کتب حدیثالمنتقى ابن الجارودابوابباب: خرید و فروخت میں فیصلوں کے ابواب
حدیث نمبر: 617
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا أَوْ يَكُونُ بَيْعُهُمَا عَنْ خِيَارٍ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خریدنے اور بیچنے والے جب تک ایک دوسرے سے الگ نہ ہو جائیں، انہیں اختیار باقی رہتا ہے، الا یہ کہ ان کی بیع خیار والی ہو۔“
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب البيوع والتجارات / حدیث: 617
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح البخاری: 2113، صحیح مسلم: 1531»
حدیث نمبر: 618
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ أَخْبَرَهُمْ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، أَنَّ نَافِعًا حَدَّثَهُ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا تَبَايَعَ الرَّجُلانِ فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا ، وَكَانَا جَمِيعًا ، أَوْ يُخَيِّرُ أَحَدُهُمَا الآخَرَ ، فَإِنْ خَيَّرَ أَحَدُهُمَا الآخَرَ فَتَبَايَعَا عَلَى ذَلِكَ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ ، وَإِنْ تَفَرَّقَا بَعْدَ أَنْ تَبَايَعَا وَلَمْ يَتْرُكْ وَاحِدٌ مِنْهُمَا الْبَيْعَ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب دو آدمی خرید و فروخت کریں، تو جب تک وہ دونوں جدا نہ ہو جائیں، انہیں (بیع توڑنے کا) اختیار باقی رہتا ہے، یہ اس صورت میں ہے کہ دونوں ایک ہی جگہ رہیں یا وہ ایک دوسرے کو (بیع توڑنے کا) اختیار دے دیں۔ اگر وہ ایک دوسرے کو اختیار دے دیں اور اس شرط پر بیع کریں، تو بیع منعقد ہو جائے گی۔ (اسی طرح) اگر بیع کرنے کے بعد دونوں الگ ہو جائیں اور کوئی بھی بیع سے انکار نہ کرے، تو بھی بیع لازم ہو جاتی ہے۔“
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب البيوع والتجارات / حدیث: 618
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح البخاری: 2112، صحیح مسلم: 1531»
حدیث نمبر: 619
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ : ثنا جَمِيلُ بْنُ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْوَضِيِّ ، قَالَ : غَزَوْنَا غَزَاةً لَنَا فَنَزَلْنَا مَنْزِلا ، فَبَاعَ صَاحِبٌ لَنَا فَرَسًا مِنْ رَجُلٍ بِعَبْدٍ فَلَبِثَا بَقِيَّةَ يَوْمِهِمَا وَلَيْلَتِهِمَا حَتَّى أَصْبَحَا ، قَالَ : فَلَمَّا حَضَرَ الرَّحْلُ قَامَ الرَّجُلُ إِلَى فَرَسِهِ لِيُسْرِجَهُ وَنَدِمَ ، قَالَ : فَأَخَذَهُ الرَّجُلُ بِالْبَيْعَةِ ، فَأَتَيَا أَبَا بَرْزَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَصَّا عَلَيْهِ قِصَّتَهُمَا ، فَقَالَ : أَتَرْضَيَانِ أَنْ أَقْضِيَ بَيْنَكُمَا بِقَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابوالوضیع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک غزوہ میں شریک تھے، تو ہم نے ایک جگہ پڑاؤ ڈالا۔ (اس دوران) ہمارے ایک ساتھی نے غلام کے عوض گھوڑا فروخت کر دیا، پھر صبح تک دن اور رات کا باقی حصہ انہوں نے وہیں گزارا۔ جب کوچ کرنے کا وقت آیا، تو وہ آدمی اپنے گھوڑے پر زین کسنے کے لیے اٹھا، تو نادم ہوا (کہ گھوڑا کیوں فروخت کیا)۔ دوسرے آدمی نے چونکہ گھوڑا خرید لیا تھا، لہذا اس نے گھوڑا پکڑ لیا۔ چنانچہ وہ دونوں سیدنا ابو برزہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور انہیں یہ قصہ سنایا۔ انہوں نے فرمایا: ”اگر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کے مطابق تمہارے درمیان فیصلہ کر دوں، تو منظور ہو گا؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خریدنے اور بیچنے والے جب تک ایک دوسرے سے الگ نہ ہو جائیں، انہیں (بیع توڑنے کا) اختیار باقی رہتا ہے۔“
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب البيوع والتجارات / حدیث: 619
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: اسنادہ صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح البخاری : 2112 ، صحیح مسلم : 1531/44 ، اسنادہ صحیح : مسند احمد : 425/4، سنن ابی داود : 3457 ، سنن ابن ماجہ : 2181»
حدیث نمبر: 620
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ مَسْعَدَةَ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْبَائِعُ وَالْمُبْتَاعُ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا ، إِلا أَنْ تَكُونَ صَفْقَةُ خِيَارٍ ، وَلا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يُفَارِقَهُ خَشْيَةَ أَنْ يَسْتَقِيلَهُ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خریدنے اور بیچنے والے جب تک ایک دوسرے سے الگ نہ ہو جائیں، انہیں اختیار باقی رہتا ہے، الا یہ کہ بیع خیار ہو (یعنی بیع توڑنے کا اختیار دیا گیا ہو) اور سودا واپس کرنے کے اندیشے کے پیش نظر جلدی سے الگ ہو جانا جائز نہیں۔“
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب البيوع والتجارات / حدیث: 620
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: اسنادہ حسن
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«اسنادہ حسن : مسند الامام احمد : 183/2 ، سنن ابی داود : 3456، سنن النسائی : 4488، سنن الترمذی : 1247 ، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن کہا ہے، سنن دار قطنی (50/3) میں ابن عجلان کی متابعت بکیر بن عبداللہ اصج نے سماع مسلسل کے ساتھ کر رکھی ہے۔»
حدیث نمبر: 621
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، قَالَ : ثنا قُرَّةُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنِ اشْتَرَى مُصَرَّاةً فَهُوَ بِالْخِيَارِ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ ، فَإِنْ رَدَّهَا رَدَّ مَعَهَا صَاعًا مِنْ طَعَامٍ لا سَمْرَاءَ " ، قَالَ أَبُو عَامِرٍ : يَقُولُ : لَيْسَ بُرًّا .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے مصراة (وہ جانور جس کے تھنوں میں دودھ روک لیا جائے) خریدی، تو اسے تین دن تک اختیار ہے، اگر واپس کرنا چاہتا ہے، تو واپس کر دے اور غلے کا ایک صاع بھی ساتھ دے، گندم نہ دے۔“ ابو عامر نے کہا: ”گندم نہ ہو۔“
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب البيوع والتجارات / حدیث: 621
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح مسلم : 1524»
حدیث نمبر: 622
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ : ثنا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَيُّمَا امْرَأَةٍ زَوَّجَهَا وَلِيَّانِ فَهِيَ لِلأَوَّلِ ، وَأَيُّمَا رَجُلٌ بَاعَ بَيْعًا مِنْ رَجُلَيْنِ فَالْبَيْعُ لِلأَوَّلِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس عورت کی شادی دو ولی کر دیں، تو پہلی شادی معتبر ہوگی اور جو آدمی دو آدمیوں کے ساتھ سودا کر دے، تو پہلا سودا معتبر ہوگا۔“
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب البيوع والتجارات / حدیث: 622
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: حسن
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«حسن : مسند الامام احمد : 8/5، سنن ابی داود : 2088 ، سنن النسائی : 4686، سنن الترمذی : 1110 ، سنن ابن ماجہ : 2190 ، اس حدیث کو امام حاکم رحمہ اللہ (2/ 35) نے امام بخاری رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے ، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے ،سنن نسائی (4686) میں قتادہ مدلس سے شعبہ بیان کر رہے ہیں، نیز المستدرک للحاکم (175/5) میں قتادہ کی متابعت اشعث بن عبدالملک حمرانی نے کر رکھی ہے۔»
حدیث نمبر: 623
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ : ثنا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا بَاعَ الْمُجِيرَانِ فَالْبَيْعُ لِلأَوَّلِ ، وَإِذَا نَكَحَ الْوَلِيَّانِ فَالنِّكَاحُ لِلأَوَّلِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر دو حصہ دار (کوئی چیز) بیچ دیں، تو پہلے کا کیا ہوا سودا معتبر ہوگا اور اگر دو ولی (کسی عورت کا) نکاح کر دیں، تو پہلے کا کیا ہوا نکاح معتبر ہوگا۔“
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب البيوع والتجارات / حدیث: 623
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: حسن
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«حسن : انظر الحدیث السابق»
حدیث نمبر: 624
حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ الرَّازِيُّ ، قَالَ : ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : ثنا عَمْرُو بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ قَيْسٍ الْمَاصِرِ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : بَاعَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ الأَشْعَثَ بْنَ قَيْسٍ سَبْيًا مِنْ سَبْيِ الإِمَارَةِ بِعِشْرِينَ أَلْفًا ، فَجَاءَهُ بِعَشَرَةِ آلافٍ , فَقَالَ : إِنَّمَا بِعْتُكَ بِعِشْرِينَ أَلْفًا ، قَالَ : إِنَّمَا أَخَذْتُهَا بِعَشَرَةِ آلافٍ ، قَالَ : فَإِنِّي أَرْضَى فِي ذَلِكَ بِرَأْيِكَ ، فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : إِنْ شِئْتَ حَدَّثْتُكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلْتُ ، قَالَ : أَجَلْ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا تَبَايَعَ الْمُتَبَايِعَانِ بَيْعًا لَيْسَ بَيْنَهُمَا شُهُودٌ فَالْقَوْلُ مَا قَالَ الْبَائِعُ أَوْ يَتَرَادَّانِ الْبَيْعَ " ، قَالَ الأَشْعَثُ : فَإِنِّي قَدْ رَدَدْتُ عَلَيْكَ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
عبدالرحمن بن عبداللہ بن مسعود رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کو ایک سرکاری غلام بیس ہزار کا بیچ دیا۔ وہ دس ہزار لے کر آئے، تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں نے آپ کو یہ غلام بیس ہزار کا فروخت کیا ہے۔“ انہوں نے کہا: ”میں نے تو دس ہزار کا لیا ہے۔“ اشعث رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں اس مسئلہ میں آپ کی رائے پر راضی ہوں۔“ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر آپ چاہیں، تو میں آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سناتا ہوں۔“ انہوں نے کہا: ”ٹھیک ہے (سنائیں)۔“ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب دو آدمی سودا کریں اور ان کے مابین گواہ نہ ہو، تو (اختلاف کی صورت میں) بیچنے والے کی بات معتبر ہوگی یا پھر دونوں بیع توڑ دیں گے۔“ اشعث رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں آپ کو سودا واپس کرتا ہوں۔“
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب البيوع والتجارات / حدیث: 624
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: اسنادہ ضعیف
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«اسنادہ ضعیف : سنن الدارقطنی : 20/3 ، عبد الرحمن بن عبد اللہ بن مسعود کا اپنے والد سے اس روایت کی سماعت کا مسئلہ ہے، اس کی اور بھی ضعیف سندیں ہیں۔»
حدیث نمبر: 625
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، قَالَ : ثنا أَبِي ، عَنْ أَبِي عُمَيْسٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ قَيْسِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الأَشْعَثِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : اشْتَرَى الأَشْعَثُ رَقِيقًا مِنْ رَقِيقِ الْخُمْسِ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِعِشْرِينَ أَلْفًا ، فَأَرْسَلَ عَبْدُ اللَّهِ إِلَيْهِ فِي ثَمَنِهِمْ ، فَقَالَ : إِنَّمَا أَخَذَتْهُمْ بِعَشَرَةِ آلافٍ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَاخْتَرْ رَجُلا يَكُنْ بَيْنِي وَبَيْنَكَ ، قَالَ الأَشْعَثُ : أَنْتَ بَيْنِي وَبَيْنَ نَفْسِكَ ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَإِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِذَا اخْتَلَفَ الْبَيِّعَانِ وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا بَيِّنَةٌ فَهُوَ مَا يَقُولُ رَبُّ السِّلْعَةِ أَوْ يَتَتَارَكَا " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
محمد بن اشعث رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے خمس کے غلاموں میں سے ایک غلام بیس ہزار کا خریدا۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ان کے پاس قیمت کے لیے آدمی بھیجا، تو وہ کہنے لگے: ”میں نے تو دس ہزار کا خریدا ہے۔“ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کوئی آدمی منتخب کر لیں، جو میرے اور آپ کے درمیان فیصلہ کر دے۔“ اشعث رضی اللہ عنہ نے کہا: ”آپ ہی میرے اور اپنے درمیان فیصلہ کر دیں۔“ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ وہ فرما رہے تھے: جب دو سودا کرنے والے آدمی آپس میں جھگڑ پڑیں اور ان کے پاس دلیل نہ ہو، تو سامان کے مالک کی بات معتبر ہوگی یا پھر دونوں بیع چھوڑ دیں گے۔“
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب البيوع والتجارات / حدیث: 625
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: اسنادہ ضعیف
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«اسنادہ ضعیف : سنن ابی داود : 3511، سنن النسائی : 4652 ، اس حدیث کو امام حاکم رحمہ اللہ (42/2) نے ”صحیح الاسناد“ کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ”صحیح“ کہا ہے، حافظ بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ہٰذا إِسْنَادٌ حَسَنٌ مَّوْصُولٌ . (السنن الکبری : 332/5) حافظ ابن عبدالہادی رحمہ اللہ کہتے ہیں : وَالَّذِي يَظْهَرُ أَنَّ حَدِيثَ ابْنِ مَسْعُودٍ بِمَجْمُوعِ طُرُقِهِ لَهُ أَصْلٌ بَلْ هُوَ حَدِيثٌ حَسَنٌ يُحْتَجُ بِهِ لَكِنْ فِي لَفْظِهِ اخْتِلَاف . (نصب الرایۃ للزیلعی : 107/4) حفص بن غیاث مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔»
حدیث نمبر: 626
حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ ، عَنِ الشَّافِعِيِّ ، قَالَ : ثنا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْها ، أَنَّ رَجُلا اشْتَرَى عَبْدًا فَاسْتَغَلَّهُ ثُمَّ ظَهَرَ مِنْهُ عَلَى عَيْبٍ ، فَخَاصَمَ فِيهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَضَى لَهُ بِرَدِّهِ ، فَقَالَ الْبَائِعُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهُ قَدْ أَخَذَ خَرَاجَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْخَرَاجُ بِالضَّمَانِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک آدمی نے غلام خریدا اور اس سے خراج (نفع) حاصل کیا، پھر اس (غلام) میں کوئی عیب پتہ چل گیا۔ وہ آدمی جھگڑتا ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، تو آپ نے وہ غلام واپس کرنے کا فیصلہ کر دیا۔ بیچنے والا شخص کہنے لگا: ”اے اللہ کے رسول! اس نے (غلام سے) خراج وصول کیا ہے۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خراج (نفع) لینے کا حقدار وہ ہے، جو نقصان کا ذمہ دار بنے۔“
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب البيوع والتجارات / حدیث: 626
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: اسنادہ ضعیف والحدیث حسن ان شاء اللہ
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«اسنادہ ضعیف والحدیث حسن ان شاء اللہ : سنن ابی داود : 3510، سنن ابن ماجہ : 2243 ، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن غریب ، امام ابو عوانہ رحمہ اللہ (5494) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (4927) نے صحیح کہا ہے، امام حاکم رحمہ اللہ (15/2) نے صحیح الاسناد اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ”صحیح“ کہا ہے۔ مسلم بن خالد ابو خالد زنجی جمہور کے نزدیک ضعیف ہے، اس کے بارے میں حافظ ہیثمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : وَالْجُمْهُورُ ضَعَّفَہُ . (مجمع الزوائد : 45/5) تاریخ بغداد للخطیب (297/8، 298، وسندہ حسن) میں مسلم بن خالد کی متابعت خالد بن مہران نے کر رکھی ہے۔»
حدیث نمبر: 627
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ : ثنا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، قَالَ : ثني مَخْلَدُ بْنُ خُفَافٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْخَرَاجُ بِالضَّمَانِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خراج (نفع) کا حقدار وہ ہے، جو نقصان کا ذمہ دار بنے۔“
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب البيوع والتجارات / حدیث: 627
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: اسنادہ حسن
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«اسنادہ حسن : مسند الامام احمد : 49/6-161 ، سنن ابی داود : 3808، سنن النسائی : 4495، سنن ترمذی : 1285 ، سنن ابن ماجہ : 2242 ، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن صحیح، امام ابوعوانہ رحمہ اللہ (5495) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (4928) نے صحیح کہا ہے۔»
حدیث نمبر: 628
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ آدَمَ ، قَالَ : ثنا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ بَاعَ نَخْلا قَدْ أَبَرَ ، فَثَمَرَتُهَا لِلَّذِي بَاعَهَا ، إِلا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو پیوند شدہ کھجور کا درخت بیچے، تو پھل کا حقدار بیچنے والا ہے، الا یہ کہ خریدار کوئی شرط طے کر لے۔“
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب البيوع والتجارات / حدیث: 628
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح البخاری : 2379 ، صحیح مسلم : 1543»
حدیث نمبر: 629
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ آدَمَ ، قَالَ : ثنا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ بَاعَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ فَمَالُهُ لِلَّذِي بَاعَ ، إِلا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو ایسا غلام فروخت کرے، جس کے پاس مال ہے، تو مال کا حقدار فروخت کنندہ ہوگا، الا یہ کہ خریدار کوئی شرط طے کر لے۔“
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب البيوع والتجارات / حدیث: 629
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح البخاری : 2379 ، صحیح مسلم : 1543»
حدیث نمبر: 630
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ ، سَمِعَ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، يُحَدِّثُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَفْلَسَ بِمَالِ قَوْمٍ فَوَجَدَ رَجُلٌ مَتَاعَهُ بِعَيْنِهِ ، فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ مِنْ غَيْرِهِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے پاس لوگوں کا مال تھا اور وہ مفلس ہو گیا، کسی نے اس کے پاس بعینہ اپنا مال پالیا، تو باقیوں کی بہ نسبت وہ اس مال (کو لینے) کا زیادہ حقدار ہے۔“
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب البيوع والتجارات / حدیث: 630
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح البخاری : 2402 ، صحیح مسلم : 1559»
حدیث نمبر: 631
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الْحِمْصِيُّ ، قَالَ : ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْخَبَايِرِيِّ ، قَالَ : ثنا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَيُّمَا رَجُلٌ بَاعَ سِلْعَةً فَأَدْرَكَ سِلْعَتَهُ بِعَيْنِهَا عِنْدَ رَجُلٍ أَفْلَسَ وَلَمْ يَقْبِضْ مِنْ ثَمَنِهَا شَيْئًا فَهِيَ لَهُ ، فَإِنْ كَانَ قَضَاهُ مِنْ ثَمَنِهَا شَيْئًا فَمَا بَقِيَ فَهُوَ أُسْوَةُ الْغُرَمَاءِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کوئی سامان (ادھار) بیچا اور اپنا وہی سامان کسی ایسے شخص کے پاس پالیا، جو مفلس ہو چکا ہے، نیز اس نے سامان کی کچھ بھی قیمت وصول نہیں کی، تو وہ سامان اسی کا ہی ہوگا۔ اگر اس نے (خریدار سے) کچھ رقم وصول کر لی ہے، تو باقی ماندہ قیمت میں وہ باقی قرض خواہوں کی طرح ہی ہوگا۔“
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب البيوع والتجارات / حدیث: 631
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: اسنادہ ضعیف
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«اسنادہ ضعیف : سنن ابن ماجہ : 2359 ، جمہور محدثین کے نزدیک اسماعیل بن عیاش کی حجازیوں سے روایت ”ضعیف“ ہوتی ہے، امام زہری مدلس ہیں ، سماع کی تصریح نہیں کی۔»
حدیث نمبر: 632
حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْفٍ ، قَالَ : ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ، قَالَ : ثنا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ سَوَاءً وَزَادَ : " وَأَيُّمَا امْرِئٍ هَلَكَ وَعِنْدَهُ مَالُ امْرِئٍ بِعَيْنِهِ اقْتَضَى مِنْهُ شَيْئًا أَوْ لَمْ يَقْتَضِ فَهُوَ أُسْوَةُ الْغُرَمَاءِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک اور سند کے ساتھ بھی یہی روایت مروی ہے۔ نیز اس میں یہ اضافہ ہے کہ اگر کوئی ہلاک ہو جائے اور اس کے پاس کسی دوسرے شخص کا مال بعینہ موجود ہو، دوسرے آدمی نے پہلے سے کوئی چیز لی ہو یا نہ لی ہو، تاہم وہ دوسرے قرض خواہوں کی طرح ہی ہوگا۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب البيوع والتجارات / حدیث: 632
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: اسنادہ ضعیف
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«اسنادہ ضعیف : سنن ابی داود : 3522، سنن الدارقطنی : 30/3 ، اس میں امام زہری رحمہ اللہ کی تدلیس ہے۔»
حدیث نمبر: 633
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، قَالَ : ثنا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِي الإِفْلاسِ ، وَقَالَ ابْنُ يَحْيَى : رَوَاهُ مَالِكٌ ، وَصَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ ، وَيُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ مُطْلَقُ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ أَتَى بِالْحَدِيثِ يَعْنِي عَنْ طَرِيقِ الزُّهْرِيِّ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے افلاس کے متعلق روایت بیان کی ہے۔ ابن یحییٰ کہتے ہیں: اس روایت کو مالک، صالح بن کیسان، اور یونس نے بھی زہری سے مطلق بیان کیا ہے اور ان کی حدیث زیادہ صحیح ہے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب البيوع والتجارات / حدیث: 633
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: اسنادہ ضعیف
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«اسنادہ ضعیف : سنن ابن ماجہ : 2359 ، امام زہری رحمہ اللہ مدلس ہیں ، سماع کی تصریح نہیں ہوسکی ، صحیح مسلم (1559) میں اس کا ایک شاہد موجود ہے۔»
حدیث نمبر: 634
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ ، أَنَّ ابْنَ أَبِي فُدَيْكٍ ، أَخْبَرَهُمْ ، قَالَ : وَثَنَى ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، قَالَ : ثنى أَبُو الْمُعْتَمِرِ بْنِ عَمْروٍ ، عَنِ ابْنِ خَلْدَةَ الزُّرَقِيِّ وَكَانَ قَاضِيَ الْمَدِينَةِ ، قَالَ : جِئْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي صَاحِب لَنَا أَفْلَسَ ، فَقَالَ : هَذَا الَّذِي قَضَى فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُّمَا رَجُلٌ مَاتَ أَوْ أَفْلَسَ فَصَاحِبُ الْمَتَاعِ أَحَقُّ بِمَتَاعِهِ إِذَا وَجَدَهُ بِعَيْنِهِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
ابو خلدہ زرقی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ہم سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس اپنے ایک ساتھی کا مقدمہ لے کر حاضر ہوئے، جو مفلس ہو چکا تھا، تو انہوں نے فرمایا: ”ایسے ہی ایک مقدمہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ کیا تھا: جو فوت ہو جائے یا مفلس ہو جائے، تو سامان والا آدمی اپنے سامان کا زیادہ حقدار ہے، بشرطیکہ وہ سامان بعینہ اسی کا ہو۔“
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب البيوع والتجارات / حدیث: 634
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: اسنادہ حسن
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«اسنادہ حسن : سنن ابی داود : 3523، سنن ابن ماجہ : 2360 ، مسند الطیالسی : 2375 ، اس حدیث کو امام حاکم رحمہ اللہ (50/2) نے ”صحیح الاسناد“ کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے۔ ابومعتمر ”حسن الحدیث“ ہیں ، بہت سارے ائمہ نے اس کی حدیث کی تصحیح کر کے اس کی ضمنی توثیق کر دی ہے۔»
حدیث نمبر: 635
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، قَالَ : ثنا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ ، قَالَ : ثنا زَكَرِيَّا ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " بِعْتُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِيرًا وَاشْتَرَطَتْ ظَهْرَهُ إِلَى أَهْلِي " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک اونٹ بیچا اور اپنے گھر (واپس) جانے تک اس پر سوار ہونے کی شرط لگائی۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب البيوع والتجارات / حدیث: 635
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح البخاری : 2385، صحیح مسلم : 715»
حدیث نمبر: 636
حَدَّثَنَا الزَّعْفَرَانِيُّ ، قَالَ : ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ : ثنا الأَعْمَشُ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بِعْنِي جَمَلَكَ ، قَالَ : قُلْتُ : لا ، بَلْ هُوَ لَكَ ، قَالَ : بِعْنِيهِ ، قُلْتُ : فَإِنَّ لِفُلانٍ عَلَيَّ أُوقِيَّةً مِنْ ذَهَبٍ فَهُوَ لَكَ بِهَا فَأَخَذَهُ ، ثُمَّ قَالَ : تَبْلُغُ عَلَيْهِ إِلَى أَهْلِكَ ، فَلَمَّا قَدِمْتُ أَمَرَ بِلالا أَنْ يُعْطِيَنِي " وَذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اپنا اونٹ بیچ دیں۔“ عرض کیا: ”بیچنا تو نہیں، البتہ آپ اسے یوں ہی لے لیں۔“ فرمایا: ”بیچ دیں!“ میں نے کہا: ”میں نے فلاں آدمی کا ایک اوقیہ سونا دینا ہے، چنانچہ اس کے عوض یہ اونٹ آپ کا ہو گیا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ لے کر فرمایا: ”اپنے گھر تک اس پر سواری کر لیجیے۔“ جب میں گھر آگیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ مجھے اوقیہ دے دیں۔ انہوں نے بقیہ حدیث بھی بیان کی۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب البيوع والتجارات / حدیث: 636
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح مسلم : 715/111»
حدیث نمبر: 637
حَدَّثَنَا حَمْزَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ حَمْزَةَ الأَسْلَمِيُّ ، قَالَ : ثني سُفْيَانُ يَعْنِي ابْنَ حَمْزَةَ عَمَّهُ ، عَنْ كَثِيرٍ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْمُسْلِمُونَ عَلَى شُرُوطِهِمْ مَا وَافَقَ الْحَقَّ مِنْهَا " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان اپنی ان شرائط پر ثابت رہیں، جو حق کے موافق ہیں۔“
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب البيوع والتجارات / حدیث: 637
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: اسنادہ ضعیف والحدیث حسن
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«اسنادہ ضعیف والحدیث حسن : مسند الامام احمد : 366/2، سنن ابی داود : 3594، سنن الدارقطنی : 27/3، اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (5091) نے صحیح کہا ہے۔ حمزہ بن مالک بن حمزہ اسلمی کے بارے میں حافظ ہیثمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : وَلَمْ أَعرفه (مجمع الزوائد : 255/5) حمزہ بن مالک بن حمزہ اسلمی ( ابن اخی سفیان بن حمزہ ) کی متابعت موجود ہے۔»
حدیث نمبر: 638
حَدَّثَنَا حَمْزَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ حَمْزَةَ الأَسْلَمِيُّ ، قَالَ : ثني سُفْيَانُ يَعْنِي ابْنَ حَمْزَةَ ، عَنْ كَثِيرٍ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الصُّلْحُ جَائِزٌ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمانوں کے درمیان صلح جائز ہے۔“
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب البيوع والتجارات / حدیث: 638
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: اسنادہ ضعیف والحدیث حسن
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«اسنادہ ضعیف والحدیث حسن : حمزہ بن مالک مجہول الحال ہے، انظر الحدیث السابق»
حدیث نمبر: 639
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ ، أَخْبَرَهُمْ ، قَالَ : أنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ الْمَكِّيَّ ، أَخْبَرَهُ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنْ بِعْتَ مِنْ أَخِيكَ تَمْرًا فَأَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ فَلا يَحِلُّ لَكَ أَنْ تَأْخُذَ مِنْهُ شَيْئًا ، بِمَ تَأْخُذُ مَالَ أَخِيكَ بِغَيْرِ حَقٍّ ؟ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر آپ اپنے بھائی کو کھجور (کا پھل دار درخت) بیچیں اور اس پر کوئی آفت آجائے، تو پھر اس سے کچھ وصول کرنا آپ کے لیے روا نہیں، آپ اپنے بھائی کا مال ناحق کیوں لیتے ہیں؟“
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب البيوع والتجارات / حدیث: 639
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح مسلم : 1554»
حدیث نمبر: 640
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ : ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَتِيقٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " وَضَعَ الْجَوَائِحَ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آفتوں کو معاف کرنے کا حکم دیا ہے۔ (یعنی اگر کوئی چیز آفت کی وجہ سے برباد ہو جائے تو اس کی قیمت نہ لی جائے۔)
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب البيوع والتجارات / حدیث: 640
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح مسلم : 1554/17»