کتب حدیثالمنتقى ابن الجارودابوابباب: وہ عمر جس کو پہنچ کر لڑکا بچپن کی حد سے نکل جاتا ہے (بالغ کہلاتا ہے)
حدیث نمبر: 1045
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالَ : ثنا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَطِيَّةَ الْقُرَظِيِّ ، قَالَ : كَانُوا يَوْمَ بَنِي قُرَيْظَةَ يَنْظُرُونَ إِلَى شَعْرَةِ الرَّجُلِ ، فَإِنْ كَانَتْ قَدْ خَرَجَتْ قَتَلُوهُ ، وَإِنْ لَمْ تَكُنْ خَرَجَتْ تَرَكُوهُ ، فَنَظَرُوا إِلَى شَعْرِي فَلَمْ تَكُنْ خَرَجَتْ ، فَتَرَكُونِي " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عطیہ قرشی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ غزوہ بنو قریظہ کے دن وہ (صحابہ) زیر ناف بالوں کو دیکھتے تھے، جس کے بال اگے ہوتے تو اسے قتل کر دیتے اور جس کے بال نہ اگے ہوتے اسے چھوڑ دیتے، انہوں نے مجھے دیکھا تو میرے بال نہیں اگے تھے چنانچہ انہوں نے مجھے چھوڑ دیا۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 1045
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده صحيح : مسند الحميدي : 912، مسند الإمام أحمد : 4/310-384، سنن أبي داود : 4404-4405، سنن النسائي : 3460، سنن الترمذي : 1584، سنن ابن ماجه : 2541، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن صحیح، امام ابو عوانہ رحمہ اللہ (6478) امام ابن حبان رحمہ اللہ (2581) اور حافظ ابن ملقن رحمہ اللہ (البدر المنیر: 6/671) نے صحیح، امام حاکم رحمہ اللہ (3/35) نے صحیح الاسناد کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔»