کتب حدیثالمنتقى ابن الجارودابوابباب: زرہ پہننے کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 1060
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ : ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ حُصَيْفَةَ ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ عَلَيْهِ يَوْمَ أُحُدٍ دِرْعَانِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ غزوہ احد کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر دو زرہیں تھیں۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 1060
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده ضعيف
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده ضعيف : مسند الإمام أحمد : 3/449، الشمائل المحمدية للترمذي : 112، السنن الكبرى للنسائي : 8583، سنن ابن ماجه : 2806، سفیان بن عیینہ مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔»
حدیث نمبر: 1061
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا حَجَّاجٌ ، قَالَ : ثنا حَمَّادٌ ، قَالَ : ثنا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّهُ لَيْسَ لِنَبِيٍّ إِذَا لَبِسَ لأْمَتَهُ أَنْ يَضَعَهَا حَتَّى يُقَاتِلَ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نبی کو یہ مناسب نہیں ہے کہ اسلحہ پہنے اور جنگ کیے بغیر اتار دے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 1061
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده ضعيف والحديث صحيح له شواهد
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده ضعيف والحديث صحيح له شواهد : مسند الإمام أحمد : 3/351، سنن الدارمي : 2159، السنن الكبرى للنسائي : 7647، ابو الزبیر مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔ المستدرک للحاکم (2/128-129)، السنن الکبریٰ للبیہقی (4117) اور دلائل النبوۃ للبیہقی (3/204) میں اس کا بسند حسن شاہد بھی ہے، امام حاکم رحمہ اللہ نے اسے صحیح الاسناد اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے۔ حافظ ابن ملقن رحمہ اللہ (البدر المنیر: 8/447) اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (التلخیص: 1452) نے اس کی سند کو حسن کہا ہے۔ تنبیہ: حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (تغلیق التعلیق: 2/332) نے ابوالزبیر سے سماع کی تصریح ذکر کر کے اس حدیث کی سند کو صحیح کہا ہے۔ بوصیری رحمہ اللہ (اتحاف الخیرہ: 6035) نے بھی اس کی سند کو صحیح قرار دیا ہے۔»