حدیث نمبر: 513
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، قَالَ : ثَنَا أَبُو خَالِدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَقِّنُوا مَوْتَاكُمْ : لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اپنے مرنے والوں کو لا إله إلا اللہ کی تلقین کرو۔»
حدیث نمبر: 514
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ، قَالَ : ثَنَا النَّضْرُ يَعْنِي ابْنَ شُمَيْلٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ حَفْصَةَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّهَا قَالَتْ : " كَانَ مِمَّا أُخِذَ عَلَيْنَا أَنْ لا تَنُحْنَ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ہم سے بیعت کے وقت جو عہد لیا گیا، اس میں یہ بات بھی تھی کہ ہم نوحہ (ماتم) نہیں کریں گی۔
حدیث نمبر: 515
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، قَالا : ثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " شُعْبَتَانِ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ : الطَّعْنُ فِي النَّسَبِ ، وَالنِّيَاحَةُ " ، قَالَ ابْنُ يَحْيَى : وَقَالَ مَرَّةً : لَنْ يَدَعَهَا النَّاسُ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاہلیت کے دو کام ہیں: نسب میں طعن کرنا۔“
حدیث نمبر: 516
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ : أَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، ح وَثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ : ثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ زُبَيْدَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَيْسَ مِنَّا مَنْ ضَرَبَ الْخُدُودَ ، وَشَقَّ الْجُيُوبَ ، وَدَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ " ، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ هَاشِمٍ ، قَالَ : ثَنِي زُبَيْدٌ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
حدیث نمبر: 517
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثَنَا النُّفَيْلِيُّ ، قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : ثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ ، عَنْ أَبِيهِ عَبَّادٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " لَمَّا أَرَادُوا غُسْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اخْتَلَفُوا فِيهِ ، فَقَالُوا : وَاللَّهِ مَا نَدْرِي ، أَنُجَرِّدُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ثِيَابِهِ كَمَا نُجَرِّدُ مَوْتَانَا أَوْ نَغْسِلُهُ وَعَلَيْهِ ثِيَابُهُ ؟ قَالَتْ : فَلَمَّا اخْتَلَفُوا أَلْقَى اللَّهُ عَلَيْهِمُ النَّوْمَ حَتَّى مَا مِنْهُمْ رَجُلٌ إِلا وَذَقْنُهُ فِي صَدْرِهِ ، ثُمَّ كَلَّمَهُمْ مُكَلَّمٌ مِنْ نَاحِيَةِ الْبَيْتِ لا يَدْرُونَ مَنْ هُوَ أَنِ اغْسِلُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ قَمِيصُهُ ، قَالَتْ : فَقَامُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْسِلُونَهُ وَعَلَيْهِ قَمِيصُهُ ، يَصُبُّونَ الْمَاءَ فَوْقَ الْقَمِيصِ وَيُدَلِّكُونَهُ بِالْقَمِيصِ دُونَ أَيْدِيهِمْ ، قَالَ : وَكَانَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، تَقُولُ : لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا غَسَلَهُ إِلا نِسَاؤُهُ ، فَلَمَّا فُرِغَ مِنْ غُسْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُفِّنَ فِي ثَلاثَةِ أَثْوَابٍ صَحَارِيِّينَ وَبُرْدِ حَبَرَةٍ أُدْرِجَ فِيهِنَّ إِدْرَاجًا " ، كَمَا حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ ، وَالزُّهْرِيُّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
حدیث نمبر: 518
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ : ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَغْسِلُ ابْنَتَهُ ، فَقَالَ : اغْسِلْنَهَا ثَلاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ إِنْ رَأَيْتُنَّ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ ، وَاجْعَلْنَ فِي آخِرِهِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ ، فَإِذَا فَرَغْتَنَّ فَآذِنَّنِي ، فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ فَأَلْقَى إِلَيْنَا حَقْوَهُ ، وَقَالَ : أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، ہم آپ کی بیٹی (زینب) کو غسل دے رہی تھیں، آپ نے فرمایا: ”انہیں تین یا پانچ یا اگر ضرورت محسوس کرو تو اس سے زائد بار پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو، آخری مرتبہ کافور یا کافور کی کوئی چیز شامل کر لینا، جب غسل سے فارغ ہو جاؤ تو مجھے مطلع کر دینا۔“ ہم نے فارغ ہو کر آپ کو اطلاع دی، تو آپ نے اپنا ازار ہمیں دیا اور فرمایا: ”اسے ان (زینب) کے جسم کے ساتھ لگا دیں۔“
حدیث نمبر: 519
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، قَالَ : ثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ : أَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ مِنْ بَيْنِ الْقَوْمِ ، عَنْ حَفْصَةَ ، وَابْنُ سِيرِينَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " وَابْدَأْنَ بِمَيَامِنِهَا وَمَوَاضِعِ الْوُضُوءِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(انہیں غسل دیتے وقت) دائیں طرف اور وضو کے اعضا سے شروع کرو۔“
حدیث نمبر: 520
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ : ثَنَا يَعْلَى ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " وَضَفَرْنَا رَأْسَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلاثَةَ قُرُونٍ وَأَلْقَيْنَاهَا خَلْفَهَا " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی کے سر کے بالوں کی تین چوٹیاں بنائیں، پھر انہیں پیچھے ڈال دیا۔
حدیث نمبر: 521
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ : أَنَا عِيسَى ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " كُفِّنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَلاثَةِ أَثْوَابٍ بِيضٍ يَمَانِيَةٍ لَيْسَ فِيهَا قَمِيصٌ وَلا عِمَامَةٌ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تین سفید یمنی کپڑوں میں کفن دیا گیا، جن میں نہ قمیص تھی، نہ عمامہ۔
حدیث نمبر: 522
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، قَالَ : ثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ الضَّرِيرُ ، قَالَ : ثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ خَباب بْنِ الأَرَتِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : هَاجَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ نَبْتَغِي وَجْهَ اللَّهِ ، فَوَجَبَ أَجْرُنَا عَلَى اللَّهِ : فَمِنَّا مَنْ مَضَى لَمْ يَأْكُلْ مِنْ أَجْرِهِ شَيْئًا ، مِنْهُمْ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ فَلَمْ يُوجَدْ لَهُ شَيْءٌ يُكَفَّنُ فِيهِ إِلا نَمِرَةً ، فَكُنَّا إِذَا وَضَعْنَاهَا عَلَى رَأْسِهِ خَرَجَتْ رِجْلاهُ وَإِذَا وَضَعْنَاهَا عَلَى رِجْلَيْهِ خَرَجَ رَأْسُهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ضَعُوهَا مِمَّا يَلِي رَأْسَهُ وَاجْعَلُوا عَلَى رِجْلَيْهِ مِنَ الإِذْخَرِ " وَمِنَّا مَنْ أَيْنَعَتْ لَهُ ثَمَرَتُهُ فَهُوَ يَهْدِبُهَا .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا خباب بن ارت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اللہ کی راہ میں رضائے الٰہی کے حصول کے لیے ہجرت کی، چنانچہ ہمارا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمے واجب ہو گیا۔ ہم میں سے کچھ تو اس طرح فوت ہو گئے کہ انہوں نے (دنیا میں) اپنے اجر کا کچھ بھی حصہ حاصل نہیں کیا۔ سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ بھی انہی میں شامل ہیں، جو جنگ احد میں شہید ہوئے۔ انہیں کفن دینے کے لیے ایک دھاری دار چادر کے علاوہ کوئی چیز نہ ملی۔ اگر ہم وہ چادر ان کے سر پر ڈالتے تو پاؤں ننگے ہو جاتے اور اگر پاؤں پر ڈالتے تو سر ننگا ہو جاتا۔ (یہ صورت حال دیکھ کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چادر سر کی طرف ڈال دو اور پاؤں پر اذخر گھاس ڈال دو۔“ ہم میں سے کچھ ایسے ہیں جن کا پھل پک چکا ہے اور وہ اسے کاٹ رہے ہیں۔
حدیث نمبر: 523
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ : أَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَلَيْكُمْ بِهَذِهِ الثِّيَابِ الْبِيضِ لِيَلْبَسْهَا أَحْيَاؤُكُمْ وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سفید کپڑوں کو لازم پکڑو، تمہارے زندہ لوگ انہیں پہنا کریں اور اپنے فوت شدگان کو ان میں کفن دیا کرو۔“
حدیث نمبر: 524
حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ، قَالَ : ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، يَقُولُ : " أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْرَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ بَعْدَمَا أُدْخِلَ حُفْرَتُهُ ، فَأَمَرَ بِهِ فَأُخْرِجَ ، فَوَضَعَهُ عَلَى رُكْبَتَيْهِ أَوْ فَخِذَيْهِ فَنَفَثَ عَلَيْهِ مِنْ رِيقِهِ وَأَلْبَسَهُ قَمِيصَهُ ، فَاللَّهُ أَعْلَمُ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن ابی کو قبر کے گڑھے میں ڈال دیا گیا، تو بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ آپ کے حکم سے اسے قبر سے باہر نکالا گیا، تو آپ نے اسے اپنے گھٹنوں یا رانوں پر رکھ کر اس کے منہ میں اپنا لعاب مبارک ڈالا اور اسے اپنا قمیص پہنایا، واللہ اعلم۔
حدیث نمبر: 525
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَمْسٌ يَجِبُ لِلْمُسْلِمِ عَلَى أَخِيهِ : رَدُّ السَّلامِ ، وَتَشْمِيتُ الْعَاطِسِ ، وَعِيَادَةُ الْمَرِيضِ ، وَاتِّبَاعُ الْجَنَازَةِ ، وَإِجَابَةُ الدَّعْوَةِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر مسلمان کے اپنے بھائی پر پانچ حقوق واجب ہیں: سلام کا جواب دینا، چھینک کا جواب دینا، بیمار کی عیادت کرنا، جنازے کے ساتھ جانا، دعوت قبول کرنا۔“
حدیث نمبر: 526
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، وَمَحْمُودُ بْنُ آدَمَ ، قَالا : ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ فَلَهُ قِيرَاطٌ ، وَمَنْ مَشَى مَعَهَا حَتَّى تُدْفَنَ فَلَهُ قِيرَاطَانِ أَحَدُهُمَا أَوْ أَصْغَرُهُمَا مثل أُحُدٍ " ، وَقَالَ ابْنُ الْمُقْرِئِ : " وَمَنْ تَبِعَهَا حَتَّى يُفْرَغَ مِنْهَا .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی میت کا جنازہ پڑھا، اسے ایک قیراط (ثواب) ملے گا اور جو دفن ہونے تک اس کے ساتھ چلتا رہا، اسے دو قیراط (ثواب) ملیں گے، ایک قیراط یا چھوٹا قیراط احد پہاڑ کے برابر ہے۔“ ابن مقری کے الفاظ یہ ہیں: ”جو دفن سے فارغ ہونے تک ساتھ رہا۔“
حدیث نمبر: 527
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ : ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَسْرِعُوا بِالْجَنَازَةِ ، فَإِنْ يَكُ خَيْرًا فَخَيْرًا تُقَدِّمُونَهُ ، وَإِنْ يَكُ شَرًّا فَشَرًّا تُلْقُونَهُ عَنْ رِقَابِكُمْ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنازے کو جلدی لے کر چلو، کیونکہ اگر وہ نیک ہے تو تم اسے بہتر مقام کی طرف پہنچا رہے ہو اور اگر وہ بد ہے تو وہ شر ہے، جسے تم اپنے کندھوں سے اتار رہے ہو۔“
حدیث نمبر: 528
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، وَمَحْمُودُ بْنُ آدَمَ ، قَالا : ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ مَحْمُودٌ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا رَأَيْتُمُ الْجَنَازَةَ فَقُومُوا لَهَا حَتَّى تُخَلِّفَكُمْ أَوْ تُوضَعَ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب جنازہ دیکھیں تو (موت کے خوف کی وجہ سے) اس کے لیے کھڑے ہو جائیں حتیٰ کہ وہ آپ سے آگے گزر جائے یا نیچے رکھ دیا جائے۔“
حدیث نمبر: 529
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ ، قَالَ : ثَنَا غُنْدَرٌ ، قَالَ : ثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ مَسْعُودَ بْنَ الْحَكَمِ ، يَقُولُ : حَدَّثَنَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَامَ فِي جَنَازَةٍ فَقُمْنَا ، وَرَأَيْتُهُ قَعَدَ فَقَعَدْنَا " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ جنازے کے لیے کھڑے ہوئے، تو ہم بھی کھڑے ہو گئے اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ (جنازہ دیکھ کر) بیٹھے رہے، تو ہم بھی بیٹھے رہے۔“
حدیث نمبر: 530
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ : أَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ ابْنِ رَبِيعَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا رَأَيْتَ جَنَازَةً فَإِنْ لَمْ تَكُنْ مَعَهَا مَاشِيًا فَقُمْ لَهَا حَتَّى تُخَلِّفَكَ أَوْ تُوضَعَ " ، قَالَ : فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا رُبَّمَا تَقَدَّمَ الْجَنَازَةَ فَقَعَدَ ، فَإِذَا رَآهَا قَدْ أَشْرَفَتْ قَامَ حَتَّى تُوضَعَ ، قَالَ : وَرُبَّمَا سَتَرَ بِهِ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آپ جنازہ دیکھیں اور اس کے ساتھ نہ جا سکیں، تو اس کے لیے کھڑے ہو جائیں، حتیٰ کہ وہ آپ سے آگے گزر جائے یا (نیچے) رکھ دیا جائے۔“ راوی کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بعض اوقات جنازے سے آگے نکل جاتے، تو بیٹھ جاتے، پھر جب سامنے دیکھتے، تو کھڑے ہو جاتے حتیٰ کہ اسے نیچے رکھ دیا جاتا اور بعض اوقات اوٹ میں چلے جاتے۔“
حدیث نمبر: 531
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، قَالَ : ثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، وَهِشَامٍ ، عَنْ حَفْصَةَ ، وَمُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " نُهِينَا عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ وَلَمْ يُعْزَمْ عَلَيْنَا .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہمیں جنازوں کے ساتھ جانے سے روکا جاتا تھا لیکن سختی نہیں کی جاتی تھی۔“
حدیث نمبر: 532
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ : ثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ : ثَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " كُلٌّ قَدْ كَانَ خَمْسًا وَأَرْبَعًا ، فَأُمِرَ بِأَرْبَعٍ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ چار تکبیرات بھی ثابت ہیں اور پانچ بھی ثابت ہیں، پھر آپ نے (چار تکبیرات) کا حکم دیا۔“
حدیث نمبر: 533
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ : ثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ : ثَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ " كَانَ يُكَبِّرُ عَلَى جَنَائِزِنَا أَرْبَعًا ، وَأَنَّهُ كَبَّرَ عَلَى جَنَازَةٍ خَمْسًا ، فَسَأَلُوهُ فَقَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَبِّرُهَا أَوْ كَبَّرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ ہمارے جنازوں پر چار تکبیرات کہا کرتے تھے، ایک جنازے پر انہوں نے پانچ تکبیرات کہیں، لوگوں نے پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی پانچ تکبیرات کہا کرتے تھے، یا یوں کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی پانچ تکبیرات کہی ہیں۔“
حدیث نمبر: 534
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، قَالَ : ثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ ، قَالَ : ثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : سَمِعْتُ طَلْحَةَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " صَلَّيْتُ خَلْفَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَلَى جَنَازَةٍ ، فَقَرَأَ فِيهَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ، فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ ، فَقُلْتُ : تَقْرَأُ بِهَا ؟ قَالَ : إِنَّهَا سُنَّةٌ وَحَقٌّ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
طلحہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پیچھے نماز جنازہ پڑھی، انہوں نے اس میں سورۃ فاتحہ کی قرأت کی، فارغ ہونے پر میں نے ان کا ہاتھ پکڑ کر کہا: ”آپ سورۃ فاتحہ (کیوں) پڑھ رہے ہیں؟“ فرمایا: ”یہ سنت اور حق ہے۔“
حدیث نمبر: 535
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ ، قَالَ : صَلَّيْتُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا بِهَذَا .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
یہ روایت ایک اور سند سے بھی مذکور ہے۔
حدیث نمبر: 536
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ طَلْحَةَ التَّيْمِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَرَأَ عَلَى جَنَازَةٍ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ ، وَجَهَرَ بِالْقِرَاءَةِ ، وَقَالَ : إِنَّمَا جَهَرْتُ لأُعْلِمَكُمْ أَنَّهَا سُنَّةٌ والإِمَامُ كفها " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
زید بن طلحہ تیمی کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے جنازے میں سورۃ فاتحہ اور ایک اور سورۃ پڑھی اور جہری قرأت کی، پھر فرمایا: ”میں نے تمہیں یہ بتانے کے لیے جہری قرأت کی ہے کہ یہ بھی سنت ہے اور امام سری بھی پڑھ سکتا ہے۔“
حدیث نمبر: 537
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، قَالَ : ثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، قَالَ : ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ : ثَنِي أَبِي ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ أَخِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، قَالَ : " صَلَّيْتُ خَلْفَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَلَى جَنَازَةٍ ، فَقَرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ ، فَجَهَرَ حَتَّى سَمِعْنَا ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَخَذْتُ بِيَدِهِ فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : سُنَّةٌ وَحَقٌّ " ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ : ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ ، وَقَالَ : وَسُورَةٍ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے بھتیجے طلحہ بن عبداللہ بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پیچھے نماز جنازہ پڑھی، انہوں نے اس میں سورۃ فاتحہ کے ساتھ ایک اور سورۃ پڑھی، نیز جہری قرأت کی۔ جب انہوں نے سلام پھیرا، تو میں نے ان کا ہاتھ پکڑ کر اس کی وجہ پوچھی تو فرمایا: ”یہ سنت اور حق ہے۔“ محمد بن یحیٰ کی سند سے بھی یہ روایت مذکور ہے۔
حدیث نمبر: 538
حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ ، قَالَ : ثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : ثَنِي مُعَاوِيَةُ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ ، سَمِعَ جُبَيْرَ بْنَ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عَوْفَ بْنَ مَالِكٍ الأَشْجَعِيَّ ، يَقُولُ : " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى جَنَازَةٍ فَحَفِظْتُ مِنْ دُعَائِهِ وَهُوَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ ، وَعَافِهِ وَاعْفُ عَنْهُ ، وَأَكْرِمْ نُزُلَهُ وَوَسِّعْ مُدْخَلَهُ ، وَاغْسِلْهُ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ ، وَنَقِّهِ مِنَ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ ، وَأَبْدِلْهُ دَارًا خَيْرًا مِنْ دَارِهِ ، وَأَهْلا خَيْرًا مِنْ أَهْلِهِ ، وَزَوْجًا خَيْرًا مِنْ زَوْجِهِ ، وَأَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ وَأَعِذْهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ " ، حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنْ لَوْ كُنْتُ أَنَا ذَلِكُ الْمَيِّتُ.
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عوف بن مالک الاشجعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک میت کی نماز جنازہ پڑھائی، تو میں نے آپ کی دعاؤں میں سے ایک دعا یاد کر لی، آپ دعا کر رہے تھے: ”اے اللہ! اسے بخش دے، اس پر رحم فرما، اسے عذاب سے بچا، اس سے درگزر فرما، اس کی مہمانی اچھی طرح کر اور اس کی قبر فراخ کر دے، اسے پانی، برف اور اولوں سے دھو دے، اسے گناہوں سے ایسے پاک صاف کر دے، جیسے تو نے سفید کپڑے کو میل کچیل سے صاف کر دیا ہے، اسے اس کے گھر سے بہتر گھر عطا فرما، اس کے اہل سے بہتر اہل عطا فرما، اس کے ساتھی سے بہتر ساتھی عطا فرما، اسے جنت میں داخل کر دے اور عذاب قبر سے بچا لے۔“ سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”مجھے خواہش ہوئی کاش کہ یہ میت میں ہوتا!“
حدیث نمبر: 539
حَدَّثَنَا بَحْرٌ ، قَالَ : ثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : ثَنِي مُعَاوِيَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ هَذَا الْحَدِيثِ أَيْضًا .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
یہ روایت ایک اور سند سے بھی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 540
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، يُحَدِّثُ ابْنَ الْمُسَيَّبِ ، قَالَ : " السُّنَّةُ فِي الصَّلاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ أَنْ تُكَبِّرَ ، ثُمَّ تَقْرَأَ بِأُمِّ الْقُرْآنِ ، ثُمَّ تُصَلِّي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ تُخْلِصَ الدُّعَاءَ لِلْمَيِّتِ ، وَلا تَقْرَأْ إِلا فِي التَّكْبِيرَةِ الأُولَى ، ثُمَّ تُسَلَّمَ فِي نَفْسِهِ عَنْ يَمِينِهِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نماز جنازہ میں سنت یہ ہے کہ آدمی تکبیر کہے، پھر سورۃ فاتحہ پڑھے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھے، پھر میت کے لیے اخلاص کے ساتھ دعا کرے، پہلی تکبیر کے علاوہ قرأت نہ کرے، پھر اپنے دل میں اپنی دائیں طرف سلام پھیر دے۔“
حدیث نمبر: 541
حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الدَّارِمِيُّ ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ : ثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ شَهِدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى عَلَى مَيِّتٍ ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا ، وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا ، وَصَغِيرِنَا وَكَبِيرِنَا ، وَذَكَرِنَا وَأُنْثَانَا " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
ابو ابراہیم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک میت کی نماز جنازہ میں شریک ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا پڑھی: ”اے اللہ! ہمارے زندوں اور فوت شدگان کو بخش دے، حاضرین اور غائبین، چھوٹوں اور بڑوں، مردوں اور عورتوں کو بخش دے۔“
حدیث نمبر: 542
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، قَالَ : ثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : ثَنَا الشَّيْبَانِيُّ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : ثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، وَزَعَمَ أَنَّهُ شَهِدَ ذَلِكَ ، قَالَ : " مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَبْرٍ قَدْ دُفِنَ مِنَ اللَّيْلِ ، فَقَالَ : مَنْ هَذَا ؟ فَقَالُوا : هَذَا قَبْرُ فُلانٍ تُوُفِّيَ الْبَارِحَةَ فَكَرِهْنَا أَنْ نُؤْذِيَكَ لَيْلا فَيُصِيبَكَ بِشَيْءٍ أَوْ يَشُقَّ عَلَيْكَ فَدَفَنَّاهُ ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَفَفْنَا خَلْفَهُ فَصَلَّى عَلَيْهِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں موقع پر موجود تھا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک قبر کے پاس سے گزرے، جس میں اسی رات میت دفن کی گئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”یہ کس کی قبر ہے؟“ صحابہ نے کہا: ”یہ فلاں آدمی کی قبر ہے، جو گذشتہ رات فوت ہو گیا تھا، ہم نے رات کے وقت آپ کو تکلیف دینا پسند نہ کیا کہ کہیں آپ پر گراں نہ گزرے، یا آپ تنگ نہ ہوں، چنانچہ ہم نے اسے دفن کر دیا۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، ہم نے آپ کے پیچھے صفیں بنائیں اور اس کی نماز جنازہ ادا کی۔“
حدیث نمبر: 543
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ ، يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَعَى لِلنَّاسِ النَّجَاشِيَّ فِي الْيَوْمِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ ، وَخَرَجَ بِهِمْ إِلَى الْمُصَلَّى ، فَصَفَّ بِهِمْ وَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی کی وفات کے دن لوگوں کو اس کی وفات کی خبر دی، پھر انہیں لے کر جنازہ گاہ کی طرف گئے، ان کی صفیں بنوائیں اور اس پر چار تکبیرات کہیں۔“
حدیث نمبر: 544
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حُسَيْنٌ يَعْنِي الْمُعَلِّمَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى عَلَى أُمِّ فُلانٍ مَاتَتْ فِي نِفَاسِهَا فَقَامَ وَسَطَهَا " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام فلاں کی نماز جنازہ پڑھی، جو زچگی کے وقت فوت ہو گئی تھیں، آپ اس کے درمیان میں کھڑے ہوئے۔“
حدیث نمبر: 545
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ " سَمِعْتُ نَافِعًا يَزْعُمُ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا صَلَّى عَلَى تِسْعِ جَنَائِزَ جَمِيعًا ، جَعَلَ الرِّجَالَ يَلُونَ الإِمَامَ ، وَالنِّسَاءَ يَلُونَ الْقِبْلَةَ ، فَصَفَّهُمْ صَفًّا ، وَوُضِعَتْ جَنَازَةُ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ امْرَأَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَابْنٍ لَهَا يُقَالُ لَهُ زَيْدٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَصَفَّا جَمِيعًا ، وَالإِمَامُ يَوْمَئِذٍ سَعِيدُ بْنُ الْعَاصِ ، وَفِي النَّاسِ ابْنُ عَبَّاسٍ ، وَأَبُو هُرَيْرَةَ ، وَأَبُو سَعِيدٍ ، وَأَبُو قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ، فَوُضِعَ الْغُلامُ مِمَّا يَلِي الإِمَامَ ، فَقَالَ رَجُلٌ : فَأَنْكَرْتُ ذَلِكَ ، فَنَظَرْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ وَأَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ، فَقُلْتُ : مَا هَذَا ؟ فَقَالُوا : هِيَ السُّنَّةُ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
نافع کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے نو (9) جنازوں کی نماز جنازہ اکٹھی ادا کی، مردوں کو امام کی طرف اور عورتوں کو قبلہ کی طرف رکھا، لوگوں کی صفیں بنوائیں۔ (اسی طرح) سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی بیوی اور سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی بیٹی، سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا اور ان کے بیٹے زید رضی اللہ عنہ کا جنازہ رکھا گیا اور دونوں پر اکٹھی صفیں بنائی گئیں، اس دن امامت کے فرائض سیدنا سعید بن عاص رضی اللہ عنہ نے سرانجام دیے، (جنازہ پڑھنے والے) لوگوں میں سیدنا عبداللہ بن عباس، سیدنا ابو ہریرہ، سیدنا ابو سعید، اور سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہم بھی شامل تھے۔ بچے کو امام کی جانب رکھا گیا۔ ایک آدمی (عمار مولی حارث) کہتا ہے: میں نے اسے غلط قرار دیتے ہوئے عبداللہ بن عباس، ابو ہریرہ، ابو سعید اور ابو قتادہ رضی اللہ عنہم کی طرف دیکھ کر کہا: ”یہ کیا ہے؟“ تو انہوں نے فرمایا: ”یہ سنت ہے۔“
حدیث نمبر: 546
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ ، قَالَ : ثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : ابْنُ جُرَيْجٍ ، وَأَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، يُحَدِّثُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ يَوْمًا فَذَكَرَ رَجُلا مِنْ أَصْحَابِهِ قُبِضَ فَكُفِّنَ فِي غَيْرِ طَائِلٍ وَقُبِرَ لَيْلا ، فَزَجَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْبَرَ الرَّجُلُ بِاللَّيْلِ حَتَّى يُصَلَّى عَلَيْهِ ، إِلا أَنْ يُضْطَرَّ إِنْسَانٌ إِلَى ذَلِكَ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا كَفَّنَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيُحْسِنْ كَفَنَهُ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن خطبہ میں اپنے ایک صحابی کا تذکرہ کیا، جو فوت ہو گیا، تو اسے چھوٹے سے کفن میں رات کو ہی دفن کر دیا گیا، چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کو دفنانے پر زجر و توبیخ فرمائی حتیٰ کہ اس پر نماز جنازہ پڑھ لی گئی ہو، (یعنی دن کے وقت جنازہ میں زیادہ لوگ شامل ہو سکتے ہیں) بجز اس کے کہ انسان ایسا کرنے پر مجبور ہو جائے، نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی اپنے بھائی کو کفن دے تو بہترین کفن دے۔“
حدیث نمبر: 547
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَنْجُوَيْهِ ، قَالَ : ثَنَا أَبُو بَدْرٍ شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَ : ثَنِي زِيَادُ بْنُ خَيْثَمَةَ ، قَالَ : أَنِي إِسْمَاعِيلُ السُّدِّيُّ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " دَخَلَ قَبْرَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَبَّاسُ ، وَعَلِيٌّ ، وَالْفَضْلُ ، وَشَقَّ لَحْدَهُ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ وَهُوَ الَّذِي يَشُقُّ لُحُودَ قُبُورِ الشُّهَدَاءِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قبر میں اتارنے کے لیے آپ کی قبر مبارک میں سیدنا عباس، سیدنا علی اور سیدنا فضل رضی اللہ عنہم داخل ہوئے تھے، جو انصاری آدمی شہدا کی بغلی قبریں (لحد) کھودا کرتا تھا، اسی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بغلی قبر (لحد) کھودی تھی۔“
حدیث نمبر: 548
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَوْدِيُّ ، قَالَ : ثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِي ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا وَضَعْتُمْ مَوْتَاكُمْ فِي قُبُورِهِمْ ، فَقُولُوا : بِسْمِ اللَّهِ وَعَلَى سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آپ اپنے فوت شدگان کو ان کی قبروں میں رکھیں، تو یہ دعا پڑھیں: بِسْمِ اللَّهِ وَعَلَى سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ (اللہ کے نام پر اور اللہ کے رسول کی شریعت پر اسے قبر میں رکھ رہے ہیں)۔“
حدیث نمبر: 549
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، قَالَ : ثَنِي عُقْبَةُ ، قَالَ : ثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، يَقُولُ : " وُضِعَتْ فِي قَبْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطِيفَةٌ حَمْرَاءُ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک میں ایک سرخ چادر رکھی گئی تھی۔“
حدیث نمبر: 550
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالَ : ثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ نَاجِيَةَ بْنِ كَعْبٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ عَمَّكَ قَدْ مَاتَ أَوْ أَبِي قَدْ مَاتَ ، قَالَ : " اذْهِبْ فَوَارِهِ ، قُلْتُ : إِنَّهُ مَاتَ مُشْرِكًا ، قَالَ : اذْهَبْ فَوَارِهِ ، فَوَارَيْتُهُ ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ ، قَالَ : اذْهَبْ فَاغْتَسِلْ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! آپ کے چچا فوت ہو گئے ہیں یا یوں کہا کہ میرے والد فوت ہو گئے ہیں۔“ فرمایا: ”جائیں اور انہیں دفن کر دیں۔“ میں نے کہا: ”وہ شرک کی حالت میں فوت ہوا ہے۔“ فرمایا: ”جائیں اور انہیں دفن کر دیں۔“ چنانچہ میں نے انہیں دفن کر کے آپ کے پاس آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جائیں اور غسل کریں۔“
حدیث نمبر: 551
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثَنَا مُحَاضِرُ بْنُ الْمُوَرِّعِ ، قَالَ : ثَنَا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَتْنِي عَمْرَةُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، إِنَّهَا سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، تَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَسْرُ عَظْمِ الْمُؤْمِنِ مَيِّتًا مثل كَسْرِهِ حَيًّا " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فوت شدہ مؤمن کی ہڈی توڑنا ایسے ہی (گناہ) ہے، جیسے زندہ آدمی کی ہڈی توڑنا (گناہ ہے)۔“
حدیث نمبر: 552
حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَجْمَعُ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ مِنْ قَتْلَى أُحُدٍ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ ، ثُمَّ يَقُولُ : أَيُّهُمْ أَكْثَرُ أَخْذًا لِلْقُرْآنِ ؟ فَإِذَا أُشِيرَ لَهُ إِلَى أَحَدِهِمَا قَدَّمَهُ فِي اللَّحْدِ ، وَقَالَ : أَنَا شَهِيدٌ عَلَى هَؤُلاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " وَأَمَرَ بِدَفْنِهِمْ بِدِمَائِهِمْ ، وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِمْ وَلَمْ يُغَسَّلُوا .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا جابر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احد کے شہیدوں میں سے دو دو آدمیوں کو ایک ہی کفن میں اکٹھا کرتے تھے، پھر پوچھتے: ”ان میں سے زیادہ قرآن کس کو یاد تھا؟“ جب کسی ایک کی طرف اشارہ کیا جاتا، تو آپ اسے لحد میں پہلے اتارتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے روز میں ان لوگوں پر گواہ بنوں گا۔“ آپ نے انہیں خون سمیت دفن کرنے کا حکم دیا، نہ ان کا جنازہ پڑھایا اور نہ ہی انہیں غسل دیا۔“
…