حدیث نمبر: 985
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِم ، قَالَ : ثنا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْعُمْرَى مِيرَاثٌ لأَهْلِهَا ، أَوْ جَائِزٌ لأَهْلِهَا " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمری (جو چیز عمر بھر کے لیے دی جائے) اپنے اہل کی میراث ہے یا اپنے اہل کے لیے جائز ہے۔
حدیث نمبر: 986
حَدَّثَنَا ابْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ : ثنا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے بھی یہ روایت مروی ہے۔
حدیث نمبر: 987
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : ثنا مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَيُّمَا رَجُلٍ أُعْمِرَ عُمْرَى لَهُ وَلِعَقِبِهِ ، فَإِنَّهُ لِلَّذِي يُعْطَاهَا لا تَرْجِعُ إِلَى الَّذِي أَعْطَاهَا ، لأَنَّهُ أَعْطَى عَطَاءً وَقَعَتْ فِيهِ الْمَوَارِيثُ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی کو اس کے اور اس کی اولاد کے لیے عمری دیا، تو وہ اس شخص کا ہوگا، جسے دیا گیا ہے، دینے والے کو واپس نہیں ملے گا، کیونکہ اس نے ایسا عطیہ دیا ہے، جس میں وراثت کا نفاذ ہو گیا ہے۔
حدیث نمبر: 988
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أنا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : إِنَّمَا الْعُمْرَى الَّتِي أَجَازَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقُولَ : " هِيَ لَكَ وَلِعَقِبِكَ ، فَأَمَّا إِذَا قَالَ : هِيَ لَكَ مَا عِشْتَ ، فَإِنَّهَا تَرْجِعُ إِلَى صَاحِبِهَا " ، قَالَ مَعْمَرٌ : وَكَانَ الزُّهْرِيُّ يُفْتِي بِهِ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جو عمری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جائز قرار دیا ہے وہ یہ ہے کہ (دینے والا) کہے: یہ تیرے اور تیرے ورثا کے لیے ہے، اگر وہ یوں کہے: جب تک تو زندہ ہے، یہ چیز تیری ہے، تو وہ مالک کو واپس مل جائے گی۔ معمر کہتے ہیں کہ زہری کا یہی فتویٰ تھا۔
حدیث نمبر: 989
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ آدَمَ ، قَالَ : ثنا مُعَاوِيَةُ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ ابْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الرُّقْبَى لِمَنْ أُرْقِبَهَا ، وَالْعُمْرَى لِمَنْ أُعْمِرَهَا " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رقبی اسی کی ملکیت ہے، جسے ہبہ کیا گیا اور عمری بھی اسی کی ملکیت ہے جسے (عمر بھر کے لیے) ہبہ کیا گیا۔
حدیث نمبر: 990
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ أَبِي الرَّبِيعِ ، قَالَ : أنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَنِي عَطَاءٌ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا رُقْبَى ، وَلا عُمْرَى ، فَمَنْ أُعْمِرَ شَيْئًا ، أَوْ أُرْقِبَهُ فَهُوَ لَهُ حَيَاتَهُ وَمَمَاتَهُ " ، قَالَ : وَالرُّقْبَى : أَنْ يَقُولَ هُوَ لِلآخِرِ مِنِّي وَمِنْكَ ، وَالْعُمْرَى : أَنْ يَجْعَلَ لَهُ حَيَاتَهُ أَنْ يَعْمُرَهُ حَيَاتَهُمَا ، قَالَ عَطَاءٌ : فَإِنْ أَعْطَاهُ سَنَةً أَوْ سَنَتَيْنِ أَوْ شَيْئًا يُسَمِّيهِ فَهِيَ مَنِيحَةٌ يَمْنَحَهَا إِيَّاهُ لَيْسَ بِعُمْرَى .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ رقبی (واپس لینا) جائز ہے اور نہ عمری، جسے عمری یا رقبی دیا گیا، تو وہ چیز زندگی میں بھی اسی کی ہے اور مرنے کے بعد بھی اسی کی ہے، سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رقبی یہ ہے کہ ایک آدمی دوسرے سے کہے: میری طرف سے اور تیری طرف سے (یعنی میں پہلے مر گیا، تو تیری ہے اور تو پہلے مر گیا، تو مجھے واپس مل جائے گی) اور عمری یہ ہے کہ اس کی زندگی تک وہ چیز اسے دے دے۔ عطاء کہتے ہیں: اگر ایک سال یا دو سال یا مقررہ مدت تک کے لیے دے، وہ تحفہ ہے، عمری نہیں ہے۔