کتب حدیثالمنتقى ابن الجارودابوابباب: تجارتوں کے بارے میں باب
حدیث نمبر: 555
حَدَّثَنَا أَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، قَالَ : ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : ثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : وَلا وَاللَّهِ لا أَسْمَعُ بَعْدَهُ أَحَدًا ، يَقُولُ : سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ الْحَلالَ بَيِّنٌ وَإِنَّ الْحَرَامَ بَيِّنٌ وَإِنَّ بَيْنَ ذَلِكَ أُمُورًا مُشْتَبِهَاتٍ " ، قَالَ : وَرُبَّمَا قَالَ : " مُشْتَبِهَةً ، وَسَأَضْرِبُ لَكُمْ فِي ذَلِكَ مثلا : إِنَّ اللَّهَ حَمَى حِمًى وَإِنَّ حِمَى اللَّهِ مَحَارِمُهُ ، وَإِنَّهُ مَنْ يَرْعَ حَوْلَ الْحِمَى يُوشِكْ أَنْ يَرْتَعَ ، وَإِنَّ مَنْ يُخَالِطِ الرِّيبَةَ يُوشِكْ أَنْ يَجْسُرَ " ، قَالَ ابْنُ عَوْنٍ : فَلا أَدْرِي هَذَا مَا سَمِعَ مِنَ النُّعْمَانِ أَوْ قَالَ بِرَأْيِهِ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: (شعبی کہتے ہیں: اللہ کی قسم! ان کے بعد میں نے کسی سے نہیں سنا کہ اس نے کہا ہو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے) ”حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے لیکن ان کے درمیان کچھ مشتبہ چیزیں ہیں، میں تمہارے سامنے اس کی مثال بیان کرتا ہوں، بے شک اللہ تعالیٰ نے ایک چراگاہ مقرر کی ہے اور اللہ کی چراگاہ اس کی حرام کردہ اشیا ہیں، جو (جانور بھی) چراگاہ کے اردگرد چرے گا، اس کا چراگاہ میں داخل ہو جانا عین ممکن ہے، جو مشکوک چیزوں سے میل ملاپ رکھے گا، قریب ہے کہ وہ ان (کرنے) پر دلیر ہو جائے۔“ ابن عون کہتے ہیں: معلوم نہیں کہ امام شعبی رحمہ اللہ نے یہ بات سیدنا نعمان رضی اللہ عنہما سے سنی ہے یا اپنی رائے سے کی ہے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب البيوع والتجارات / حدیث: 555
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح البخاری: 2051، صحیح مسلم: 1599»
حدیث نمبر: 556
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي عِيسَى ، وَهِشَامُ بْنُ الْجُنَيْدِ ، قَالا : ثَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ هُوَ ابْنُ أَبِي رَوَّادٍ ، قَالَ : ثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّهُ لَنْ يَمُوتَ أَحَدٌ حَتَّى يَسْتَكْمِلَ رِزْقَهُ ، فَلا تَسْتَبْطِئُوا الرِّزْقَ ، وَاتَّقُوا اللَّهَ أَيُّهَا النَّاسُ وَأَجْمِلُوا فِي الطَّلَبِ ، وَخُذُوا مَا حَلَّ وَدَعُوا مَا حُرِّمَ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی بھی اپنا رزق پورا کیے بغیر نہیں مرے گا، لہذا آپ رزق طلب کرنے میں سستی نہ کریں، لوگو! اللہ سے ڈرو، (رزق) اچھے طریقے سے تلاش کرو، حلال لے لو اور حرام چھوڑ دو۔“
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب البيوع والتجارات / حدیث: 556
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده ضعيف والحديث صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده ضعيف والحديث صحيح: سنن ابن ماجه: 2144، السنن الكبرى للبيهقي 265/5، اس حدیث کو امام حاکم رحمہ اللہ (326/4) نے صحیح الاسناد اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے۔ ابن جریج اور ابوالزبیر مدلس ہیں، لیکن اس کا ایک شاہد بسند صحیح السنن الكبرى للبيهقي (264/5) میں آتا ہے، اسے امام ابن حبان رحمہ اللہ (3239) نے صحیح کہا ہے، امام حاکم رحمہ اللہ (4/2) نے امام بخاری رحمہ اللہ اور امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے، سعید بن ابی ہلال کی متابعت شعبہ نے حلیۃ الاولیاء لابی نعیم الاصبہانی (3/158) میں کر رکھی ہے۔»
حدیث نمبر: 557
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ : ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، وَجَامِعٍ ، وَعَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ شَقِيقٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " كُنَّا نَبِيعُ بِالْبَقِيعِ فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكُنَّا نُسَمَّى السَّمَاسِرَةَ ، فَقَالَ : " يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ ، فَسَمَّانَا بِاسْمٍ أَحْسَنَ مِنِ اسْمِنَا ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّ هَذَا الْبَيْعَ يَحْضُرُهُ الْحَلِفُ وَالْكَذِبُ ، فَشُوبُوهُ بِالصَّدَقَةِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا قیس بن ابی غرزہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم بقیع کے پاس (سامان) بیچا کرتے تھے اور ہمیں سماسرہ (دلال) کہا جاتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے اور فرمایا: ”اے تاجروں کی جماعت!“ آپ نے ہمارا بہترین نام لیا، پھر فرمایا: ”اس بیع میں قسم اور جھوٹ شامل ہو جاتا ہے، چنانچہ اس کے ساتھ صدقہ کو ملالیا کرو (یعنی صدقہ کے ذریعے اس کمی کو پورا کرلیا کرو)۔“
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب البيوع والتجارات / حدیث: 557
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح، له طرق كثيرة
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح، له طرق كثيرة: مسند الحميدي: 442، مسند الإمام أحمد: 16/4، سنن أبي داؤد: 3327، سنن النسائي: 3829، اس حدیث کو امام حاکم رحمہ اللہ (5/2) نے صحیح الاسناد اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے۔»
حدیث نمبر: 558
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ : ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ لِرَجُلٍ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِنٌّ مِنَ الإِبِلِ فَجَعَلَ يَتَقَاضَاهُ ، فَقَالَ : أَعْطُوهُ ، فَلَمْ يَجِدُوا لَهُ إِلا سِنًّا فَوْقَ سِنِّهِ ، فَقَالَ : أَعْطُوهُ ، فَقَالَ : أَوْفَيْتَنِي أَوْفَى اللَّهُ لَكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ خِيَارَكُمْ أَحْسَنُكُمْ قَضَاءً " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمہ ایک آدمی کا اونٹ (ادھار) تھا، وہ آپ سے مانگنے آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اونٹ دے دیں۔“ صحابہ کرام کو اس عمر کا اونٹ نہ ملا، بلکہ اس سے بڑی عمر کا اونٹ ملا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہی دے دیں۔“ اس نے کہا: ”آپ نے مجھے پورا ادا کیا ہے، اللہ بھی آپ کو پورا پورا بدلہ دے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آپ میں سے بہتر وہ ہے، جو اچھے طریقے سے ادائیگی کرتا ہے۔“
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب البيوع والتجارات / حدیث: 558
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح البخاری: 2393، صحیح مسلم: 1601»
حدیث نمبر: 559
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ آدَمَ ، قَالَ : ثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " جَلَبْتُ أَنَا وَمَخْرَمَةُ الْعَبْدِيُّ بَزًّا مِنْ هَجَرَ ، فَجَاءَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَاوَمَنَا بِسَرَاوِيلَ ، وَعِنْدَنَا وَزَّانٌ يَزِنُ بِالأَجْرِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْوَزَّانِ : زِنْ وَأَرْجِحْ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا سوید بن قیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں اور مخرمہ عبدی ہجر سے کپڑا لے کر آئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے اور (چند شلواروں کے کپڑے کا) سودا کیا، ہمارے پاس ایک آدمی تھا، جو مزدوری پر تولا کرتا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ”جھکا کر تولا کیجیے (یعنی زیادہ دیا کریں)۔“
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب البيوع والتجارات / حدیث: 559
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح وللحديث شواهد
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح وللحديث شواهد: مسند الإمام أحمد: 352/4، سنن أبي داود: 3336، سنن النسائي: 4596، سنن الترمذي: 1305، سنن ابن ماجه: 2220-2222-3579، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن صحیح اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (5147) نے صحیح کہا ہے، امام حاکم رحمہ اللہ (192/4) نے صحیح الاسناد اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے۔»
حدیث نمبر: 560
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا أُتْبِعَ أَحَدُكُمْ عَلَى مَلِيٍّ فَلْيَتْبَعْ وَالظُّلْمُ مَطْلُ الْغَنِيِّ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر کسی کا قرض کسی مالدار کے حوالہ کیا جائے تو وہ اسے قبول کرلے، مالدار کی طرف سے (قرض ادا کرنے میں) ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔“
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب البيوع والتجارات / حدیث: 560
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح البخاری: 2288، صحیح مسلم: 1564»
حدیث نمبر: 561
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ يُبَاعَ فِي الْمَسْجِدِ أَوْ يُشْتَرَى فِيهِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں خرید و فروخت کرنے سے منع فرمایا۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب البيوع والتجارات / حدیث: 561
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده حسن
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده حسن: مسند الإمام أحمد: 179/2، سنن أبي داود: 1079، سنن النسائي: 715، سنن الترمذي: 322، سنن ابن ماجه: 766-1133، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن اور امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (1304، 1306، 1816) نے صحیح کہا ہے۔ ابن عجلان نے مسند الامام احمد (179/2) میں سماع کی تصریح کر رکھی ہے۔ نیز مسند الامام احمد (212/2) میں ان کی متابعت اسامہ بن زید نے کر رکھی ہے۔»
حدیث نمبر: 562
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثَنَا النُّفَيْلِيُّ ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا رَأَيْتُمْ مَنْ يَبِيعُ أَوْ يَبْتَاعُ فِي الْمَسْجِدِ ، فَقُولُوا : لا أَرْبَحَ اللَّهُ تِجَارَتَكَ ، وَإِذَا رَأَيْتُمْ مَنْ يَنْشُدُ فِيهِ الضَّالَّةَ ، فَقُولُوا : لا أَدَّى اللَّهُ عَلَيْكَ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب مسجد میں کسی کو خرید و فروخت کرتے دیکھو، تو کہو: اللہ تعالیٰ تیری تجارت میں نفع نہ ڈالے، جب مسجد میں کسی کو گم شدہ چیز کا اعلان کرتے دیکھو، تو کہو: اللہ تجھے واپس نہ کرے۔“
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب البيوع والتجارات / حدیث: 562
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده حسن
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده حسن: سنن الترمذي: 1321، عمل اليوم والليلة للنسائي: 176، سنن الدارمي: 1401، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن غریب، امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (1305) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (1950) نے صحیح کہا ہے، امام حاکم رحمہ اللہ (56/2) نے امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے، صحیح مسلم (568) میں اس کا شاہد بھی ہے۔»
حدیث نمبر: 563
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ : أَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، ح وَثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ : ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ عَلِيٌّ : يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا تَنَاجَشُوا ، وَلا يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ ، وَلا يَبِعِ الرَّجُلُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ ، وَلا يَخْطُبِ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ ، وَلا تَسْأَلِ الْمَرْأَةُ طَلاقَ أُخْتِهَا " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نجش (دھوکہ یعنی قیمت بڑھانے کے لیے بولی لگانا) مت کریں، کوئی شہری دیہاتی کا سامان نہ بیچے، کوئی آدمی اپنے (مسلمان) بھائی کے سودے پر سودا نہ کرے، کوئی اپنے (مسلمان) بھائی کی منگنی پر منگنی نہ کرے اور کوئی عورت اپنی (مسلمان) بہن کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے۔“
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب البيوع والتجارات / حدیث: 563
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح البخاری: 2140، صحیح مسلم: 1314»
حدیث نمبر: 564
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ : ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ يَبِيعُ طَعَامًا فَأُوحِيَ إِلَيْهِ : أَدْخِلْ يَدَكَ مِنْ أَسْفَلِهِ ، فَأَدْخَلَ يَدَهُ فَوَجَدَهُ مُخَالِفًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ مِنَّا مَنْ غَشَّنَا " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے، جو غلہ بیچ رہا تھا، آپ کو وحی کی گئی کہ اپنا ہاتھ اس میں داخل کریں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ داخل کیا، تو اسے (اوپر سے) مختلف پایا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو ہم سے دھوکہ کرتا ہے، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔“
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب البيوع والتجارات / حدیث: 564
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح مسلم: 102»
حدیث نمبر: 565
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ : ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنِ اشْتَرَى مُصَرَّاةً أَوْ مُحَفَّلَةً فَهُوَ بِالْخِيَارِ ، إِنْ شَاءَ أَنْ يُمْسِكَهَا أَمْسَكَهَا ، وَإِنْ شَاءَ أَنْ يَرُدَّهَا رَدَّهَا وَمَعَهَا صَاعُ تَمْرٍ كَسَمْرَاءَ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے مصراة (وہ جانور، جس کے تھنوں میں دودھ روک لیا جائے) خریدی، تو اسے اختیار ہے، اگر رکھنا چاہتا ہے تو رکھ لے اور اگر واپس کرنا چاہتا ہے، تو واپس کر دے اور کھجوروں کا ایک صاع ساتھ دے، نہ کہ گندم کا۔“
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب البيوع والتجارات / حدیث: 565
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح مسلم: 26/1524»
حدیث نمبر: 566
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالَ : ثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنِ اشْتَرَى مُصَرَّاةً فَهُوَ بِالْخِيَارِ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ ، إِنْ شَاءَ أَنْ يُمْسِكَهَا أَمْسَكَهَا ، وَإِنْ شَاءَ أَنْ يَرُدَّهَا رَدَّهَا وَمَعَهَا صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ لا سَمْرَاءَ " ، قَالَ وَهْبٌ : يَعْنِي الْبُرَّ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے مصراة (وہ جانور جس کے تھنوں میں دودھ روک لیا جائے) خریدی، تو اسے تین دن تک اختیار ہے، اگر رکھنا چاہتا ہے، تو رکھ لے اور اگر واپس کرنا چاہتا ہے، تو واپس کر دے اور کھجوروں کا ایک صاع بھی ساتھ دے، گندم نہ دے۔“ وہب کہتے ہیں: سمراء سے مراد گندم ہے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب البيوع والتجارات / حدیث: 566
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح مسلم: 1524»
حدیث نمبر: 567
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ آدَمَ ، قَالَ : ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ نَافِعِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ حَبَّانَ بْنَ مُنْقِذٍ كَانَ سَفَعَ فِي رَأْسِهِ مَأْمُومَةُ ، فَثَقُلَتْ لِسَانُهُ وَكَانَ يُخْدَعُ فِي الْبَيْعِ ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا ابْتَاعَ فَهُوَ بِالْخِيَارِ ثَلاثًا ، وَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بِعْ وَقُلْ لا خِلابَةَ " ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ : لا خِيَابَةَ لا خِيَابَةَ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حیان بن منقذ کے سر میں زخم تھا (جس کی وجہ سے) ان کی زبان اٹکتی تھی اور وہ اکثر خرید و فروخت میں دھوکہ کھا جاتے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خریداری میں تین دن کا اختیار دے دیا، نیز فرمایا: ”خریدتے وقت کہہ دیا کیجیے، بھائی دھوکہ اور فریب کا کام نہیں۔“ میں نے سنا: وہ ’لا خذابة، لا خذابة‘ کہا کرتے تھے (یعنی ’لا خلابة‘ نہیں کہہ سکتے تھے)۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب البيوع والتجارات / حدیث: 567
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: حسن
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«حسن: مسند الحميدي: 662، مسند الإمام أحمد: 129/2، سنن الدارقطني: 55,54/3، السنن الكبرى للبيهقي: 273/5، اس حدیث کو امام ابو عوانہ رحمہ اللہ (4934) اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ (تلخیص المستدرک: 22/2) نے صحیح کہا ہے، سفیان بن عیینہ کی متابعت ہوتی ہے، مسند الامام احمد (129/2) میں محمد بن اسحاق نے سماع کی تصریح کر رکھی ہے۔»
حدیث نمبر: 568
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَجُلا مِنَ الأَنْصَارِ كَانَ يُبَايِعُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَانَ فِي عُقْدَتِهِ ضَعْفٌ فَأَتَى قَوْمُهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، احْجُرْ عَلَى فُلانٍ فَإِنَّهُ يُبَايِعُ وَفِي عُقْدَتِهِ ضَعْفٌ ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَهَاهُ عَنِ الْبَيْعِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لا أَصْبِرُ عَنِ الْبَيْعِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ كُنْتَ غَيْرَ تَارِكٍ الْبَيْعَ ، فَقُلْ : هَا وَهَا وَلا خِلابَةَ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ایک انصاری آدمی تجارت کرتا تھا، لیکن اس کی بات کمزور ہوتی تھی، اس کی قوم کے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر کہنے لگے: ”اے اللہ کے رسول! فلاں شخص پر پابندی لگا دیجیے، کیونکہ وہ تجارت تو کرتا ہے، مگر اس کی بات کمزور ہوتی ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلا کر بیع کرنے سے منع کر دیا، اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میں بیع کرنے سے باز نہیں رہ سکتا۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر آپ چھوڑ نہیں سکتے، تو یوں کہہ دیا کریں کہ (سودا) نقد ہوگا اور دھوکہ نہیں دینا۔“
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب البيوع والتجارات / حدیث: 568
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده ضعيف والحديث صحيح بشواهده
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده ضعيف والحديث صحيح بشواهده: مسند الإمام أحمد: 217/3، سنن أبي داود: 3501، سنن النسائي: 4490، سنن الترمذي: 1250، سنن ابن ماجه: 2354، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن صحیح، امام ابن حبان رحمہ اللہ (5049) نے صحیح کہا ہے، امام حاکم رحمہ اللہ (101/4) نے امام بخاری رحمہ اللہ اور امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے موافقت کی ہے، اس سند میں سعید بن ابی عروہ اور قتادہ کی تدلیس ہے۔ البتہ صحیح بخاری (2117) اور صحیح مسلم (1533) میں اس کا ایک شاہد ہے۔»
حدیث نمبر: 569
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الصَّائِغُ ، أَنَّ رَوْحَ بْنَ عُبَادَةَ ، حَدَّثَهُ ، قَالَ : ثَنَا الأَخْضَرُ بْنُ عَجْلانَ التَّيْمِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ شَيْخًا مِنْ بَنِي حَنِيفَةَ يُقَالُ لَهُ أَبُو بَكْرٍ ، يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ يَشْتَرِي هَذَا الْحِلْسَ وَالْقَدَحَ ؟ فَقَالَ رَجُلٌ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، أَنَا آخُذُهُمَا بِدِرْهَمٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ يَزِيدُ عَلَى دِرْهَمٍ ؟ فَقَالَ رَجُلٌ : أَنَا آخُذُهُمَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ بِاثْنَتَيْنِ ، قَالَ : هُمَا لَكَ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کمبل اور پیالہ کون خریدے گا؟“ ایک آدمی نے کہا: ”اے اللہ کے نبی! میں یہ دونوں چیزیں ایک درہم میں خریدتا ہوں۔“ فرمایا: ”درہم سے زائد کون دے گا؟“ لوگ خاموش رہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ فرمایا: ”درہم سے زائد کون دے گا؟“ ایک آدمی نے عرض کیا: ”اے اللہ کے نبی! میں یہ دونوں چیزیں دو درہم میں خریدتا ہوں۔“ فرمایا: ”یہ آپ کی ہوگئیں۔“
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب البيوع والتجارات / حدیث: 569
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده حسن
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده حسن: مسند الإمام أحمد: 114/3، سنن ابی داود: 1641، سنن الترمذي: 1218، سنن ابن ماجه: 2198، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن کہا ہے، حافظ ضیاء مقدسی رحمہ اللہ نے المختارة (2265، 2266) میں ذکر کیا ہے۔ ابوبکر حنفی حسن الحدیث ہیں، ان کے بارے میں امام بخاری رحمہ اللہ کا قول ثابت نہیں، امام ابن حبان رحمہ اللہ نے الثقات (566/5) میں ذکر کیا ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس کی حدیث کی تحسین کی ہے، جو کہ ضمنی توثیق ہے۔»
حدیث نمبر: 570
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، قَالَ : أَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَجُلا يُقَالُ لَهُ شَهْرٌ ، كَانَ تَاجِرًا وَهُوَ يَسْأَلُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ عَنْ بَيْعِ الْمُزَايَدَةِ ، فَقَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيعَ أَحَدُكُمْ عَلَى بَيْعِ أحَدٍ حَتَّى يَذَرَ ، إِلا الْغَنَائِمَ وَالْمَوَارِيثَ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
زید بن اسلم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے شہر نامی شخص سے سنا جو کہ تاجر تھا، اس نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بیع مزایدہ (بولی لگانے) کے متعلق پوچھا، تو آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ کوئی آدمی دوسرے کے سودے پر سودا کرے، حتیٰ کہ وہ اسے چھوڑ دے، غنائم اور وراثتیں اس سے مستثنیٰ ہیں۔“
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب البيوع والتجارات / حدیث: 570
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده حسن
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده حسن: سنن الدارقطني: 11/3»
حدیث نمبر: 571
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ تَلَقِّي الْجَلَبِ ، فَمَنْ تَلْقَى جَلَبًا فَاشْتَرَى مِنْهُ فَالْبَائِعُ بِالْخِيَارِ إِذَا وَقَعَ السُّوقَ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آگے بڑھ کر قافلے والوں سے مال خریدنے سے منع کیا گیا ہے۔ اگر کوئی آدمی آگے بڑھ کر قافلے والوں سے مال خرید لیتا ہے، تو بازار میں آنے کے بعد بیچنے والے کو (بیع توڑنے کا) اختیار ہے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب البيوع والتجارات / حدیث: 571
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده ضعيف
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده ضعيف: معمر بن راشد کی اہل بصرہ سے روایت میں کلام ہے۔»
حدیث نمبر: 572
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْوَرَّاقُ ، قَالَ : ثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ تُلَقَّى السِّلَعُ حَتَّى تَدْخُلَ الأَسْوَاقَ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بازار پہنچنے سے پہلے تجارتی قافلے سے سامان خریدنے سے منع فرمایا۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب البيوع والتجارات / حدیث: 572
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح البخاری: 2165، صحیح مسلم: 1412-1514»
حدیث نمبر: 573
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ : ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شہری کسی دیہاتی کا سامان نہ بیچے۔“
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب البيوع والتجارات / حدیث: 573
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح البخاری: 2160-2162، صحیح مسلم: 1520»
حدیث نمبر: 574
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ : ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ دَعُوا النَّاسَ يُصِيبُ بَعْضُهُمْ مِنْ بَعْضٍ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شہری کسی دیہاتی کا سامان نہ بیچے، لوگوں کو چھوڑ دو کہ وہ ایک دوسرے سے (فائدہ) حاصل کریں۔“
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب البيوع والتجارات / حدیث: 574
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح مسلم: 1522»
حدیث نمبر: 575
حَدَّثَنَا أَبُو أُمَيَّةَ الطَّرَسُوسِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : ثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : ثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَبِيعَ غُلامَيْنِ أَخَوَيْنِ فَبِعْتُهُمَا وَفَرَّقْتُ بَيْنَهُمَا ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَدْرِكْهَا فَارْتَجِعْهُمَا وَلا تَبِعْهُمَا إِلا جَمِيعًا " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دو غلام بیچنے کا حکم دیا جو کہ بھائی تھے۔ چنانچہ میں نے انہیں الگ الگ بیچ دیا۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا، تو آپ نے فرمایا: ”ان کو واپس لیں اور ایک ہی جگہ (اکٹھا) فروخت کیجیے۔“
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب البيوع والتجارات / حدیث: 575
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: حسن
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«حسن: اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن غریب اور امام حاکم رحمہ اللہ (3/55) نے امام بخاری اور امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے، سلیمان بن عبداللہ انصاری جمہور کے نزدیک حسن الحدیث ہے۔»
حدیث نمبر: 576
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ ، قَالَ : ثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " لَمَّا أنزل آخِرُ الآيَاتِ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ الَّتِي يُذْكَرُ فِيهَا الرِّبَا ، خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَأَهُنَّ عَلَى النَّاسِ ، ثُمَّ حَرَّمَ التِّجَارَةَ فِي الْخَمْرِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب سورۃ البقرہ کی آخری آیات اتریں، جن میں سود کا ذکر ہے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے اور لوگوں کے سامنے ان آیات کی تلاوت کی، پھر آپ نے شراب کی خرید و فروخت کو حرام قرار دیا۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب البيوع والتجارات / حدیث: 576
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح البخاری: 459، صحیح مسلم: 1580»
حدیث نمبر: 577
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، وَمَحْمُودُ بْنُ آدَمَ ، قَالا : ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : وَبَلَغَهُ أَنَّ رَجُلا بَاعَ خَمْرًا ، فَقَالَ : قَاتَلَ اللَّهُ فُلانًا ، أَلَمْ يَعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ ، حُرِّمَتْ عَلَيْهِمُ الشُّحُومُ فَأَجْمَلُوهَا فَبَاعُوهَا " ، زَادَ مَحْمُودٌ : وَأَكَلُوا أَثْمَانَهَا ، وَقَالَ مَحْمُودٌ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب انہیں خبر ملی کہ فلاں آدمی نے شراب بیچی ہے، تو انہوں نے فرمایا: ”اللہ اس شخص کو تباہ کرے، کیا اسے معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’اللہ تعالیٰ یہودیوں کو تباہ کرے، ان پر چربی حرام کی گئی، تو انہوں نے اسے پگھلا کر بیچنا شروع کر دیا۔‘“ محمود کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ ”انہوں نے اس کی قیمت کھانی شروع کر دی۔“
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب البيوع والتجارات / حدیث: 577
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح البخاری: 2223، صحیح مسلم: 1582»
حدیث نمبر: 578
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : ثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، يَقُولُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ بَيْعَ الْخَمْرِ ، وَالأَصْنَامَ ، وَالْمَيْتَةَ ، وَالْخِنْزِيرَ " ، فَقَالَ بَعْضُ الْمُسْلِمِينَ : " فَكَيْفَ تَرَى فِي شُحُومِ الْمَيْتَةِ تُدْهَنُ بِهِ الْجُلُودُ وَالسُّفُنُ وَيَسْتَصْبِحُ بِهِ النَّاسُ ؟ فَقَالَ : حَرَامٌ ، قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ لَمَّا حُرِّمَتْ عَلَيْهِمُ الشُّحُومُ أَجْمَلُوهَا فَبَاعُوهُ فَأَكَلُوا ثَمَنَهُ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے شراب، بت، مردار، اور خنزیر کی خرید و فروخت کو حرام قرار دیا ہے۔“ مسلمانوں میں سے کسی نے پوچھا: ”مردار کی چربی کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟ اس سے چمڑے اور کشتیوں کو رنگا جاتا ہے، نیز لوگ اس سے چراغ بھی جلاتے ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حرام ہے، اللہ تعالیٰ یہودیوں کو تباہ کرے، جب ان پر چربی حرام ہوئی، تو انہوں نے اسے پگھلا کر بیچ دیا اور اس کی قیمت کھائی۔“
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب البيوع والتجارات / حدیث: 578
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح البخاری: 2236، صحیح مسلم: 1581»
حدیث نمبر: 579
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ آدَمَ ، قَالَ : ثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمٍ ، قَالَ : ثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ أُمَيَّةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَالَ رَبُّكُمْ : " ثَلاثَةٌ أَنَا خَصْمُهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَنْ كُنْتُ خَصْمَهُ خَصَمْتُهُ : رَجُلٌ أَعْطَى بِي ثُمَّ غَدَرَ ، وَرَجُلٌ بَاعَ حُرًّا فَأَكَلَ ثَمَنَهُ ، وَرَجُلٌ اسْتَأْجَرَ أَجِيرًا فَاسْتَوْفَى مِنْهُ وَلَمْ يُوفِّهِ أَجْرَهُ " ، وَقَالَ ابْنُ الطَّبَّاعِ ، وَنُعَيْمٌ ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ ، عَنْ يَحْيَى ، كَمَا قَالَ مَحْمُودٌ : وَقَالَ النُّفَيْلِيُّ : عَنْ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمِ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا رب کہتا ہے: قیامت کے دن میں تین آدمیوں کے مدمقابل ہوں گا، اور جس کے مدمقابل میں ہوں گا، اس سے جھگڑوں گا: وہ آدمی جس نے میرے نام پر (عہد) دے کر دھوکہ کیا، وہ آدمی جس نے کسی آزاد آدمی کو بیچ کر اس کی قیمت کھائی، اور وہ آدمی جس نے کسی کو مزدوری پر لگایا، اس سے کام تو پورا لیا، لیکن اس کی اجرت پوری نہ دی۔“ ابن طباع، نعیم، اور ابراہیم بن حمزہ نے بھی محمود بن آدم سے اسی طرح بیان کیا ہے، اور نفیل سے بھی یہ روایت مروی ہے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب البيوع والتجارات / حدیث: 579
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح البخاری: 2227»
حدیث نمبر: 580
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ : أَنَا عِيسَى ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ وَالسِّنَّوْرِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے اور بلی کی قیمت (لینے) سے منع کیا ہے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب البيوع والتجارات / حدیث: 580
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده ضعيف والحديث صحيح بشواهده
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده ضعيف والحديث صحيح بشواهده: اس حدیث کو امام ابوعوانہ رحمہ اللہ (5272، 5271) نے صحیح کہا ہے، امام حاکم رحمہ اللہ (31/2) نے امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے، امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِم“ (السنن الكبرى: 11/6)۔ اس سند میں اعمش کی تدلیس ہے، شرح معانی الآثار للطحاوی (5284) کی جس سند میں سماع کی تصریح ہے، وہ حفص بن غیاث کی تدلیس کی وجہ سے ضعیف ہے، اس حدیث کے بارے میں امام ترمذی رحمہ اللہ (1279) فرماتے ہیں: ”هَذَا حَدِيثٌ فِي إِسْنَادِهِ اضْطِرَابٌ“۔ صحیح مسلم (1569) میں اس حدیث کا ایک شاہد موجود ہے۔»
حدیث نمبر: 581
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ آدَمَ ، قَالَ : ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ ، وَمَهْرِ الْبَغِيِّ ، وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت، زانیہ کی اجرت، اور کاہن کی شیرینی (اجرت) سے منع کیا ہے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب البيوع والتجارات / حدیث: 581
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح البخاری: 2237، صحیح مسلم: 1567»
حدیث نمبر: 582
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ ، عَنْ نَافِعِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَمَنِ عَسِيبِ الْفَحْلِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نر کی جفتی کی قیمت لینے سے منع کیا ہے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب البيوع والتجارات / حدیث: 582
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح البخاری: 2284»
حدیث نمبر: 583
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حَرَامِ بْنِ مُحَيِّصَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَسْبِ الْحَجَّامِ فَنَهَاهُ عَنْهُ ، فَشَكَى مِنْ حَاجَتِهِمْ ، فَقَالَ : " اعْلِفْهُ نَاضِحَكَ وَأَطْعِمْهُ رَقِيقَكَ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
حرام بن محیصہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حجام (سینگی لگانے والے) کی کمائی کے متعلق پوچھا، تو آپ نے اس سے منع فرما دیا۔ انہوں نے اپنی ضروریات کی شکایت کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے اونٹ یا غلام کو کھلا دے۔“
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب البيوع والتجارات / حدیث: 583
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده صحيح: موطأ الإمام مالك: 974/2، مسند الإمام أحمد: 436/5، سنن أبي داود: 3422، سنن الترمذي: 1277، سنن ابن ماجه: 2166، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن صحیح کہا ہے، مسند الحمیدی (902) میں امام زہری رحمہ اللہ نے سماع کی تصریح کر رکھی ہے۔»
حدیث نمبر: 584
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، قَالَ : ثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، وَهِشَامٌ ، جَمِيعًا ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أَجْرَهُ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوائی اور سینگی لگانے والے (حجام) کو اجرت بھی دی۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب البيوع والتجارات / حدیث: 584
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده صحيح: مسند الإمام أحمد: 241/1-250، یہ روایت صحیح بخاری (2279، 2278) اور صحیح مسلم (1202) میں ثابت ہے۔»
حدیث نمبر: 585
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : ثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَعَنَ اللَّهُ الرَّاشِيَ وَالْمُرْتَشِيَ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رشوت دینے اور لینے والے پر اللہ کی لعنت ہو۔“
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب البيوع والتجارات / حدیث: 585
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده حسن
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده حسن: مسند الإمام أحمد: 387/2، سنن الترمذي: 1336، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن صحیح اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (5076) نے صحیح کہا ہے۔»
حدیث نمبر: 586
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ : ثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَعَنَ اللَّهُ الرَّاشِيَ وَالْمُرْتَشِيَ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رشوت دینے والے اور لینے والے (دونوں) پر اللہ کی لعنت ہو۔“
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب البيوع والتجارات / حدیث: 586
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده حسن
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده حسن: مسند الإمام أحمد: 164/2-10-194، سنن أبي داود: 3580، سنن الترمذي: 1337، سنن ابن ماجہ: 2313، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن صحیح، ابن حبان رحمہ اللہ (5077) نے صحیح، حاکم رحمہ اللہ (4/102-103) نے صحیح الاسناد اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے۔»
حدیث نمبر: 587
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ : ثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَسْبِ الإِمَاءِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لونڈیوں کی ناجائز کمائی سے منع کیا ہے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب البيوع والتجارات / حدیث: 587
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح البخاری: 2283»
حدیث نمبر: 588
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، قَالَ : ثنا شُعْبَةُ ، قَالَ : ثنا أَبُو بِشْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْمُتَوَكِّلِ ، يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلُوا بِحَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ فَلَمْ يَقْرُوهُمْ وَلَمْ يُضَيِّفُوهُمْ ، قَالَ : فَاشْتَكَى سَيِّدُهُمْ فَأَتَوْنَا ، فَقَالُوا : عِنْدَكُمْ دَوَاءٌ ؟ فَقُلْنَا : نَعَمْ ، وَلَكِنَّكُمْ لَمْ تَقْرُونَا وَلَمْ تُضَيِّفُونَا فَلا نَفْعَلُ حَتَّى تَجْعَلُوا لَنَا جُعْلا ، فَجَعَلُوا لَهُمْ عَلَى ذَلِكَ قَطِيعًا مِنَ الْغَنَمِ ، " فَجَعَلَ رَجُلٌ مِنَّا يَقْرَأُ عَلَيْهِ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ ، فَلَمَّا أَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ ، قَالَ : مَا أَدْرَاكَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ ؟ ، وَلَمْ يَذْكُرْ نَهْيًا مِنْهُ ، فَقَالَ : " كُلُوا وَاضْرِبُوا لِي مَعَكُمْ بِسَهْمٍ فِي الْجُعَلِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ صحابہ عرب کے ایک قبیلے کے ہاں مہمان ٹھہرے، انہوں نے ان کی مہمان نوازی اور تواضع نہ کی۔ اس قبیلے کا سردار بیمار ہوگیا، تو وہ ہمارے پاس آکر کہنے لگے: ”کیا تمہارے پاس کوئی علاج ہے؟“ ہم نے کہا: ”جی ہاں! مگر چونکہ تم نے ہماری کوئی مہمان نوازی نہیں کی، اس لیے ہم مزدوری طے کیے بغیر علاج نہیں کریں گے۔“ چنانچہ انہوں نے ان کے لیے بکریوں کا ایک ریوڑ مختص کر دیا۔ ہم میں سے ایک آدمی نے اس پر سورۃ فاتحہ پڑھنا شروع کر دیا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، تو ہم نے آپ کے سامنے اس کا تذکرہ کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آپ کو کیسے معلوم ہوا کہ یہ دم والی سورت ہے؟“ آپ نے اس سے منع نہیں کیا۔ نیز فرمایا: ”خود بھی کھاؤ اور اجرت میں سے میرا حصہ بھی نکالو۔“
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب البيوع والتجارات / حدیث: 588
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح البخاری: 2276، صحیح مسلم: 2201»
حدیث نمبر: 589
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ آدَمَ ، قَالَ : ثنا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " اشْتَرَى مِنِّي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعِيرًا فَوَزَنَ لِي ثَمَنَهُ وَأَرْجَحَ لِي " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے اونٹ خریدا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کی قیمت تول کر جھکا کر ادا کی۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب البيوع والتجارات / حدیث: 589
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح البخاری: 2604، صحیح مسلم: 715»