حدیث نمبر: 1104
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أنا سُفْيَانُ ، عَنِ الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ مُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : بَعَثَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَأْخُذَ مِنْ ثَلاثِينَ مِنَ الْبَقَرِ تَبِيعًا ، أَوْ تَبِيعَةً ، وَمَنْ كُلِّ حَالِمٍ دِينَارًا ، أَوْ عِدْلَهُ مَعَافِرَ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا معاذ رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے انہیں یمن بھیجا تو حکم دیا کہ تیس گائیوں میں سے ایک تبیع (گائے کا ایک سالہ نر یا مادہ بچہ) لینا اور ہر بالغ شہری سے ایک دینار یا اس کے مساوی معافری (یمن کا کپڑا) لینا۔
حدیث نمبر: 1105
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ : ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، سَمِعَ بَجَالَةَ ، يَقُولُ : كُنْتُ كَاتِبًا لِجَزْءِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، فَأَتَانَا كِتَابُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَبْلَ مَوْتِهِ بِسَنَةٍ : " اقْتُلُوا كُلَّ سَاحِرٍ ، وَفَرِّقُوا بَيْنَ كُلِّ ذِي مُحْرِمٍ مِنَ الْمَجُوسِ وَبَيْنَ حَرِيمِهِ فِي كِتَابِ اللَّهِ ، وَصَنَعَ طَعَامًا وَعَرَضَ السَّيْفَ عَلَى فَخِذِهِ فَأَكَلُوا بِغَيْرِ زَمْزَمَةٍ ، وَأُلْقَوْا وَقْرَ بَغْلٍ أَوْ بَغْلَيْنِ مِنْ فِضَّةٍ ، وَلَمْ يَكُنْ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخَذَ الْجِزْيَةَ مِنَ الْمَجُوسِ حَتَّى شَهِدَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَهَا مِنْ مَجُوسِ هَجَرَ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
بجالہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں جزء بن معاویہ کا سیکرٹری تھا۔ سیدنا عمر رضی الله عنہ کی وفات سے ایک سال پہلے ہمارے پاس ان کا خط آیا (جس میں لکھا تھا): ہر جادوگر کو قتل کر دیں، ہر اس محرم عورت سے شادی کرنے والے مجوسی اور اس کی بیوی کو الگ الگ کر دیں جن (محرمات) کا ذکر کتاب الله میں ہے۔ انہوں نے کھانا پکایا اور اپنی ران پر تلوار رکھ لی، چنانچہ انہوں (مجوسیوں) نے گنگنائے بغیر کھانا کھایا، انہوں نے ایک یا دو خچروں کے بوجھ کے برابر چاندی ڈھیر کر دی۔ سیدنا عمر رضی الله عنہ مجوسیوں سے جزیہ نہیں لیتے تھے حتیٰ کہ سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی الله عنہ نے گواہی دی کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ہجر کے مجوسیوں سے جزیہ لیا تھا۔
حدیث نمبر: 1106
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : دَخَلَ هِشَامُ بْنُ حَكِيمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى عُمَيْرٍ الأَنْصَارِيِّ بِالشَّامِ ، وَكَانَ عَامِلا لِعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ ، فَوَجَدَ عِنْدَهُ قَوْمًا مِنَ الأَنْبَاطِ مُشَمِّسِينَ ، فَقَالَ : مَا بَالُ هَؤُلاءِ ؟ قَالَ : حَبَسْتُهُمْ فِي الْجِزْيَةِ ، فَقَالَ هِشَامٌ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ الَّذِي يُعَذِّبُ النَّاسَ فِي الدُّنْيَا يُعَذِّبُهُ اللَّهُ فِي الآخِرَةِ " ، فَخَلَّى عَنْهُمْ عُمَيْرٌ وَتَرَكَهُمْ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
عروہ کہتے ہیں کہ ہشام بن حکیم رضی الله عنہ، عمیر انصاری کے پاس گئے جو کہ سیدنا عمر رضی الله عنہ کی طرف سے شام کے گورنر تھے۔ ان کے پاس کچھ نباٹ لوگوں کو دھوپ میں کھڑا پا کر ان سے پوچھا: ان کا کیا قصور ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے ان کو جزیہ (نہ دینے) کے جرم میں روکا ہوا ہے۔ تو ہشام کہنے لگے: میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو دنیا میں لوگوں کو (بلا وجہ) تکلیف دیتا ہے آخرت کے دن الله تعالیٰ اسے عذاب میں مبتلا کرے گا۔ چنانچہ عمیر نے ان کو آزاد کر دیا۔
حدیث نمبر: 1107
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ وَابْنُ الطَّبَّاعِ ، قَالا : ثنا جَرِيرٌ ، عَنْ قَابُوسَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا تَصْلُحُ مِلَّتَانِ " ، وَقَالَ ابْنُ الطَّبَّاعِ : قِبْلَتَانِ فِي قَرْيَةٍ وَلَيْسَ عَلَى مُسْلِمٍ جِزْيَةٌ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبد الله بن عباس رضی الله عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ایک بستی میں دو دین یا دو قبلے کے لوگوں کا (اکٹھا) رہنا درست نہیں، نیز کسی مسلمان پر جزیہ نہیں ہے۔