حدیث نمبر: 666
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ ، أَخْبَرَهُمْ قَالَ : أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، وَسُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّوْرِيُّ ، ، أَنَّ رَبِيعَة ابْنَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُمْ ، عَنْ يَزِيدُ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : أَتَى رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ ، فَسَأَلَ عَنِ اللُّقَطَةِ ، فَقَالَ : " اعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً ، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا وَإِلا فَشَأْنُكَ بِهَا " ، قَالَ : فَضَالَةُ الْغَنَمِ ؟ قَالَ : " لَكَ ، أَوْ لأَخِيكَ ، أَوْ لِلذِّئْبِ " ، قَالَ : فَضَالَةُ الإِبِلِ ؟ قَالَ : " مَعَهَا حِذَاؤُهَا وَسِقَاؤُهَا تَرِدُ الْمَاءَ وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ حَتَّى يَلْقَاهَا رَبُّهَا " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، ایک آدمی نے آ کر لقطہ (گری ہوئی چیز) کے متعلق پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے برتن کی بناوٹ اور اس کے بندھن کو ذہن میں رکھیے، پھر ایک سال تک اس کا اعلان کیجیے، اگر اس کا مالک آجائے، تو (اسے دے دیں) ورنہ اپنی ضرورت پوری کر لیں۔“ انہوں نے پوچھا: ”اگر راستہ میں گمشدہ بکری مل جائے، تو اس کا کیا حکم ہے؟“ فرمایا: ”وہ آپ کی ہوگی یا آپ کے بھائی کی، یا پھر بھیڑیا کھالے گا۔“ انہوں نے پوچھا: ”گمشدہ اونٹ ملے، (تو اس کا کیا حکم ہے؟)“ فرمایا: ”اس کے ساتھ جوتے اور اس کا مشکیزہ موجود ہے، وہ خود ہی پانی پر پہنچ جائے گا اور خود ہی درخت کے پتے کھالے گا، اس طرح کسی نہ کسی دن اس کا مالک اسے پالے گا۔“
حدیث نمبر: 667
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، ح قَالَ وَثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أنا سُفْيَانُ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ : " سَأَلَ أَعْرَابِيُّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ اللُّقَطَةِ ، فَقَالَ : " عَرِّفْهَا سَنَةً فَإِنْ جَاءَكَ أَحَدٌ يُخْبِرُكَ بِعِفَاصِهَا وَوِكَائِهَا وَإِلا فَاسْتَمْتِعْ بِهَا " وَسَأَلَهُ عَنْ ضَالَّةِ الإِبِلِ ، فَتَمَعَّرَ وَجْهُهُ ، وَقَالَ : " مَا لَكَ وَلَهَا مَعَهَا حِذَاؤُهَا وَسِقَاؤُهَا ، تَرِدُ الْمَاءَ وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ ، دَعْهَا حَتَّى يَلْقَاهَا رَبُّهَا " وَسَأَلَهُ عَنْ ضَالَّةِ الْغَنَمِ ، قَالَ : " هِيَ لَكَ ، أَوْ لأَخِيكَ ، أَوْ لِلذِّئْبِ " ، هَذَا حَدِيثُ الْفِرْيَابِيِّ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک اعرابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے لقطہ (گری ہوئی چیز) کے متعلق پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک سال تک اس کا اعلان کریں، اگر کوئی آکر آپ کو اس کے برتن اور بندھن کے متعلق بتا دے (تو اسے اس کا مال واپس کر دیں)، ورنہ اس سے فائدہ اٹھا لیں۔“ اس دیہاتی نے آپ سے اونٹ کے متعلق پوچھا، جو راستہ بھول گیا ہو، تو آپ کے چہرے کا رنگ بدل گیا، فرمایا: ”آپ کا اس سے کیا مطلب؟ اس کے ساتھ اس کے جوتے اور اس کا مشکیزہ موجود ہے، وہ خود ہی پانی پر پہنچ جائے گا اور خود ہی درخت کے پتے کھالے گا، اسے چھوڑ دیں تاکہ اس کا مالک اسے پالے۔“ انہوں نے گمشدہ بکری کے متعلق پوچھا (اگر مل جائے تو کیا کیا جائے؟) فرمایا: ”وہ آپ کی ہوگی یا آپ کے بھائی کی ہوگی یا بھیڑیا اسے اٹھا لے جائے گا۔“ یہ فریابی کی بیان کردہ روایت ہے۔
حدیث نمبر: 668
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو الْغَزِّيُّ ، قَالَ : ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ، قَالَ : وَجَدْتُ سَوْطًا فَأَخَذْتُهُ ، فَعَابَ ذَلِكَ عَلَيَّ زَيْدُ بْنُ صُوحَانَ وَسَلْمَانُ بْنُ رَبِيعَةَ ، فَقُلْتُ : إِنْ وَجَدْتُ صَاحِبَهُ دَفَعْتُ إِلَيْهِ وَإِلا اسْتَمْتَعْتُ بِهِ ، قَالَ : فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : أَحْسَنْتَ أَحْسَنْتَ ، وَجَدْتُ صُرَّةً فَأَتَيْتُ بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " عَرِّفْهَا ، فَعَرَّفْتُهَا سَنَةً ، فَلَمْ أَجِدْ أَحَدًا يَعْرِفُهَا ، ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : عَرِّفْهَا ، فَعَرَّفْتُهَا سَنَةً ، فَلَمْ أَجِدْ أَحَدًا يَعْرِفُهَا ، فَقَالَ : اعْلَمْ عِدَّتَهَا وَوِعَاءَهَا وَوِكَاءَهَا ، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا فَادْفَعْهَا إِلَيْهِ وَإِلا فَاسْتَمْتِعْ بِهَا " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا سوید بن غفلہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے ایک کوڑا ملا اور میں نے اسے اٹھا لیا، زید بن صوحان اور سلمان بن ربیعہ نے مجھ پر اعتراض کیا، میں نے کہا: ”اگر مجھے اس کا مالک مل گیا، تو میں اس کے حوالے کر دوں گا، ورنہ میں اس سے فائدہ اٹھاؤں گا۔“ سوید کہتے ہیں: میں نے اس کا تذکرہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے کیا، تو انہوں نے فرمایا: ”آپ نے ٹھیک کیا، ٹھیک کیا ہے، مجھے ایک تھیلی ملی تھی، میں اسے لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’ایک سال تک اس کا اعلان کریں۔‘ میں نے ایک سال تک اس کا اعلان کیا، مگر کوئی آدمی ایسا نہ ملا، جو اسے پہچان سکتا ہو۔ میں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’ایک سال تک اور اعلان کریں۔‘ میں نے ایک سال تک اس کا اعلان کیا، مگر کوئی آدمی ایسانہ ملا، جو اسے پہچان سکتا ہو۔ میں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’ایک سال تک مزید اعلان کریں۔‘ میں نے ایک سال تک اس کا اعلان کیا، مگر کوئی آدمی ایسانہ ملا، جو اسے پہچان سکتا ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’اس کی تعداد، تھیلی اور بندھن کو ذہن نشین کر لیں، اگر اس کا مالک آجائے تو اسے دے دینا، ورنہ اسے اپنی ضروریات میں خرچ کر لینا۔‘“
حدیث نمبر: 669
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ ، أَخْبَرَهُمْ قَالَ : ثني الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ اللُّقَطَةِ ، فَقَالَ : " عَرِّفْهَا سَنَةً ، فَإِنْ لَمْ تُعْتَرَفْ فَاعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَائَهَا ، ثُمَّ كُلْهَا ، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا فَأَدِّهَا إِلَيْهِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے لقطہ (گری ہوئی چیز) کے متعلق پوچھا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک سال تک اس کا اعلان کرتے رہیے، اگر اسے پہچاننے والا کوئی آدمی نہ آئے، تو اس کی تھیلی اور تسمے (یعنی علامات) کو ذہن نشین کر کے اسے کھا لیں، اگر (کسی وقت) اس کا مالک آ گیا، تو اسے دے دینا۔“
حدیث نمبر: 670
أَخْبَرَنَا ابْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ ، أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ ، أَخْبَرَهُمْ قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، وَهِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ رَجُلا مِنْ مُزَيْنَةَ أَتَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : كَيْفَ تَرَى فِي مَا يُوجَدُ فِي الطَّرِيقِ الْمِيتَاءِ وَفِي الْقَرْيَةِ الْمَسْكُونَةِ ؟ قَالَ : " عَرِّفْهُ سَنَةً ، فَإِنْ جَاءَ بَاغِيهِ فَادْفَعْهُ إِلَيْهِ وَإِلا فَشَأْنُكَ بِهَا ، وَإِنَّ جَاءَ طَالِبُهَا يَوْمًا مِنَ الدَّهْرِ فَأَدِّهَا إِلَيْهِ ، وَمَا كَانَ فِي الطَّرِيقِ غَيْرِ الْمِيتَاءِ أَوِ الْقَرْيَةِ غَيْرِ الْمَسْكُونَةِ فَفِيهِ وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ مزینہ قبیلے کا ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر کہنے لگا: ”جو چیز شارع عام یا آباد بستی سے ملے، تو اس کے متعلق آپ کیا فرماتے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک سال تک اس کا اعلان کیجیے، اگر اس کا متلاشی آجائے، تو اس کے حوالے کر دیں، ورنہ اپنی ضرورت پوری کر لیں، کسی بھی دن اگر کوئی آدمی اس کا مطالبہ کرنے آجائے، تو اسے دے دینا اور جو چیز ویران راستے یا بے آباد بستی سے ملے، تو اس میں اور دفینہ میں سے پانچواں حصہ ادا کرنا ہوگا۔“
حدیث نمبر: 671
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنِ الْتَقَطَ لُقَطَةً فَلْيُشْهِدْ ذَا عَدْلٍ أَوْ ذَوِي عَدْلٍ ، وَلا يَكْتُمْ وَلا يُغَيِّبْ ، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا ، وَإِلا فَهُوَ مَالُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کو کوئی گری پڑی چیز ملے، تو وہ ایک یا دو منصف آدمیوں کو اس پر گواہ بنالے، اس کو چھپا کر نہ رکھے، نہ ہی اس کو غائب کرے، اگر اس کا مالک آجائے، تو وہ اس کا زیادہ حقدار ہے، ورنہ وہ اللہ کا مال ہے، اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے دیتا ہے۔“