حدیث نمبر: 641
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ آدَمَ ، قَالَ : ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَيُّكُمْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ أَوْ نَخْلٌ فَلا يَبِعْهَا حَتَّى يَعْرِضَهَا عَلَى شَرِيكِهِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے پاس زمین یا کھجور (کا باغ) ہو، تو وہ اسے اپنے ساجھی پر پیش کیے بغیر فروخت نہ کرے۔“
حدیث نمبر: 642
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ : أنا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ إِدْرِيسَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالشُّفْعَةِ فِي كُلِّ شِرْكٍ لَمْ يُقْسَمْ رُبُعُهُ ، أَوْ حَائِط لا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَبِيعَ حَتَّى يُؤْذِنَ شَرِيكَهُ ، فَإِنْ شَاءَ أَخَذَ ، وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ ، فَإِنْ بَاعَ وَلَمْ يُؤْذِنْهُ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر اس مشترکہ چیز میں شفعہ کا حق رکھا ہے، جو تقسیم نہ ہوئی ہو، خواہ مکان ہو یا باغ ہو، اپنے ساجھی کو اطلاع دیے بغیر اسے بیچنا مالک کے لیے جائز نہیں ہے۔ وہ (ساجھی) چاہے گا، تو خرید لے گا، چاہے گا، تو چھوڑ دے گا۔ اگر مالک ساجھی کو بتائے بغیر فروخت کر دے، تو ساجھی اس کا زیادہ حقدار ہے۔
حدیث نمبر: 643
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلْمَان ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " إِنَّمَا جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشُّفْعَةَ فِي كُلِّ مَا لَمْ يُقْسَمْ ، فَإِذَا وَقَعَتِ الْحُدُودُ وَصُرِفَتِ الطُّرُقُ فَلا شُفْعَةَ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر اس چیز میں شفعہ کا حق دیا تھا، جو ابھی تقسیم نہ ہوئی ہو، لیکن جب حدود مقرر ہو جائیں اور راستے بدل دیے جائیں، تو پھر شفعہ کا حق باقی نہیں رہتا۔
حدیث نمبر: 644
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : ثنا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْجَارُ أَحَقُّ بِدَارِ الْجَارِ أَوِ الأَرْضِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پڑوسی ہمسائے کا گھر یا زمین خریدنے کا زیادہ حقدار ہے۔“
حدیث نمبر: 645
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ : ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْلَى بْنِ كَعْبٍ الثَّقَفِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الشَّرِيدِ ، يُحَدِّثُ عَنِ الشَّرِيدِ ، ح قَالَ وَحَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَهَذَا حَدِيثُ أَبِي عَاصِمٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ " ، زَادَ أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَمْرٍو : مَا سَقَبُهُ ؟ قَالَ : الشُّفْعَةُ ، قُلْتُ : زَعَمَ النَّاسُ أَنَّهُ الْجِوَارُ ؟ قَالَ : إِنَّ النَّاسَ يَقُولُونَ ذَلِكَ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا شرید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پڑوسی قربت کی وجہ سے زیادہ حقدار ہے۔“ ابو نعیم کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ میں نے عمرو سے پوچھا: ”سقب سے کیا مراد ہے؟“ تو انہوں نے فرمایا: ”اس سے شفعہ مراد ہے۔“ میں نے کہا: ”لوگ تو کہتے ہیں کہ اس سے پڑوس مراد ہے۔“ انہوں نے کہا: ”لوگ تو یہی کہتے ہیں۔“