑے ہو کر تیس یا چالیس کے قریب آیتیں پڑھتے پھر رکوع کرتے تھے۔ . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 156]
تخریج الحدیث:
[وأخرجه البخاري 1118، من حديث مالك به]
تفقه:
➊ حتی الوسع نفل نماز کھڑے ہو کر پڑھنی چاہئے تاہم عذر کی صورت میں فرض نماز بھی بیٹھ کر پڑھنی جائز ہے۔
➋ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے اور سب سے بڑھ کر اس کی عبادت کرنے والے تھے۔
➌ نیز دیکھئے: [الموطأ حديث سابق: 7، 112، 378]
[وأخرجه البخاري 1118، من حديث مالك به]
تفقه:
➊ حتی الوسع نفل نماز کھڑے ہو کر پڑھنی چاہئے تاہم عذر کی صورت میں فرض نماز بھی بیٹھ کر پڑھنی جائز ہے۔
➋ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے اور سب سے بڑھ کر اس کی عبادت کرنے والے تھے۔
➌ نیز دیکھئے: [الموطأ حديث سابق: 7، 112، 378]
درج بالا اقتباس موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 455 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 192 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
فائدہ:
اس حدیث میں ذکر ہے کہ نفلی نماز بھی کھڑے ہو کر پڑھنی چاہیے۔ بعض لوگوں نے معمول بنا لیا ہے کہ وہ نفلوں کو بیٹھ کر ہی پڑھتے ہیں، اور تندرست بھی ہوتے ہیں، یہ خلاف سنت بیماری یا کمزوری کی وجہ سے بیٹھ کر نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ عذر نہ ہونے پر بیٹھ کر نماز پڑھنے سے آدھا ثواب ملتا ہے۔
اس حدیث میں ذکر ہے کہ نفلی نماز بھی کھڑے ہو کر پڑھنی چاہیے۔ بعض لوگوں نے معمول بنا لیا ہے کہ وہ نفلوں کو بیٹھ کر ہی پڑھتے ہیں، اور تندرست بھی ہوتے ہیں، یہ خلاف سنت بیماری یا کمزوری کی وجہ سے بیٹھ کر نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ عذر نہ ہونے پر بیٹھ کر نماز پڑھنے سے آدھا ثواب ملتا ہے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 192 سے ماخوذ ہے۔