صحيح البخاري
كتاب الاستسقاء— کتاب: استسقاء یعنی پانی مانگنے کا بیان
بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نُصِرْتُ بِالصَّبَا»: باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ پروا ہوا کے ذریعہ مجھے مدد پہنچائی گئی۔
حدیث نمبر: 1035
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " نُصِرْتُ بِالصَّبَا وَأُهْلِكَتْ عَادٌ بِالدَّبُورِ " .مولانا داود راز
´ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے شعبہ نے حکم سے بیان کیا ، ان سے مجاہد نے ، ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے پروا ہوا کے ذریعہ مدد پہنچائی گئی اور قوم عاد پچھوا کے ذریعہ ہلاک کر دی گئی تھی ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الاستسقاء / حدیث: 1035
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 3205 | صحيح البخاري: 3343 | صحيح البخاري: 4105 | صحيح مسلم: 900 | معجم صغير للطبراني: 598
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا داود راز
1035. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’باد صبا سے میری مدد کی گئی اور قوم عاد کو مغربی ہوا سے ہلاک کیا گیا۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:1035]
حدیث حاشیہ: جنگ خندق میں بارہ ہزار کافروں نے مدینہ کو ہر طرف سے گھیر لیا تھا آخر اللہ نے پروا ہوا بھیجی، اس زور کے ساتھ کہ ان کے ڈیرے اکھڑ گئے۔
آگ بجھ گئی آنکھوں میں خاک گھس گئی جس پر کافر پریشان ہو کر بھاگ کھڑے ہوئے۔
آپ ﷺ کا یہ اشارہ اسی ہوا کی طرف ہے۔
آگ بجھ گئی آنکھوں میں خاک گھس گئی جس پر کافر پریشان ہو کر بھاگ کھڑے ہوئے۔
آپ ﷺ کا یہ اشارہ اسی ہوا کی طرف ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1035 سے ماخوذ ہے۔
✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
1035. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’باد صبا سے میری مدد کی گئی اور قوم عاد کو مغربی ہوا سے ہلاک کیا گیا۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:1035]
حدیث حاشیہ:
(1)
مشرقی جانب سے چلنے والی ہوا کو باد صبا کہتے ہیں۔
اسے قبول بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ حق قبول کرنے والوں کے لیے نصرت و تائید کا باعث ہوتی ہے۔
غزوۂ خندق کے موقع پر اس کا عملی مظاہرہ ہوا جبکہ بارہ ہزار (12000)
کافروں نے مدینہ منورہ کا محاصرہ کر لیا تھا۔
اللہ تعالیٰ نے باد صبا چلا دی جس سے کافر پریشان ہو کر بھاگ نکلے۔
(2)
امام بخاری ؒ کا مذکورہ عنوان اور پیش کردہ حدیث سے یہ مقصد ہے کہ ہر قسم کی ہوا رسول اللہ ﷺ کی پریشانی کا باعث نہیں تھی بلکہ اس قسم کی ہوا چلنے سے آپ خوش ہوتے تھے۔
خوف اس وقت طاری ہوتا تھا جب مغربی ہوا چلتی کیونکہ یہ ہوا عام طور پر عذاب الٰہی کا پیش خیمہ ہوتی تھی۔
(فتح الباري: 671/2)
(1)
مشرقی جانب سے چلنے والی ہوا کو باد صبا کہتے ہیں۔
اسے قبول بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ حق قبول کرنے والوں کے لیے نصرت و تائید کا باعث ہوتی ہے۔
غزوۂ خندق کے موقع پر اس کا عملی مظاہرہ ہوا جبکہ بارہ ہزار (12000)
کافروں نے مدینہ منورہ کا محاصرہ کر لیا تھا۔
اللہ تعالیٰ نے باد صبا چلا دی جس سے کافر پریشان ہو کر بھاگ نکلے۔
(2)
امام بخاری ؒ کا مذکورہ عنوان اور پیش کردہ حدیث سے یہ مقصد ہے کہ ہر قسم کی ہوا رسول اللہ ﷺ کی پریشانی کا باعث نہیں تھی بلکہ اس قسم کی ہوا چلنے سے آپ خوش ہوتے تھے۔
خوف اس وقت طاری ہوتا تھا جب مغربی ہوا چلتی کیونکہ یہ ہوا عام طور پر عذاب الٰہی کا پیش خیمہ ہوتی تھی۔
(فتح الباري: 671/2)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1035 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3343 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
3343. حضرت ابن عباس ؓسے روایت ہے، وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’باد صبا سے میری مدد کی گئی اور قوم عاد کو پچھم کی ہوا سے ہلاک کردیا گیا۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:3343]
حدیث حاشیہ:
غزوہ احزاب کے موقع پر باد صبا سے رسول اللہ ﷺ کی مدد کی گئی اور قوم عاد کو پچھم کی ہوا سے ہلاک کیا گیا جو مسلسل آٹھ دن اور سات راتیں چلتی رہی۔
وہ ہوا اس قدر سرکش تھی کہ وہ ہوا کو کنٹرول کرنے والے فرشتوں کے قابو سے بھی باہر تھی اور وہ سر کش اللہ کے حکم اور اس کی اجازت سے تھی۔
أعاذنا اللہ منها۔
غزوہ احزاب کے موقع پر باد صبا سے رسول اللہ ﷺ کی مدد کی گئی اور قوم عاد کو پچھم کی ہوا سے ہلاک کیا گیا جو مسلسل آٹھ دن اور سات راتیں چلتی رہی۔
وہ ہوا اس قدر سرکش تھی کہ وہ ہوا کو کنٹرول کرنے والے فرشتوں کے قابو سے بھی باہر تھی اور وہ سر کش اللہ کے حکم اور اس کی اجازت سے تھی۔
أعاذنا اللہ منها۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3343 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 4105 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
4105. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے، وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’باد صبا کے ذریعے سے میری مدد کی گئی اور قوم عاد کو دبور ہوا سے تباہ کیا گیا۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:4105]
حدیث حاشیہ:
1۔
مشرق سے چلنے والی ہوا کو صبا اور مغرب سے چلنے والی ہوا کو دبورکہتے ہیں۔
2۔
جب کفار نے مدینہ طیبہ کا محاصرہ کیا تھا تو بادصبا چلی تھی۔
جس کی تاب نہ لا کر کفار بھاگ نکلے تھے۔
اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں اس ہوا کا ذکر کیا ہے: ’’جب لشکر تم پر چڑھ آئے تھے تو ہم نے آندھی اور ایسے لشکر بھیج دیے جو تمھیں نظر نہ آتے تھے۔
‘‘ (الأحزاب: 9/33)
یہ ہوا بے انتہا ٹھنڈی اور اتنی تیز تھی کہ اس نے کفار کے خیمے اکھاڑدیے۔
گھوڑوں کے رسے ٹوٹ گئے اور وہ بھاگ کھڑے ہوئےہنڈیاں ٹوٹ پھوٹ گئیں وہ اتنی ٹھنڈی تھی کہ بدن کو چیرتی اور آر پار ہوتی معلوم ہوتی تھی۔
اس سے کفار کے لشکر میں بدحواسی پھیل گئی اور بھگدڑ مچ گئی۔
جس کے نتیجے میں وہ میدان چھوڑ کر بھاگ نکلے۔
(فتح الباري: 502/7)
حضرت ابو سعید خدری ؓ کا بیان ہے کہ وہ خندق کے دن رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے عرض کی: اللہ کے رسول اللہ ﷺ! ہمارے دل گھبراہٹ کی وجہ سے حلق تک آگئے ہیں آپ ہمیں کوئی دعا بتائیں جو ہم پڑھیں تو آپ نے یہ دعا سکھائی: (اللَّٰهُمَّ اسْتُرْ عَوَرَاتِنَا، وَآمِنْ رَوَعَاتِنَا)
’’اے اللہ!پردہ پوشی فرما اور ہمیں گھبراہٹ سے امن عطا کر۔
‘‘ اس وقت اللہ تعالیٰ نے کفار پر سخت ٹھنڈی اور نتہائی تیز ہوا مسلط کردی جس کی تاب نہ لا کر وہ میدان چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔
(مسند احمد: 3/3)
1۔
مشرق سے چلنے والی ہوا کو صبا اور مغرب سے چلنے والی ہوا کو دبورکہتے ہیں۔
2۔
جب کفار نے مدینہ طیبہ کا محاصرہ کیا تھا تو بادصبا چلی تھی۔
جس کی تاب نہ لا کر کفار بھاگ نکلے تھے۔
اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں اس ہوا کا ذکر کیا ہے: ’’جب لشکر تم پر چڑھ آئے تھے تو ہم نے آندھی اور ایسے لشکر بھیج دیے جو تمھیں نظر نہ آتے تھے۔
‘‘ (الأحزاب: 9/33)
یہ ہوا بے انتہا ٹھنڈی اور اتنی تیز تھی کہ اس نے کفار کے خیمے اکھاڑدیے۔
گھوڑوں کے رسے ٹوٹ گئے اور وہ بھاگ کھڑے ہوئےہنڈیاں ٹوٹ پھوٹ گئیں وہ اتنی ٹھنڈی تھی کہ بدن کو چیرتی اور آر پار ہوتی معلوم ہوتی تھی۔
اس سے کفار کے لشکر میں بدحواسی پھیل گئی اور بھگدڑ مچ گئی۔
جس کے نتیجے میں وہ میدان چھوڑ کر بھاگ نکلے۔
(فتح الباري: 502/7)
حضرت ابو سعید خدری ؓ کا بیان ہے کہ وہ خندق کے دن رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے عرض کی: اللہ کے رسول اللہ ﷺ! ہمارے دل گھبراہٹ کی وجہ سے حلق تک آگئے ہیں آپ ہمیں کوئی دعا بتائیں جو ہم پڑھیں تو آپ نے یہ دعا سکھائی: (اللَّٰهُمَّ اسْتُرْ عَوَرَاتِنَا، وَآمِنْ رَوَعَاتِنَا)
’’اے اللہ!پردہ پوشی فرما اور ہمیں گھبراہٹ سے امن عطا کر۔
‘‘ اس وقت اللہ تعالیٰ نے کفار پر سخت ٹھنڈی اور نتہائی تیز ہوا مسلط کردی جس کی تاب نہ لا کر وہ میدان چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔
(مسند احمد: 3/3)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4105 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3205 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
3205. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے، وہ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’بادصبا سے میری مدد کی گئی اورپچھم کی ہوا سے قوم عاد کو ہلاک کیا گیا۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:3205]
حدیث حاشیہ:
بادصبا مشرق کی طرف سے چلتی ہے اور پچھم مغربی جانب سے آتی ہے، گویا رسول اللہ ﷺ نے اس ارشاد گرامی سے قرآن کریم کی درج ذیل آیت کی طرف اشارہ فرمایا ہے: ﴿فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيحًا وَجُنُودًا لَّمْ تَرَوْهَا﴾ ’’ہم نے آندھی اور ایسے لشکر بھیج دیے جو تمھیں نظر نہ آتے تھے۔
‘‘ (الأحزاب: 9)
اللہ تعالیٰ نے اس ہوا کے ذریعے سے کفار کو نیست ونابود کیا اور رسول اللہ ﷺ کی مدد فرمائی۔
(فتح الباري: 363/6)
یہ ہوا اتنی تیز تھی کہ اس نے دشمنوں کے خیمے اکھاڑ دیے اور گھوڑوں کے رسے ٹوٹ گئے،ان کی ہنڈیاں ٹوٹ پھوٹ گئیں اور آگ بجھ گئی اور ہوا اتنی ٹھنڈی تھی کہ کفار کے بدن کو چھید کرتی اور آرپار ہوتی معلوم ہوتی تھی۔
واللہ أعلم۔
بادصبا مشرق کی طرف سے چلتی ہے اور پچھم مغربی جانب سے آتی ہے، گویا رسول اللہ ﷺ نے اس ارشاد گرامی سے قرآن کریم کی درج ذیل آیت کی طرف اشارہ فرمایا ہے: ﴿فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيحًا وَجُنُودًا لَّمْ تَرَوْهَا﴾ ’’ہم نے آندھی اور ایسے لشکر بھیج دیے جو تمھیں نظر نہ آتے تھے۔
‘‘ (الأحزاب: 9)
اللہ تعالیٰ نے اس ہوا کے ذریعے سے کفار کو نیست ونابود کیا اور رسول اللہ ﷺ کی مدد فرمائی۔
(فتح الباري: 363/6)
یہ ہوا اتنی تیز تھی کہ اس نے دشمنوں کے خیمے اکھاڑ دیے اور گھوڑوں کے رسے ٹوٹ گئے،ان کی ہنڈیاں ٹوٹ پھوٹ گئیں اور آگ بجھ گئی اور ہوا اتنی ٹھنڈی تھی کہ کفار کے بدن کو چھید کرتی اور آرپار ہوتی معلوم ہوتی تھی۔
واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3205 سے ماخوذ ہے۔