حدیث نمبر: 646
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، قَالَ : ثنا هُشَيْمٌ ، قَالَ : ثنا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَعَنْ آكِلَ الرِّبَا وَمُؤْكِلَهُ وَكَاتِبَهُ وَشَاهِدَيْهَ ، وَقَالَ : هُمْ سَوَاءٌ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے، کھلانے والے، لکھنے والے اور دونوں گواہوں پر لعنت کی ہے اور فرمایا: ”یہ سب (گناہ میں) برابر ہیں۔“
حدیث نمبر: 647
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ ، وَأَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ مَعْبَدٍ ، قَالا : ثنا النَّضْرُ هُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : ثنا عِكْرِمَةُ يَعْنِي ابْنَ عَمَّارٍ ، عَنْ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الرِّبَا سَبْعُونَ بَابًا ، أَهْوَنُهَا عِنْدَ اللَّهِ كَالَّذِي يَنْكِحُ أُمَّهُ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سود کے (گناہ کے) ستر حصے ہیں، اللہ کے نزدیک ان میں سب سے ہلکا گناہ اس شخص کے (گناہ کے) برابر ہے، جو اپنی ماں سے نکاح کرے۔“
حدیث نمبر: 648
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أنا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الزَّعْفَرَانِيِّ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ وَالذَّهَبُ بِالذَّهَبِ سَوَاءٌ بِسَوَاءٍ ، فَمَنْ زَادَ أَوِ ازْدَادَ فَقَدْ أَرْبَى الآخِذُ وَالْمُعْطِي سَوَاءٌ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چاندی چاندی کے بدلے اور سونا سونے کے بدلے مقدار میں برابر، برابر ہوں۔ جس نے زیادہ دیا یا زیادہ لیا، تو اس نے سود والا معاملہ کیا، لینے اور دینے والا دونوں برابر ہیں۔“
حدیث نمبر: 649
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ ، أَخْبَرَهُمْ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي رِجَالٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْهُمْ : مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، أَنَّ نَافِعًا مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ ، حَدَّثَهُمْ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلا مثلا بِمِثْلِ ، وَلا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ ، وَلا تَبِيعُوا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ إِلا مثلا بِمِثْلٍ ، وَلا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ ، وَلا تَبِيعُوا شَيْئًا مِنْهَا غَائِبًا بِنَاجِزٍ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سونا سونے کے بدلے اس وقت تک مت بیچیں، جب تک دونوں طرف سے برابر نہ ہو، دونوں طرف سے کسی کمی یا بیشی کو روا نہ رکھیں، چاندی چاندی کے بدلے اس وقت تک مت بیچیں، جب تک دونوں طرف سے برابر نہ ہو، دونوں طرف سے کسی کمی یا بیشی کو روا نہ رکھیں اور نہ ادھار کو نقد کے بدلے میں بیچیں۔“
حدیث نمبر: 650
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ آدَمَ ، قَالَ : ثنا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي الأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ ، وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ ، مثلا بِمِثْلٍ يَدًا بِيَدٍ ، فَإِذَا اخْتَلَفَتْ هَذِهِ الأَصْنَافُ بِيعُوا كَيْفَ شِئْتُمْ إِذَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سونا سونے کے بدلے، چاندی چاندی کے بدلے، کھجور کھجور کے بدلے، گندم گندم کے بدلے، جو جو کے بدلے اور نمک نمک کے بدلے مقدار میں برابر، برابر ہوں اور نقد نقد کے برابر ہوں، جب یہ اقسام بدل جائیں، تو پھر جس طرح چاہیں بیچیں، جب کہ دست بدست (نقد) ہو۔“
حدیث نمبر: 651
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ آدَمَ ، قَالَ : ثنا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الذَّهَبُ بِالْوَرِقِ رِبًا إِلا هَاءَ وَهَاءَ ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ رِبًا إِلا هَاءَ وَهَاءَ ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ رِبًا إِلا هَاءَ وَهَاءَ ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ رِبًا إِلا هَاءَ وَهَاءَ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سونا چاندی کے بدلے نقد نہ ہو، تو سود ہے، کھجور کھجور کے بدلے نقد نہ ہو، تو سود ہے، گندم گندم کے بدلے نقد نہ ہو، تو سود ہے، جو جو کے بدلے نقد نہ ہو، تو سود ہے۔“
حدیث نمبر: 652
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ آدَمَ ، قَالَ : ثنا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جَابِرٍ الأَحْمَسِيِّ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، ح وَثَنًا مَحْمُودُ بْنُ آدَمَ ، قَالَ : ثنا مَرْوَانُ يَعْنِي ابْنَ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، وَهَذَا حَدِيثُهُ عَنْ وَكِيعٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ ، الْكِفَّةُ بِالْكِفَّةِ ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ الْكِفَّةُ بِالْكِفَّةِ ، حَتَّى خَصَّ إِلَى الْمِلْحِ " ، قَالَ عُبَادَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : إِنِّي وَاللَّهِ لا أُبَالِي أَنْ لا أَكُونَ بِأَرْضِ مُعَاوِيَةَ ، وَقَالَ مَرْوَانُ : حَتَّى خَصَّاهُ أَنْ أَذْكُرَ الْمِلْحَ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سونا سونے کے بدلے برابر برابر ہو اور چاندی چاندی کے بدلے برابر برابر ہو، حتی کہ آپ نے نمک کا بھی خصوصی ذکر کیا۔“ سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”اللہ کی قسم! میں اس بات کی پرواہ نہیں کرتا کہ میں معاویہ کے علاقے میں نہ ہوں۔“ مروان کہتے ہیں: ”دونوں راویوں نے اسے خصوصیت دی کہ میں نمک کا ذکر کروں۔“
حدیث نمبر: 653
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أنا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : كُنَّا نُرْزَقُ تَمْرَ الْجَمْعِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَبِيعُ الصَّاعَيْنِ بِالصَّاعِ ، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " لا صَاعَا تَمْرٍ بِصَاعٍ ، وَلا دِرْهَمَانِ بِدِرْهَمٍ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ہمیں کھانے کے لیے گھٹیا کھجور دی جاتی تھی، تو ہم دو صاع دے کر (اچھی کھجور کا) ایک صاع لے لیا کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک یہ بات پہنچی، تو فرمایا: ”ایک صاع کے بدلے دو صاع (دینا) جائز نہیں، نہ ہی ایک درہم کے بدلے دو درہم جائز ہیں۔“
حدیث نمبر: 654
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ ، أَخْبَرَهُمْ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلانِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ رَبَاحٍ اللَّخْمِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ الأَنْصَارِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِخَيْبَرَ بِقِلادَةَ فِيهَا خَرَزٌ وَذَهَبٌ وَهِيَ مِنَ الْمَغَانِمِ تُبَاعُ ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالذَّهَبِ الَّذِي فِي الْقِلادَةِ فَنُزِعَ وَحْدَهُ ، ثُمَّ قَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ وَزْنًا بِوَزْنٍ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا فضالہ بن عبید انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ خیبر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک ہار پیش کیا گیا، جس میں سونا اور نگینے لگے ہوئے تھے۔ وہ ہار مالِ غنیمت میں آیا تھا اور بیچا جا رہا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہار میں لگے ہوئے سونے کو الگ کرنے کا حکم دیا، تو اسے الگ کر لیا گیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”سونا سونے کے بدلے برابر وزن میں بیچا جا سکتا ہے۔“
حدیث نمبر: 655
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : كُنْتُ أَبِيعُ الإِبِلَ بِالْبَقِيعِ ، فَأَبِيعُ بِالدَّنَانِيرِ وَآخُذُ الدَّرَاهِمَ ، وَأَبِيعُ بِالدَّرَاهِمِ وَآخُذُ الدَّنَانِيرَ ، قَالَ : فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتِ حَفْصَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، رُوَيْدَكَ أَسْأَلُكَ إِنِّي أَبِيعُ الإِبِلَ بِالْبَقِيعِ ، فَأَبِيعُ بِالدَّنَانِيرِ وَآخُذُ الدَّرَاهِمَ ، وَأَبِيعُ بِالدَّرَاهِمِ وَآخُذُ الدَّنَانِيرَ ، فَقَالَ : " لا بَأْسَ إِذَا أَخَذْتَهَا بِسِعْرِ يَوْمِهَا مَا لَمْ تَفْتَرِقَا وَبَيْنَكُمَا شَيْءٌ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں بقیع میں اونٹ بیچتا تھا، میں قیمت تو دیناروں میں طے کرتا اور وصولی درہموں میں کرتا اور اسی طرح قیمت درہموں میں طے کرتا اور وصولی دیناروں میں کرتا۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، جب کہ آپ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تھے، عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! ذرا ٹھہریں! میں آپ سے ایک مسئلہ پوچھنا چاہتا ہوں، میں بقیع میں اونٹ بیچتا ہوں، میں قیمت تو دیناروں میں طے کرتا ہوں اور وصولی درہموں میں کرتا ہوں، اسی طرح قیمت درہموں میں طے کرتا ہوں اور وصولی دیناروں میں کرتا ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس میں کوئی حرج نہیں، بشرطیکہ آپ اس دن کی موجودہ قیمت حاصل کریں اور آپس میں جدا ہونے سے پہلے پوری قیمت وصول کر لیں (یعنی کسی قسم کا ابہام نہ چھوڑیں)۔“
حدیث نمبر: 656
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ : ثنا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ التَّمْرِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلاحُهُ ، وَعَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کو پکنے سے پہلے بیچنے سے منع کیا ہے، نیز درخت پر لگی ہوئی کھجور کو خشک کھجور کے بدلے بیچنے سے بھی منع کیا ہے۔
حدیث نمبر: 657
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ ، أَخْبَرَهُمْ قَالَ : أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ مَوْلَى الأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ ، أَنَّ أَبَا عَيَّاشٍ مَوْلَى بَنِي زُهْرَةَ ، أَخْبَرَهُ ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، حَدَّثَهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْأَلُ عَنِ اشْتِرَاءِ التَّمْرِ بِالرُّطَبِ ، فَقَالَ : " أَيَنْقُصُ الرُّطَبُ إِذَا يَبِسَ ؟ قَالُوا : نَعَمْ ، فَنَهَى عَنْهُ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ سے تر کھجوروں کے بدلے خشک کھجوریں خریدنے کے متعلق پوچھا گیا، تو فرمایا: ”کیا تر کھجور خشک ہو کر کم ہو جاتی ہیں؟“ صحابہ نے عرض کیا: ”جی ہاں!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرما دیا۔
حدیث نمبر: 658
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ : ثنا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَخَّصَ فِي الْعَرَايَا أَنْ يُبَاعَ بِخَرْصِهَا كَيْلا " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع عرایا کی اجازت دی ہے کہ اس کا اندازہ لگا کر اس کے بدلے ماپ کر کھجوریں دے دی جائیں۔
حدیث نمبر: 659
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ ، أَخْبَرَهُمْ قَالَ : أَخْبَرَنِي مَالِكٌ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ مَوْلَى ابْنِ أَبِي أَحْمَدَ أَخْبَرَهُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَرْخَصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا مَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ أَوْ فِي خَمْسَةِ أَوْسُقٍ " ، شَكَّ دَاودُ بْنُ الْحُصَيْنِ لا يَدْرِي خَمْسَةَ أَوْسُقٍ أَوْ دُونَ خَمْسَةِ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ وسق یا اس سے کم بیع عرایا کی اجازت دی ہے۔ پانچ وسق ہے یا پانچ سے کم، اس میں داؤد بن حصین کو شک ہے۔
حدیث نمبر: 660
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : أنا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ ، قَالَ : أنا يَحْيَى ، عَنْ نَافِعِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَخَّصَ فِي الْعَرِيَّةِ أَنْ تُؤْخَذَ بِمِثْلِهَا خَرْصًا تَمْرًا يَأْكُلُهَا أَهْلُهَا رُطَبًا " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع عریہ کی اجازت دی ہے کہ اندازے سے اس کے برابر کھجوریں لے لی جائیں تاکہ خریدنے والا تازہ کھجور کھا سکے۔
حدیث نمبر: 661
حَدَّثَنَا عَبْدُ الله بْنُ هَاشِم ، قَالَ : ثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعْ ، عَنِ عَبْدُ الله ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ الْنَبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " عَامَلَ خَيْبَرَ بِشَطْرِ مَا يَخْرَجَ مِنْهَا مِنْ تَمْرٍ أَوْ زَرْعٍ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی کھجور اور اناج کی آدھی پیداوار پر وہاں کے رہنے والوں سے معاملہ طے کیا تھا۔
حدیث نمبر: 662
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، قَالَ : ثني عُقْبَةُ ، قَالَ : ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ ، قَالَ : ثني نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " عَامَلَ أَهْلَ خَيْبَرَ بِشَطْرِ مَا خَرَجَ مِنْهَا مِنْ زَرْعٍ أَوْ تَمْرٍ ، فَكَانَ يُعْطِي أَزْوَاجَهُ كُلَّ عَامٍ مِائَةَ وَسْقٍ ، ثَمَانُونَ وَسْقًا تَمْرًا ، وَعِشْرُونَ وَسْقًا شَعِيرًا " ، فَلَمَّا قَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَسَّمَ خَيْبَرَ فَخَيَّرَ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقْطَعَ لَهُنَّ الأَرْضَ ، أَوْ يَضْمَنَ لَهُنَّ الْوُسُوقَ ، فَمِنْهُنَّ مَنِ اخْتَارَ أَنْ يَقْطَعَ لَهَا الأَرْضَ ، وَمِنْهُنَّ مَنِ اخْتَارَ الْوُسُوقَ ، وَكَانَتْ عَائِشَةُ وَحَفْصَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا مِمَّنِ اخْتَارَ الْوُسُوقَ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر والوں (یہودیوں) سے کھجور اور اناج کی آدھی پیداوار پر معاملہ کیا تھا۔ آپ اس میں سے ہر سال اپنی ازواجِ مطہرات کو اسی (80) وسق کھجور اور بیس (20) وسق جو (کل سو (100) وسق) دیا کرتے تھے۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے اور انہوں نے خیبر کی زمین تقسیم کی، تو انہوں نے ازواجِ مطہرات کو اختیار دیا کہ وہ چاہیں تو انہیں زمین کا ٹکڑا دے دیا جائے اور اگر چاہیں تو وسق ہی لیتی رہیں، چنانچہ ان میں سے بعض نے زمین لینا پسند کیا اور بعض نے وسق لینا پسند کیا۔ سیدہ عائشہ اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہما ان میں شامل تھیں، جنہوں نے وسق لینا پسند کیا۔
حدیث نمبر: 663
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : ثني مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَجْلَى الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى مِنْ أَرْضِ الْحِجَازِ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا ظَهَرَ عَلَى خَيْبَرَ أَرَادَ إِخْرَاجَ الْيَهُودِ مِنْهَا ، وَكَانَتِ الأَرْضُ حِينَ ظُهِرَ عَلَيْهَا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُسْلِمِينَ فَأَرَادَ إِخْرَاجَ الْيَهُودِ مِنْهَا ، فَسَأَلَتِ الْيَهُودُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُقِرَّهُمْ بِهَا عَلَى أَنْ يَكْفُوا عَمَلَهَا وَلَهُمْ نِصْفُ التَّمْرِ ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نُقِرُّكُمْ بِهَا عَلَى ذَلِكَ مَا شِئْنَا " فَقَرُّوا بِهَا حَتَّى أَجْلاهُمْ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى تَيْمَاءَ وَأَرِيحَاءَ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہود و نصاریٰ کو سرزمینِ حجاز سے نکال دیا اور جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر پر فتح پائی، تو آپ نے بھی یہودیوں کو وہاں سے نکالنا چاہا تھا۔ جب آپ کو وہاں فتح حاصل ہوئی، تو اس کی زمین اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کی ہوگئی۔ آپ کا ارادہ یہودیوں کو وہاں سے باہر کرنے کا تھا، لیکن یہودیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ ہمیں یہیں رہنے دیں، ہم خیبر کی اراضی کا سارا کام خود کریں گے اور اس کی پیداوار کا نصف حصہ لے لیں گے۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا، جب تک ہم چاہیں گے تمہیں اس شرط پر یہاں رہنے دیں گے۔“ چنانچہ وہ لوگ وہیں رہے اور پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں تیماء اور ایریحاء کی طرف جلا وطن کر دیا۔
حدیث نمبر: 664
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ : أنا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " اشْتَرَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ يَهُودِيٍّ طَعَامًا وَرَهَنَهُ دِرْعًا مِنْ حَدِيدٍ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی سے غلہ خریدا اور لوہے کی زرہ اس کے پاس گروی رکھ دی۔
حدیث نمبر: 665
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ : ثنا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، عَنْ زَكَرِيَّا يَعْنِي ابْنَ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الظَّهْرُ يُرْكَبُ بِنَفَقَتِهِ إِذَا كَانَ مَرْهُونًا ، وَيُشْرَبُ مِنْ لَبَنِ الدَّرِّ إِذَا كَانَ مَرْهُونًا ، وَعَلَى الَّذِي يَشْرَبُ وَيَرْكَبُ نَفَقَتُهُ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گروی جانور پر اس کے خرچ کے عوض سواری کی جائے، اسی طرح دودھ والا جانور جب گروی ہو، تو خرچ کے بدلے اس کا دودھ پیا جائے اور جو دودھ پئے گا یا سواری کرے گا، وہی اس کا خرچ بھی اٹھائے گا۔“