حدیث نمبر: 326
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ : ثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : ثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : ثَنِي قَيْسُ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنِّي أَتَأَخَّرُ عَنْ صَلاةِ الْغَدَاةِ مِنْ أَجْلِ فُلانٍ مِمَّا يُطِيلُ بِنَا ، فَمَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشَدَّ غَضَبًا فِي مَوْعِظَةٍ مِنْهُ يَوْمَئِذٍ ، فَقَالَ : " يَأَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّ مِنْكُمْ لَمُنَفِّرِينَ فَأَيُّكُمْ مَا صَلَّى بِالنَّاسِ فَلْيُجَوِّزْ ، فَإِنَّ فِيهِمُ الضَّعِيفُ وَالْكَبِيرُ وَذَا الْحَاجَةِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عقبہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر کہنے لگا: فلاں شخص کی وجہ سے میں فجر کی جماعت میں نہیں آتا، کیونکہ وہ لمبی قرأت کرتا ہے۔ میں نے آپ کو دوران وعظ کبھی اتنے غصے میں نہیں دیکھا جتنا کہ اس دن دیکھا، فرمایا: ”لوگو! تم میں سے کچھ لوگ نفرتیں پھیلاتے ہیں، جو امامت کرائے تو مختصر نماز پڑھائے، کیونکہ اس کے پیچھے ناتواں، بوڑھے اور حاجت مند لوگ بھی ہوتے ہیں۔“
حدیث نمبر: 327
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ : ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " كَانَ مُعَاذٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ ثُمَّ يَرْجِعُ فَيَؤُمُّنَا ، فَأَخَّرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلاةَ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، فَجَاءَ مُعَاذٌ فَقَرَأَ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ رَجُلٌ تَأَخَّرَ فَصَلَّى ثُمَّ خَرَجَ ، فَلَمَّا فَرَغُوا ، قَالُوا : يَا فُلانُ نَافَقْتَ ؟ قَالَ : لا ، وَلَكِنِّي سَآتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُخْبِرُهُ ، قَالَ : فَجَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّ مُعَاذًا كَانَ يُصَلِّي مَعَكَ ثُمَّ يَرْجِعُ فَيَؤُمُّنَا ، وَإِنَّكَ أَخَّرْتَ الصَّلاةَ الْبَارِحَةَ ، فَجَاءَ فَقَرَأَ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ ، فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ تَنَحَّيْتُ فَصَلَّيْتُ ، وَإِنَّمَا نَحْنُ أَصْحَابُ نَوَاضِحَ وَعُمَّالُ أَيْدِينَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَفَتَّانٌ أَنْتَ ، اقْرَأْ بِسُورَةِ كَذَا وَسُورَةِ كَذَا " ، قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ : عَنْ جَابِرٍ ، " اقْرَأْ بِسُورَةِ سَبَّحَ وَ هَلْ أَتَاكَ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى ، وَنَحْوِهَا " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا جابر بیان کرتے ہیں کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عشا کی نماز پڑھتے، پھر واپس آکر ہمیں امامت کراتے تھے۔ ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں تاخیر کر دی، چنانچہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے آکر سورة البقرہ شروع کر دی۔ یہ دیکھ کر ایک آدمی جماعت سے ہٹ گیا اور اپنی نماز پڑھ کر چلا گیا۔ جب لوگ نماز سے فارغ ہوئے، تو اسے کہنے لگے: اے فلاں! تو منافق ہو گیا ہے۔ اس نے کہا: میں منافق تو نہیں ہوا، البتہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر بتاؤں گا۔ چنانچہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: معاذ رضی اللہ عنہ آپ کے ساتھ نماز پڑھ کر واپس آکر ہمیں امامت کرواتے ہیں۔ گزشتہ رات آپ نے نماز میں تاخیر کردی، تو انہوں نے آکر سورة البقرہ کی تلاوت شروع کر دی۔ میں نے جب یہ دیکھا، تو الگ نماز پڑھ لی، کیونکہ ہم اونٹوں کے ذریعے آبیاری کرتے ہیں اور ہاتھوں سے محنت مزدوری کرتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (معاذ سے) فرمایا: کیا تم لوگوں کو فتنہ میں ڈالو گے؟ فلاں فلاں سورت پڑھا لیا کریں۔ ابو الزبیر کی روایت میں ہے: سورة الاعلیٰ، سورة الغاشیہ اور سورة اللیل وغیرہ پڑھ لیا کریں۔
حدیث نمبر: 328
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ : أَنَا أَبُو دَاوُدَ ، قَالَ : ثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ ، قَالَتْ : فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ يَدَيِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَاعِدًا وَأَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي خَلْفَهُ " ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْها ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ كَانَ الْمُقَدَّمَ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو نماز کی امامت کا حکم دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے آگے بیٹھے ہوئے تھے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے۔ ابوداؤد میں الفاظ یوں ہیں: ابوبکر رضی اللہ عنہ آگے تھے۔
حدیث نمبر: 329
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ : ثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، قَالَ : ثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، قَالَ : " ذَكَرَ عِنْدَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْها الْمُحَافَظَةَ عَلَى الصَّلاةَ ، قَالَتْ : لَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخْرَجُ بِهِ يُهَادَى بَيْنَ اثْنَيْنِ تَخُطُّ قَدَمَاهُ الأَرْضَ ، فَانْتُهِيَ بِهِ إِلَى أَبِي بَكْرٍ وَهُوَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ ، فَأُجْلِسَ عَنْ يَسَارِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِصَلاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلاةِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ " ، قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ : وَهَكَذَا رَوَاهُ أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ فَجَلَسَ عَنْ يَسَارِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، وَفِي حَدِيثِ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَرْقَمَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، فَأْتَمَّ أَبُو بَكْرٍ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأْتَمَّ النَّاسُ بِأَبِي بَكْرٍ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس نمازوں کی حفاظت کا تذکرہ کیا گیا، تو انہوں نے فرمایا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو آدمیوں کے سہارے اس طرح مسجد میں لایا جا رہا تھا کہ آپ کے پاؤں مبارک زمین پر گھسٹ رہے تھے، چنانچہ آپ کو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچایا گیا جو لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بائیں جانب بٹھا دیا گیا، ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں نماز پڑھ رہے تھے اور لوگ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اقتدا میں نماز پڑھ رہے تھے۔ ابومحمد کہتے ہیں: ابومعاویہ نے بھی اسی طرح بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آکر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بائیں جانب بیٹھ گئے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت میں ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا کر رہے تھے اور لوگ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اقتدا کر رہے تھے۔
حدیث نمبر: 330
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ : ثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : ثَنَا سُلَيْمَانُ الأَسْوَدُ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَأَى رَجُلا يُصَلِّي فِي الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ : " أَلا رَجُلٌ يَتَّجِرُ عَلَى هَذَا فَيُصَلِّي مَعَهُ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو مسجد میں تنہا نماز پڑھتے دیکھا، تو فرمایا: کوئی ہے جو اس کے ساتھ تجارت کرے اور اس کے ساتھ مل کر نماز پڑھے۔
حدیث نمبر: 331
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ : أَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَعَلَّكُمْ سَتُدْرِكُونَ أَقْوَامًا يُصَلُّونَ الصَّلاةَ لِغَيْرِ وَقْتِهَا ، فَإِنْ أَدْرَكْتُمُوهُمْ فَصَلُّوا فِي بُيُوتِكُمْ لِلْوَقْتِ الَّذِي تَعْرِفُونَ ، ثُمَّ صَلُّوا مَعَهُمْ وَاجْعَلُوهَا سُبْحَةً " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: ممکن ہے تمہاری ملاقات ایسی اقوام سے ہو جو بے وقت نماز ادا کرتے ہوں، اگر ان سے ملاقات ہو تو گھر میں بروقت نماز پڑھ لینا جو تم جانتے ہو، پھر ان کے ساتھ بھی نماز پڑھ لینا اور اسے نفل بنا لینا۔
حدیث نمبر: 332
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ : أَنَا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا تَمْنَعُوا إِمَاءَ اللَّهِ مَسَاجِدَ اللَّهِ ، وَإِذَا خَرَجْنَ فَلْيَخْرُجْنَ تَفِلاتٍ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی بندیوں کو اللہ کی مساجد میں جانے سے منع نہ کریں، وہ جب نکلیں تو سادگی سے آئیں۔
حدیث نمبر: 333
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الأَحْمَسِيُّ ، قَالَ : ثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَمِيعٍ ، عَنْ جَدَّتِهِ ، وَعَنِ ابْنِ خَلادٍ ، عَنْ أُمِّ وَرَقَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا غَزَا بَدْرًا ، قَالَتْ لَهُ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَغْزُو مَعَكَ فَأُمَرِّضُ مَرْضَاكُمْ ، وَأُدَاوِي جَرْحَاكُمْ ، لَعَلَّ اللَّهَ يَرْزُقَنِي شَهَادَةً ، قَالَ : " قَرِّي فِي بَيْتِكِ ، فَإِنَّ اللَّهَ سَيَرْزُقُكِ شَهَادَةً " ، قَالَ : وَكَانَتْ تُسَمَّى الشَّهِيدَةُ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزُورُهَا فِي الْجُمَعِ ، فَكَانَ يَقُولُ : اذْهَبُوا بِنَا إِلَى الشَّهِيدَةِ ، وَكَانَتْ قَدْ قَرَأْتِ الْقُرْآنَ وَاسْتَأْذَنَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَنْ يَجْعَلَ فِي دَارِهَا مُؤَذِّنًا فَتُصَلِّي ، فَأَذِنَ لَهَا " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدہ ام ورقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب غزوہ بدر کے لیے جانے لگے، تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے گزارش کی: اللہ کے رسول! میں بھی آپ کے ساتھ جنگ میں جاؤں گی، مریضوں کا علاج و معالجہ اور زخمیوں کی مرہم پٹی کروں گی، ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی شہادت نصیب فرما دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپ اپنے گھر میں ہی رہیں، اللہ تعالیٰ آپ کو شہادت کا اجر عطا فرما دے گا۔ راوی کا بیان ہے کہ ان کا نام ہی شہیدہ پڑ گیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن ان سے ملنے جایا کرتے تھے، فرماتے: چلو شہیدہ کے پاس چلیں۔ وہ قرآن جانتی تھیں، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے گھر میں مؤذن مقرر کرنے کی اجازت مانگی تاکہ نماز پڑھیں، آپ نے انہیں اجازت دے دی۔